یوٹرن: حکمتِ عملی میں تبدیلی یااصولوں سے انحراف؟
آج کل وزیراعظم پاکستان کے مشہورِ زمانہ یو ٹرن والے دلچسپ بیان پر ہر سطح پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔ کسی بڑے منصب پر براجمان شخصیت کے معمولی اشارہء ابرو اور چھوٹی سی بات کی بھی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ یہی بیان اگر کسی عام آدمی سے منسوب ہوتا تو ہرگز اتنی پذیرائی حاصل نہ کر سکتا۔
تمھاری زلف تک پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامہء سیاہ میں تھی
ان کے حامی اور مخالفین اپنے اپنے انداز میں دلائل و براہین دے کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں اگرچہ امریکی صدر کے حالیہ پاکستان مخاف بیان نے آج کل بحث کا رخ موڑ دیا ہے اور اب ٹرمپ صاحب و امریکہ بہادر غیرت بریگیڈ کے تیرو تفنگ کے نشانے پر ہیں اس کے باوجود ہم خان صاحب کے بیان کے حوالے سے چند معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وزیر اعظم کے بیان کو کسی مہم کے تناظر میں حکمتِ عملی بدل کر منزل تک رسائی حاصل کرنے سے تعبیر کیا جائے تو پھر تو ان کی بات درست ہے۔
لیکن اگر اس سے مراد یہ ہے کہ سالارِقافلہ منزل تک پہنچنے کے لیے اصول، دیانتداری، ایمانداری اور قواعد و ضوابط کو تج سکتا ہے تو وزیر اعظم کی بات سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ کرکٹ کے میچ کو جیتنے کے لیے اگر کپتان یا کوچ بیٹنگ، باؤلنگ یا فیلڈنگ میں وقتی اور ہنگامی تبدیلیاں کرتا ہے تو اسے حکمتِ عملی میں ردوبدل سے تعبیر کیا جائے گا۔ لیکن اگر کپتان میچ جیتنے کے لیے امپائرکو ساتھ ملا لے، کھیل کے ضابطے مجروح کرے، کرپشن سے کام لے اورناجائز ذرائع استعمال کر ے تو یہ اصولوں سے انحراف کرنے کے مترادف ہو گا۔
دیکھنا یہ ہے کہ جناب عمران خان نے اقتدار کا میچ جیتنے کے لیے حکمتِ عملی میں تبدیلی کی یا اصولوں کی قربان دی؟ سب جانتے ہیں کہ وہ کرپشن کے خلاف نعرہء مستانہ لگا کر کارزارِ سیاست میں کودے تھے۔ اس حوالے سے انہوں نے کچھ اصول طے کیے تھے۔ مثلاً فوج اور ایجینسیوں کی بیساکھیوں کے سہارے اقتدار میں نہیں آنا۔ فوجی آمر کی حمایت نہیں کرنی۔ کرپٹ سیاتدانوں کو ساتھ نہیں ملانا۔ قرض نہیں مانگنا۔ سیاسی مفاد کے لیے منافقت اور جھوٹ کا سہارا نہیں لینا۔
بد دیانتی نہیں کرنی۔ خراب شہرت کے حامل الیکٹیبلز کو ساتھ نہیں رکھنا۔ ہارس ٹریڈنگ نہیں کرنی۔ ڈاکؤوں کے سہارے اقتدار کی سیڑھی پر قدم نہیں رکھنا۔ اسٹیٹس کو کو توڑنا ہے۔ انتخابات سے قبل تو عمران خان نے سو دن کے اندر جنوبی صوبہ بنانے کا تحریری معاہدہ کیا تھا۔ چلیں انتخابی وعدوں کی شکل میں تو سب سیاستدان ہی سبز باغ دکھاتے آئے ہیں، ان سے اغماض بھی برت لیا جائے تو اس کا جواب کون دے گا کہ عمران خان نے سارا الیکشن امپائر کے بل بوتے پر مخالف سیاست دان کے ہاتھ پاؤں باندھ کے جیتا۔
جس طرح سینیٹ کے الیکشن میں چور بازاری، جوڑ توڑ، دھونس دھاندلی، خرید و فروخت اور ہارس ٹریڈنگ سے کام لے کر ن لیگ کو ہرایا گیا، کوئی صاحبِ عقل اس سارے عمل کو صریح بددیانتی کے بجائے سیاسی حکمتِ عملی میں تبدیلی (وقتی یوٹرن) کا نام دے سکتا ہے؟ جس طرح کرپٹ عناصر کو ساتھ رکھ کر حکومت چلائی جارہی ہے، پرویز الہیٰ جیسے ڈاکؤوں اور، صادق سنجرانی جیسے اسٹیبلشمنٹ کے مہروں اور بابر اعوان جیسے کرپٹ سیاستدانوں کا چورن بنا کر نئے پاکستان کے قیام کے لیے عازمِ سفر ہوا جا رہا ہے اس تمام صورتِ حال کو لوگ حکمتِ عملی میں ردوبدل نہیں کھلی منافقت، جھوٹ اور بددیانتی سے تعبیر کر رہے ہیں۔
عمران خان نے بہرصورت سیاسی مفاد کو مقدم رکھا ہے چاہے اس کے لیے اجلے اصولوں کی ذبح کرنا پڑے۔ عمران سیاست میں تقلید کا دعویٰ تو قائد اعظم جیسے عظیم قائدکا کر رہے ہیں مگر کام سارے چانکیہ فلسفے کے زیرِ اثر مکر و فریب اور منافقت والے کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک سیاسی مفاد سب سے اہم ہے خواہ اس کے لیے مذہبی، اخلاقی، معاشرتی، قانونی اور سماجی اقدار وروایات کا قتل ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
اس سلسلے میں وہ قائد کے قدموں کی گرد کو بھی نہیں پہنچتے کہ جنہوں نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے پنڈت نہرو اور ماؤنٹ بیٹن کی بیگم کے معاشقے کے راز کو ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت جیسا گھناؤنا جرم قرار دے کر طشت از بام کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ قائد اعظم نے کبھی سیاسی فائدے کے لیے یوٹرن تو کیا معمولی موڑ بھی نہیں مڑا۔ وہ پوری دیانتداری، پامردی، استقامت اور ثابت قدمی سے اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر حصولِ پاکستان کی منزل کی طرف بڑھتے رہے۔
ان کے بدترین دشمن بھی ان پر کوئی الزام نہ لگا سکے جب کہ آج عمران خان اپنے انتہائی قریبی عزیزوں کی طرف سے برہنہ الزامات کی زد میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے اکثر موقعوں پر سیاسی مفاد کی خاطر اپنے ہی بنائے گئے اصولوں کو بڑی سفاکی اور بے رحمی سے ذبح کر دیا۔ ان کے حواریوں کا انہیں قائد اعظم جیسے عظیم قائد کے قدموں کی گرد سے بھی مشابہ قرار دینا خود قائد کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔


