علی فرزان کی ماں مسکراتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(یہ تحریر حقیقی زندگی کے واقعات سے اخذ کی گئی ہے اور اس کے کرداروں کے بھی حقیقی نام استعمال کیے گئے ہیں۔ )

اصباح سے میری ملاقات پاکستان میں ایک دعوت میں ہوئی تھی۔ خوش مزاج، جاذبِ نظر اور چمکتی ہوئی ذہین آنکھوں والی اصباح نے مجھے بھی بتایا کہ وہ جلد ہی امریکہ میں پی ایچ ڈی کی غرض سے آنے والی ہے۔ اس کا موضوع تعلیمی نفسیات ہو گا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کے ساتھ اس کا نو سالہ بچہ علی فرزان اور شوہر بھی ہوں گے۔ مجھے اصباح کے تحقیقی تجسس سے بہت خوشی ہوئی کہ علم سے عنقا ہوتے معاشرہ میں جستجو کی تڑپ رکھنے والے لوگ نادر تحفہ ہی تو ہیں۔

پاکستان سے امریکہ واپسی کے بعد زندگی کی ہنگامہ خیزی میں اصباح کا خیال ذہن سے یکسر محو ہو گیا۔ لیکن پھر ایک سہ پہر ٹیلی فون کی گھنٹی نے ہم دونوں کو اچانک ہی جوڑ دیا۔ تقریبا ڈیڑھ سال بعد۔ میں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے خیریت پوچھی تو اس نے بجھی ہوئی آواز میں بتایا کہ پی ایچ ڈی تو وہ کر رہی ہے۔ مگر سال بھر قبل وہ اپنی زندگی کے سب سے المناک حادثے سے گزری ہے اور اب بھی گزر رہی ہے۔ اور وہ ہے اولاد علی فرزان سے جدائی کا صدمہ۔ ۔

پھر اس نے ٹھہرے ہوئے افسردہ لہجہ میں حادثے کی تفصیل بتانے شروع کی کہ کس طرح وہ ہائی وے پر گاڑی چلا رہی تھی تو ایک تیز رفتار، بے قابو ٹرک نے ٹکر ماری جس کے نتیجہ میں علی فرزان جو گاڑی کے پچھلے حصہ میں بیٹھا تھا سخت قسم کی اندرونی چوٹ کا شکار ہوا اور تین دن کوما میں رہ کر اپنی ماں اور باپ کو تڑپتا چھوڑ گیا۔ یہ سب بتاتے ہوئے وہ رو نہیں رہی تھی لیکن اس کی آواز کے سونے پن اور لہجہ کے خالی پن سے اس کے دل کی اجڑی دنیا کے مہیب سناٹے کا اندازہ ہو رہا تھا۔

اس نے بتایا کہ اس کا پی ایچ ڈی کا کام سست رفتاری سے چل رہا ہے۔ دل ہی نہیں چاہتا۔ میں بظاہر نارمل رہنے کی کوشش کرتی ہوں مگر دماغ کام نہیں کرتا۔ پھر حادثہ کی تفصیل بتاتے ہوئے اس نے کہا اسے کچھ یاد نہیں کیا ہوا۔ سوائے اس کے کہ کوئی مجھ سے کہہ رہا تھا کہ ہم آپ کو ہسپتال لے جا رہے ہیں۔ میں نے نیم بے ہوشی میں علی فرزان کا پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ بھی اسی ہسپتال میں ہے۔ جب میری طبیعت بہتر ہونے لگی تو مجھے بتایا گیا کہ ہم شام کو آپ کو ڈس چارج کر رہے ہیں۔ پھر وہ مجھے اس کمرے میں لے گئے جہاں میرے بیٹے کا جسم مشینوں اور نلکیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ وہ کوما میں تھا۔

اس وقت میرے ساتھ ایک پاکستانی ڈاکٹر تھا۔ جس نے آہستگی سے کہا۔ ایسی دعا نہ کیجیے گا جو اسے مشکل میں ڈال دے۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی جیسے سب کچھ سمجھ گئی۔ میں نے اس کے لئے کوئی دعا نہیں مانگی۔ بس سن سی ہو گئی۔ مجھے ایسے لگا جیسے میری سانس رک جائے گی۔ پھر وہ کوما کی حالت ہی میں رخصت ہو گیا۔ میں یہ سوچتی ہی رہی کہ یہ خدا کا فیصلہ تھا یا یہ کام میرے ہاتھوں سے ہوا۔ کیونکہ گاڑی تو میں چلا رہی تھی۔ تو مارا بھی میں نے ہی ہے اس کو۔

میں اپنی موت کی دعا مانگتی مگر مجھے موت نہیں آئی۔ جب اس کی میت گھر آئی تو میں اس کو دیکھتی ہی رہی۔ پیار بھی نہیں کیا۔ نزدیک بھی نہیں گئی۔ یوں سمجھیے میں نے اسے اپنے آپ سے الگ کر لیا تھا۔ سب رو رہے تھے مگر میں تو کھل کے روئی بھی نہیں۔ میرے اندر ایک خالی پن تھا۔ جیسے میرا گریہ، میری آواز مجھ سے جدا ہو گئی ہے۔ ہاں البتہ اس دوران مذہبی رسومات کی ادائیگی کے دوران مجھے مذہب اور خدا سے انسیت اور لگاؤ پیدا ہو گیا۔ سوچتی علی فرزان کے پاس اپنی ماں کا قرآن اور نمازوں کا تحفہ پہنچ رہا ہو گا۔ گو نماز کے لئے سیدھا کھڑا نہیں ہوا جاتا مگر پھر بھی پڑھتی تھی کہ اللہ علی فرزان کو بتا دیں کہ اس کی ماں کی طرف سے تحفہ آیا ہے۔

یہ سب کچھ کہنے کے بعد وہ کچھ دیر کو رکی۔ میں دم سادھے اس کی یک طرفہ گفتگو کے دوبارہ شروع ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ وہ پھر گویا ہوئی۔ علی فرزان کی دسویں سالگرہ اس کے مرنے کے آٹھ دن بعد دو دسمبر 2013 کو تھی۔ میں نے اس کی پسند کے تحفہ آرڈر کیے تھے۔ جو میرے دروازے پر ڈیلیور ہوتے رہے۔ جنہیں میں ہاتھ میں لیتی اور آہستگی سے اس کے کمرے میں سجا دیتی۔ جیسے وہ کہیں سے آ کر ان سے کھیلنے لگے گا۔ میرے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ اس کی غیر موجودگی کو قبول کر سکوں۔ میرا سماجی رویہ بھی نارمل نہیں تھا۔ لوگوں سے بات کرتی تو ان میں علی فرزاں کو تراشنے لگتی۔ اس کی آنکھیں، اس کی ناک، اس کے ہونٹ۔ نارمل رہنے کی کوشش کرتی تو دماغ میں یہ چل رہا ہوتا کہ وہ ابھی ہوتا تو کیا کر رہا ہوتا۔ کیا کھا رہا ہوتا، کون سی گیم کھیل رہا ہوتا؟

اور تمہارے شوہرنے اس غم کو کس طرح لیا؟ میرے تجسس سے رہا نہ گیا۔ بیٹا تو ان کابھی تھا۔ غم تو مشترک تھا جو دلوں کوجوڑتا ہے۔ مگر ہم دونوں مختلف سیاروں کے متضاد باشندے تھے جنہیں ارینجڈ شادی نے جوڑ دیا تھا۔ مگر دلوں کا ملاپ نہ ہو سکا تھا۔ اس دکھ کو بھی ہم اپنے اپنے طور پر ایک چھت کے تلے مگر علیحدہ علیحدہ جھیل رہے تھے۔ اس دوری کی وجہ ہمارے بیچ دوستی کا ناپید رشتہ تھا۔ اور جس نے ہمیں جوڑ رکھا تھا وہ دنیا چھوڑ چکا تھا۔ علی فرزان کی موت نے ہم دونوں کو رہی سہی جذباتی آسودگی کی ضرورت سے بھی آزاد کر دیا تھا۔

کیا دوسرے بچے کا کبھی سوچا؟ گو مجھے لگا میرا سوال احمقانہ ہے۔ اس نے کہا۔ ہاں باوجود ذہنی فاصلے کے میں نے سوچا کہ شاید علی فرزان کے غم سے مندملی کا عمل دوسرے بچے کی پیدائش میں مضمر ہے۔ لیکن میرا اسٹرس اور ٹراما بار آوری کے عمل کی تکمیل میں مانع رہا۔ مگر مجھے لگا جیسے میری زندگی کی کامیابی کا بیرومیٹر علی فرزان ہی تھا۔ بچہ کے حصول کی ناکامی کے بعد ایک بار پھر ہم اپنی اپنی دنیاؤں میں بسے مختلف سوچوں کے دھاروں میں بہتے زندگی بہاتے رہے تھے۔ میرے شوہر کا منصوبہ وطن واپسی کا تھا۔ وہ اکثر کہتے میرا ویزہ مت بڑھوانا۔ مجھے یہاں کون سی نوکری کرنی ہے۔ ویسے بھی ہزار بارہ سو ڈالر کی نوکری کے لئے میں اپنی بے عزتی نہیں کروا سکتا۔ پہلے ان کی مصروفیت میں علی فرزان کی سنگت شامل تھی۔ اب وہ بھی رخصت ہوئی۔

وہ اب بھی روایتی شوہر تھے۔ میں کھانا اور دوسرے گھریلو کام کرتی۔ اور پھر باہر کے امور بھی نبٹاتی۔ کبھی میں سوچتی کہ اگر ہم پاکستان میں ہوتے تو کیا یہ دوری اور ذہنی مطابقت کا فقدان اتنا ہی شاق گزرتا؟ مجھے لگا کہ مشرق میں ہم کتنی ثابت قدمی سے بے جوڑ شادیاں چلا لیتے ہیں۔ خاندان کے ہجوم میں اور بچوں کے نام پہ، بنائے بھربھرے پل پہ اپنی محبت سے عاری شادی کی بھدی گاڑی چلا کر اسے کامیاب شادی کا نام دے دیتے ہیں۔

شاید میں بھی اس شادی کو وہاں چلا لیتی۔ روایات کی بھینٹ چڑھ جاتی اور طلاق کا مطالبہ نہ کرتی۔ منافقت میں اپنی خواہشات چھپا کر عمر تمام کر دیتی۔ مگر ہجرت کا ٹراما، عزیزوں سے دوری اور پھر اولادکا غم، تاہم ہم دونوں کو جلد ہی اس کا احساس ہوگیا تھا کہ رفاقت کی یہ گاڑی زیادہ دور چلنے والی نہیں، گو ہم نے ایک دوسرے سے برملا اظہار نہیں کیا۔ میرے شوہر نے کہا میں جلد از جلد پاکستان جانا چاہ رہا ہوں۔ میرا کہنا تھا مجھے وقت چاہیے میں اپنی پی ایچ ڈی کا کام مکمل کرنا چاہتی ہوں۔ ”

مگر شاید میری ڈگری کا حصول ان کے منصوبے میں شامل نہ تھا۔ ہماری ترجیحات مختلف تھیں۔ میں ہمیشہ خوابوں کی دنیا میں رہنے والی لڑکی تھی۔ انگریزی ادب میرا مضمون اور شاعری اور کتابیں میرا شوق۔ ہم مزاج لوگ میرے دل کے قریب تھے۔ چونکہ میرے شوہر نے ہمیشہ عرب ممالک میں نوکری کی لہذا ربط کا موقع نہ مل سکا۔ شادی کے بعد جب قریب سے جانا توبہت سے خواب دھڑام سے گرے۔ اور میں بہت سے خوابوں کو سمیٹتی سلیقہ سے زندگی بسر کرتی رہی۔ کہ اب اس میں میری اولاد کا رنگ شامل ہو چکا تھا۔ میرے خواب اس میں منتقل ہوئے۔ علی فرزان ذہین، خوش مزاج قائدانہ صلاحیتوں کا مالک تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اس کا مستقبل بہت کامیاب ہو گا۔ مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میرے شوہر کا اصرار تھا کہ میں پاکستان جانا چاہتا ہوں اور جانے سے پہلے تھوڑا گھومنا بھی چاہتا ہوں۔

