عجلت کے فیصلے جنہوں نے ہمیں راندہ زمانہ کیا۔


امریکا کے صدر ٹرمپ نے پچھلے دنوں فاکس نیوز پر ایک انٹرویو میں پاکستان کی امداد بند کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے شکایت کی کہ امریکا پاکستان کو ہر سال ایک ارب تیس کrوڑ ڈالر کی امداد دیتا رہا ہے لیکن پاکستان نے اس کے عوض کچھ نہیں دیا۔ اس کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ 9/11 کے حملہ میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن پھر بھی پاکستان نے دھشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور 75 ہزار جانیں قربان کیں اور 123 ارب ڈالر کا معاشی خسارہ برداشت کیا۔

عام طور پر عجلت میں کئے گئے فیصلے قوموں کے لئے کبھی ختم نہ ہونے والے عذاب ثابت ہوتے ہیں۔ 9/11 کے بعد واشنگٹن سے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کی ایک ٹیلی فون کال پر اس زمانہ کے فوجی آمر پرویز مشرف نے ایک لمحہ کے توقف کے بغیر بے حد عجلت میں ملک کے مفاد ات کو بالائے طاق رکھ کر محض اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے کسی سے صلاح مشورہ کئے بغیر اپنے پڑوسی افغانستان کے خلاف امریکا کی جنگ میں ساتھ دینے کا جو فیصلہ کیا اسکے نتیجہ میں پاکستان کو جو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا اس کے مہیب اثرات کے سائے ابھی تک پاکستان پر ایسے چھائے ہوئے ہیں کہ چھٹنے کا نام نہیں لیتے۔

آج ہم جس بری طرح سے امریکا کے پنچے میں گرفتار ہیں اور بے بسی کے عالم میں اس کے طعنوں، مطالبات اور دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں اس کی بھی وجہ عجلت کا وہ فیصلہ تھا جو قیام پاکستان کے فوراً بعد ابھی جب کہ چار سال ہی گذرے تھے ، پاکستان نے نہایت عجلت میں امریکا کے بندھن میں بندھنے کا کیا تھا۔ اس وقت پڑوسی سویت یونین نے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو ماسکو آنے کی دعوت دی تھی۔ اس زمانہ کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان اور انگریزوں کے دور کے پروردہ آٗی سی ایس افسروں نے لیاقت علی خان کا فوری محاصرہ کر لیا اور انہیں کشاں کشاں ہزاروں میل دور واشنگٹن لے گئے جہاں صدر ٹرومین نے لیاقت علی خان کو شیشہ میں ایسا اتارا کہ انہوں نے نہایت عجلت میں سویت یونین اور امریکا کے درمیان سر د جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا۔

اس وقت انگریزوں کے پروردہ افسروں نے لیاقت علی خان کویہ سوچنے کا موقع نہیں دیا کہ پاکستان کے لئے غیر وابستگی کی پالیسی بھی ایک ایسا راستہ ہے جس میں اس کے مفادات مضمر ہیں۔حالانکہ قیام پاکستان کے تین روز بعد خود وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان دنیا کی مختلف اقوام کے نظریاتی تنازعات میں کسی کی حمایت نہیں کرے گا۔ اور اس سے پہلے قاید اعظم محمد علی جناح نے اعلان کیا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی دنیا کی تمام اقوام کے ساتھ دوستی اور خیر سگالی کی پالیسی ہے۔ واشنگٹن جانے سے پہلے لیاقت علی خان نے مئی 1949 میں قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان  سوشلسٹ تجربہ کر رہا ہے جو جنوب مشرقی ایشیا میں کمیونزم کی در اندازی کا مقابلہ کرے گا۔

اس وقت عالم اسلام کی پاکستان سےبڑی گہری امیدیں وابستہ تھیں کہ وہ مسلم ممالک کو متحد کر کے ایک الگ غیر جانبدار اتحاد قایم کرے گا لیکن پاکستان نے نہایت عجلت میں امریکا کے فوجی معاہدوں ، سینٹو اور سیاٹومیں شامل ہو کر مسلم ممالک کی امیدوں اور خواہشات کو زبردست ٹھیس پہنچائی۔ جمال عبدالناصر کی قیادت میں مشرق وسطی کے ممالک نے امریکی فوجی معاہدوں میں شمولیت پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور مسلم ممالک کی ترجمانی کرتے ہوئے سعودی عرب نے پاکستان کے اس اقدام کی مخالفت کی، ریڈیو مکہ پر سعودی عرب کا یہ بیان نشر کیا گیا جس میں پاکستان سے کہا گیا تھا کہ وہ امریکی فوجی معاہدہ میں شامل نہ ہو اور "راہ راست پر واپس آجائے”، اسی دوران دنیا نے دیکھا کہ جب 1956 میں جواہر لعل نہرو سعودی عرب کے دورہ پر گئے تو ان کا "مرحبا امن کے پیام بر” ۔ کے نعرہ کے ساتھ نہایت پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔

