ہرانسان اپنی سرشت کے ہاتھوں مجبورہے۔ اور بلاتفریق مذہب و مسلک اورعمر، طبیعت کی بے چینی اور مسلسل تلاش اس کا نصیب ہے۔ اگرمسئلہ صرف زن، زراورزمین تک کا تھا، تو جنت میں حضرت ِآدمؑ کے لیے یہ تمام چیزیں بہترین صورت میں موجود تھیں۔ اور ہر نعمت اپنی خوبصورت ترین صورت میں وافر اور دسترس میں تھی۔ مگر پھر بھی حضرتِ انسان سب کچھ ہونے کے باوجود صبر نہ کرسکا اور بے صبر نکلا۔ ”امر بالمعروف“ تو کیا مگر ”نہی عن المنکر“ پر کاربند نہ رہا۔ اور اپنے ساتھ ساتھ، پوری انسانیت کو بھی ایک نہ ختم ہونے والی آزمائش اوردکھ میں ڈال دیا۔ خود بھی جنگلوں، بیابانوں میں سالہا سال تک بنا خوراک پوشاک ننگے پاؤں ”مکتی“ تلاش کرتارہا۔ اور اپنی پوری نسل کو بھی اسی راستے پر لگادیا!
اب یہ میرے خمیرکی بات ہے۔ میں نے ایک در کو چھوڑا تھا۔ اب دربدر ”کھجل“ ہونا اور ”لُورلُور“ پھرنامیرامقدر ٹھہرا۔ ایک سُکھ کے لیے، سالہا سال کے دُکھ جھیلتاہوں۔ جس دربار، قبر، سیڑھی، قبا، ردا، آستین، ہاتھ، پاؤں، سینہ، اور مدینہ کو سکھ کا باعث جانتے ہوئے، روتا پیٹتا، لہراتا، ہوش بے ہوش، وضوبے وضو، پاک ناپاک، ننگا یا اعلیٰ پوشاک، زخمی اور آبلہ پا یا غیرملکی جوتوں کے ساتھ، تنہایا مصاحبین، اور خوشامدیوں کی فوج کے ہمراہ پہنچتاہوں، توصرف لمحہ بھر یا چندساعت ہی ٹک پاتا ہوں۔
Read more