اس دوران میں نے ان کی گفتگو میں ایک جملہ بھی سنا جو وہ اپنی ماں سے فون پہ کہہ رہے تھے۔ اس نے تو مجھے دوسرا بچہ بھی نہ دیا۔ میرے دل میں ان کے لئے رہی سہی جو عزت تھی وہ بھی نہ رہی۔ فیصلہ ہو چکا تھا صرف طلاق کے لئے وکیل کی ضرورت تھی۔ جو اس بے جان رشتے سے نجات دلائے۔ والدین کو بتایا تو انہوں نے اس کی مخالفت کی۔ سوچ یہ تھی کہ طلاق کا لیبل نہ لگے۔ لہذا جب طلاق مکمل ہوئی تو کسی کو نہ بتایا نہ پاکستان اور نہ ہی یہاں کمیونٹی میں۔ کہ نہ مجھے علی فرزان کی موت پہ لوگوں کی ہمدردیاں اور ترس چاہیے تھا اور نہ ہی اپنے اکیلے پن پہ بیچارگی کا ماتم کرنا تھا۔

ادھر میں اپنے ٹراما سے نپٹنے کے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی پہ بھرپور توجہ دینے کی کوشش کر رہی تھی۔ میری سائیکولوجسٹ کا کہنا تھا۔ ایک پی ایچ ڈی پژمردہ عورت کی بجائے اچھی نوکری کے ساتھ کامیاب عورت زیادہ دلکش ہوتی ہے۔ اب مجھے یقین ہے کہ میں اپنی زندگی اپنے طور پر جیوں گی۔ اس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔

فون پربات ختم ہوئی تو میں بہت دیر اصباح کی بقیہ زندگی کے بارے میں سوچتی رہی۔ چالیس سال کی پی ایچ ڈی ڈگری یافتہ ڈاکٹر اصباح کا مستقبل بہت تابناک ہو سکتا ہے۔ شادی ہو یا نہ ہو۔ میں نے سوچا۔

کچھ ماہ بعد میری اصباح سے فون پر دو بارہ گفتگو ہوئی۔ وہ کچھ خوش نظر آ رہی تھی۔ کیا ہوا کوئی مل گیا۔ میں نے یونہی چھیڑا۔ پتہ نہیں اس نے کہا۔ کیا مطلب ہے کچھ بتاؤ۔ میں نے تجسس سے کہا۔ اس نے بتایا کہ ایک تو بات یہ کہ میرا بلاگ جو میں نے اپنی دوست کے مشورہ پہ علی فرزان کے جانے کے تین ماہ بعد لکھنا شروع کیا تھا۔ وہ بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔ اس بلاگ کے ذریعے میں علی فرزان سے گفتگو کرتی رہتی ہوں۔

یہ میری تھراپی کا کام انجام دے رہا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ میرا پی ایچ ڈی کا کام بھی اچھا چل رہا ہے۔ اور ایک اور بات یہ کہ یونیورسٹی میں ایک بہت اچھا انسان مجھ میں دلچسپی لے رہا ہے۔ ان کا تعلق ایران سے ہے اور وہ اربن اسٹڈیز (Urban Studies) میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ ہماری پہلی ملاقات رومی پہ ہونے والی شاعری کے سیشن میں ہوئی۔ ہم دونوں ہی رومی کے عاشق ہیں۔ پھر ہمارے دوسرے شوق بھی ایک سے ہیں۔ سیاحت، کتابوں کا شوق اور لوگوں سے ملنا جلنا۔ گو ان کا پی ایچ ڈی کا موضوع کچھ اور ہے مگر ادب سے گہری دلچسپی ہے۔ باوجود اس کے احسان ایک بہترین انسان ہیں، ایک مسئلہ ہے۔ اس نے کہا۔ وہ کیا؟ وہ مجھ سے خاصے چھوٹے ہیں۔ میں اپنے چہرے مہرے سے کئی سال چھوٹی لگتی ہوں اور وہ عمر کے اعتبار سے دانشمند اور سمجھدار۔