اسی دوران جب امریکا میں آیزن ہاور مسند صدارت پر فایز ہوئے اور جان فاسٹر ڈلس نے وزارت خارجہ سنبھالی تو پاکستان میں امریکا کے فوجی اڈوں کا جال بچھنا شروع ہوگیا۔ امریکا اور پاکستان کی اس قربت کے پیچھے ڈلس اور پاکستان کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کی گہری دوستی کار فرما تھی ۔بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ سر ظفر اللہ خان نے جان فاسٹر ڈلس سے اتنی گہری دوستی کا مسلہ کشمیر کے حل کے لئے کیوں فایدہ نہیں اٹھایا۔

امریکا کے بندھنوں میں اس وقت پاکستان اس بری طرح سے بندھ گیا تھا کہ پاکستان کے حکمرانوں پر پاکستان کی پالیسی کے خلاف مسلم ممالک کی ناراضگی کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے نتیجہ میں پاکستان مشرق وسطی کے ممالک سے کٹ کر رہ گیا اور تو اور پڑوسی افغانستان سے بھی کشیدگی نے دشمنی کی صورت اختیار کر لی۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کو امریکی فوجی معاہدوں میں شمولیت کی کس قدر بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ۔ 1965 کی جنگ کے دوران جب پاکستان نے امریکا سے مدد کی درخواست کی تو اسے یہ کہہ کر دھتکار دیا گیا کہ امریکی فوجی معاہدے تو سوویت یونین کے خلاف ہیں ان کا مقصد ہندوستان کے ساتھ جنگ میں پاکستان کا دفاع نہیں ہے ۔ یہی نہیں، امریکا اور اس کے اتحادی برطانیہ نے پاکستان کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندگی عاید کردی یہ جانتے ہوئے کہ ہندوستان ، سوویت یونین سے بڑے پیمانہ پر اسلحہ خریدتا ہے اور پاکستان کے دفاع کا تمام تر دارومدار امریکا اور برطانیہ کے اسلحہ پر ہے۔

امریکا کے اس انکار پر جسے پاکستان اپنا اتحادی سمجھتا تھا ، پاکستان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ وہ تو چین نے اپنی دوستی کا حق ادا کیا اور جنگ کے بعد پاکستان کے اسلحہ کی ضروریات کو پورا کیا۔ پھر سن 71ء میں بنگلہ دیش کی جنگ کے دوران امریکا پاکستان کو طفل تسلی دیتا رہا کہ اس کی مدد کے لئے امریکا کا ساتواں بحری بیڑہ بحریہ بنگال کی جانب روانہ ہو گیا ہے  لیکن سقوط ڈھاکہ تک تو دور دور تک اس کا نشان نہیں تھا۔

۱۹65 کی جنگ کے بعد پاکستان کو غیر وابستگی کی پالیسی کی افادیت کا احساس ہوا لیکن حکمرانوں اور اسٹبلشمنٹ میں امریکا نوازی اتنی سرایت کر گئی تھی کہ پاکستان نے مثبت اور فعال طریقہ سے اس پر عمل نہیں کیا بلکہ ٹامک ٹویاں مارتا رہا اور سویت یونین کی مسماری کے بعد یہ پالیسی بھی اپنی افادیت کھو بیٹھی۔

غرض ایک طویل داستان ہے اس عذاب کی جس کا امریکا کے بندھنوں کی وجہ سے پاکستان کو سامنا کرنا پڑا ہے اور آج بھی پاکستان کو اور اس کے حکمرانونں کو اپنے تابع سمجھ کر طرح طرح سے امریکا پاکستان کا ہاتھ مروڑ تا رہتا ہے ۔۔۔۔ کس سے کہیئے کہ بھرے رنگ سے زخموں کے ایاغ۔ ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

آصف جیلانی

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔ آصف جیلانی کو International Who’s Who میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

asif-jilani has 36 posts and counting.See all posts by asif-jilani