( کوڑا جمال شاہی پیچھے دیکھا مار کھائی- ( یو ٹرن


بچپن کے دنوں کی خوش گوار یادیں کس کو نہیں ستاتیں، ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ بچپن کے بے فکری کے دن لوٹ آئیں- اگلے وقتوں میں مشترکہ خاندانی نظام کا زمانہ تھا- سب مل جل کر رہتے تھے- بچوں کے درمیان تعلیم اور کھیل کے میدانوں میں مسابقت کا سماں بندھا رہتا تھا- بچوں میں آپس میں نوک جھوک بھی جاری رہتی تھی، لیکن کھیل کود کے وقت سب اکٹھے ہو جاتے تھے- بڑے بچے پڑھائی میں اپنے سے چھوٹے بچوں کی مدد کرتے تھے- فی زمانہ تو بچے موبائل، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر پر مار دھاڑ سے بھرپور ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں-

لوڈو، کیرم، سانپ سیڑھی، کروڑ پتی بیوپار اور نام، چیز و جگہ بڑے اور چھوٹے بچے مل کر گھر کے کسی گوشے میں بیٹھ کر کھیل لیا کرتے تھے- تاکہ گھر کے بڑوں کے معمولات متاثر نہ ہوں- چھوٹے بچے گھر کی چھت پر بیڈمنٹن، اور کرکٹ کھیل لیا کرتے تھے- چھوٹے بچوں میں لڑکا اور لڑکی کی تخصیص نہیں ہوتی تھی، سب مل کر بھاگم دوڑ کے اور ورزشی کھیل شام کے وقت گھر کی چھت پر کھیلا کرتے تھے-

پکڑم پکڑائی، لنگڑی پالا، برف پانی، چھپن چھپائی، سیب سیب میں خوب بھاگم دوڑ ہوتی تھی- ایک کھیل اور کھیلا جاتا تھا، جس کا نام تھا ( کوڑا جمال شاہی پیچھے دیکھا مار کھائی- ) اس کھیل میں بچے پگم پگائی کے بعد دائرے کی شکل میں اکڑوں بیٹھ جاتے تھے اور پگم پگاِئی میں جو بچہ ہار جاتا تھا، عموما دوپٹے کو بل دے کر کوڑا نما بنا لیتا تھا اور دائرے کی شکل میں اکڑوں بیٹھے بچوں کے گرد گھومتے ہوئے، بآواز بلند رعب دار انداز میں کہتا جاتا تھا، کوڑا جمال شاہی پیچھے دیکھا مار کھائی ( یعنی جس بچے نے بھی پیچھے مڑ کر دیکھا، یہ کوڑے نما دوپٹہ اس کی کمر پر رسید کر دیا جائے گا- ) آواز لگانے والا بچے کو کوڑا اکڑوں بیٹھے کسی بچے کے پیچھے رکھنے ہوتا تھا، جس بچے کے پیچھے کوڑا رکھا جاتا تھا، وہ کوڑا اٹھا کر اس بچے کے پیچھے کوڑا مارنے کو بھاگتا تھا، جس نے کوڑا رکھا ہے اور کوڑا رکھنے والا اس بچے کی جگہ بیٹھنے کی کوشش کرتا تھا، جس کے پیچھے اس نے کوڑا رکھا ہوتا تھا- کھیل میں دل چسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوتی تھی، جب کوڑا نہ رکھا گیا ہو اور کوئی بچہ پیچھے مڑ کر دیکھ لے، اس صورت میں کوڑا بردار پیچھے مڑ کر دیکھنے والے بچے کی کمر پر کس کے کوڑا رسید کرتا تھا –

بچوں کے لیے یہ سبق آموز کھیل یقینا ان کے بڑوں نے ہی ان کے لیے تخلیق کیے ہیں، تاکہ بچے کھیل کھیل میں کھیل کے اصول و ضوابط پر عمل کرکے عملی زندگی میں کامیاب زندگی گزاریں- کوڑا جمال شاہی پیچھے دیکھا مار کھائی نامی کھیل میں بے صبرا اور نا سمجھ بچہ محض یہ دیکھنے کے لیے پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے کہ کوڑا اس کے پیچھے تو نہیں رکھ دیا گیا ہے اور کوڑا کھاتا ہے، حالانکہ کوڑے والا مسلسل آواز لگا رہا ہوتا ہے کہ پیچھے دیکھا تو مار کھائی-

وطن عزیز میں سیاست کو بھی ایک کھیل سمجھ لیا گیا ہے- اور سیاست دان بھی محض اقتدار کی خاطر سیاسی اصولوں کی پامالی پر آمادہ رہتے ہیں- بچوں کی طرح صبر کا مادہ بعض سیاست دانوں میں بھی کم یاب ہے- اس لیے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے بعض بے صبرے اور نا سمجھ سیاست دان کسی بھی جمہوری حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرتے رہتے ہیں- اور ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ حکومت اپنی مدت نہ پوری کرنے پائے اور مڈ ٹرم الیکشن کی راہ ہموار ہو جائے- چاہے اس کے لیے ان کو جھوٹ بولنا پڑے یا اپنے سابقہ بیانوں اور وعدوں سے انحراف کرنا پڑے-

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں کالم نویسوں سے بڑے اور کامیاب سیاسی رہنمائوں کی کامیابی کا راز یو ٹرن میں پوشیدہ بتایا ہے اور سابق ناکام آمروں کی ناکامی کی وجہ بر وقت یو ٹرن نہ لینا بتایا ہے- جب سے وزیر اعظم نے یو ٹرن کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے، ذرائع ابلاغ میں یو ٹرن کی افادیت و غیر افادیت پر بحث جاری ہے- لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مہزب سیاسی دنیا میں کسی بھی سیاست دان کا یو ٹرن لینا جھوٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یو ٹرن لینے والے سیاسی رہنما کی قوت فیصلہ کو کمزور تصور کیا جاتا ہے-

وزیر اعظم تو خود بھی کرکٹ کے عظیم کھلاڑی رہے ہیں- وزیر اعظم کی کرکٹ میں وجہ شہرت فاسٹ بائولنگ اور ان کی کپتانی ہے- کیا وزیر اعظم نے کرکٹ میں کامیابی یو ٹرن لے کر حاصل کی ہے؟ کسی بھی شعبہ زندگی میں کامیابی کی ضمانت محنت و استقامت قرار پاتی ہے- وزیر اعظم نے یو ٹرن والا شوشہ جب سے چھوڑا ہے، اس سے یہ بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ حزب اختلاف وزیر اعظم پر یو ٹرن لینے کا جو الزام لگاتی ہے، وہ محض الزام نہیں ہے، ایک حقیقت ہے- ہو سکتا ہے، وزیر اعظم کے نزدیک ان کا یو ٹرن لینا کامیابی کی ضمانت ہو، لیکن ایک مخلص پاکستانی ہونے کے ناتے، ان سے یہی عرض کرنا چاییں گے کہ جب سے آپ نے یو ٹرن والا شوشہ چھوڑا ہے، آپ کی ذات مبارکہ میں کوڑا جمال شاہی والا، وہی اکڑوں بیٹھا بے صبرا اور نا سمجھ چھوٹا بچہ نظر آتا ہے، جو منع کرنے کے با وجود یو ٹرن لیتا ہے اور سزا کا حق دار ٹہھرتا ہے-

Facebook Comments HS