میں نے ان کو اپنا ڈرائیونگ لائسنس دکھایا۔ اپنی طلاق اور علی فرزان کی موت کا بھی بتایا۔ مگر وہ کسی طور سے پیچھے نہیں ہٹ رہے۔ مگر چونکہ وہ کوئی کام جھوٹ بول کر اور والدین کو ناراض کر کے نہیں کرنا چاہتے لہذا گزشتہ دو ماہ سے والدین سے گفتگو کر کے اپنا عندیہ بتا رہے ہیں۔ چنانچہ یہ وقت ان کے والدین کی رضامندی کے انتظار کا ہے۔ جس میں کچھ اور وقت لگ سکتا ہے۔ اصباح کے لہجے میں کچھ امید و بیم کی کیفیت تھی۔

اس گفتگو کے کچھ عرصے بعد ہی میں نے فیس بک پہ خوشیوں سے بھرپور دلہن دلہا اور مختصر احباب کے فوٹوز دیکھے۔ کیک کاٹتے، ایک دوسرے کو کھلاتے، ہنستے مسکراتے، کھلکھلاتے اور ایک دوسرے کی سنگت میں خوشیوں سے سرشار۔ یہ تصاویر تھیں اصباح اور احسان کی شادی کی۔ فیس بک پہ اصباح کا نام اصباح علی فرزان ہے۔ جو اس نے مجھے بتایا تھا کہ اس نے اکیڈمک دستاویزات میں بیٹے کی موت کے بعد تبدیل کروایا تھا۔ مگر اس کے بعد قانونی طور پہ بھی بدلوا لیا۔ مجھے اچھا لگتا ہے جب میں اپنے بیٹے کے نام سے جڑی ہوتی ہوں۔ جب مجھے ڈگری اصباح علی فرزان کے نام سے دی جائے گی۔

میں نے اصباح کو مبارکباد کے لیے فون کیا۔ اور اس طرح اس کا کئی سو میل دور فون پہ ہنستا مسکراتا چہرہ دیکھا۔ وہ کہہ رہی تھی۔ احسان بہت خوبصورت اور خیال رکھنے والے شوہر ہیں۔ ہم گھر کا کام مل جل کر کرتے ہیں۔ میں کھانا پکاتی ہوں تو وہ صفائی کرتے ہیں۔ وہ میری ذہنی اور جسمانی صحت کا میرا مجھ سے زیادہ خیال کرتے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ وہ ہر ہفتہ مجھے علی فرزان سے ملانے اس کی قبر پہ لے جاتے ہیں۔ اس کے لہجہ میں محبت کی سرشاری تھی۔ میں نے کہا۔ یہ وہ خوبصورت سا وہ تحفہ ہے جو تمہارا بیٹا اپنی موت کے بعد تمہیں دے گیا ہے۔ اس نے کہا۔ شاید ایسا ہی ہے۔ مجھے لگا یہ کہتے ہوئے علی فرزان کی ماں مسکرا رہی ہے۔ بھرپور محبت اور احسان مندی کے جذبہ کے ساتھ۔
۔

نوٹ :۔ ڈاکٹر اصباح نے اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری اصباح فرزان علی کے نام سے میسا چیوسس یونیورسٹی، یو ایس سے حاصل کی۔ لہذا وہ اب اصباح علی فرزان کے نام سے ہی جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی وفات کے تین ماہ بعد سے ہی ایک بلاگ اصناح علی فرزان کے نام سے بنایا۔ اور اس میں اپنے بیٹے کے بارے میں باقاعدگی سے لکھنا شروع کیا۔ اس بلاگ میں لکھنا ان کے لئے ذہنی طور پر ایک تھرپی کاکام دیتا رہا اور یوں رفتہ رفتہ وہ مکمل طور پر پھر سے صحت یاب ہو گئیں۔ ان کا لکھنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ بلاگ کا لنک حسبِ ذیل ہے۔

https://isbah2ali.wordpress.com/author/isbah2ali/

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں