وہ کوئی اور ہی دنیا تھی شائد
لسی لینے کے لئے صبح صبح غریب غرباء کے برتن آئے پڑے ہوتے تھے۔ سب کو لسی ملتی بلکہ کبھی کبھی تو خاتون خانہ ایک چھوٹا سا پیڑا مکھن کا بھی برتن میں ڈال دیتی تھی۔ زمینداروں کے کچے پکے ڈیرے ہمیشہ آباد رہتے تھے وہاں پر حقہ، پانی کا گھڑا اور مہمانوں اور مسافروں کے لئے کھانا اور بستر دستیاب رہتے تھے۔ مہمان کو باعث رحمت سمجھا جاتا تھا۔ شادی، غمی سب کی مشترکہ سمجھی جاتی تھی۔ ایسے موقعوں پر ہر گھر سے چارپائیاں اور بستر اکٹھےکیے جاتے۔
اور اس دن سب لوگ ایسے گھر میں دودھ اور لکڑیاں وغیرہ پہنچا آتے تھے۔ جس دن گاؤں میں بنجارے پہنچتے وہ دن عورتوں لڑکیوں اور بچوں کی عید کے دن ہوتے۔ یہ بنجارے دو دو، تین تین دن گاؤں میں ہی ڈیرہ لگائے رکھتے۔ اور سویرے تڑکے گاؤں کی سب سے مرکزی جگہ پر اپنی اپنی دکانیں زمین پر سجا کر بیٹھ جاتے۔ ان کے پاس سستے کھلونے، ہار، نقلی زیورات، سنگھار کاسامان اور چھوٹے موٹے برتن ہوتے۔ سارا سارا دن ان کی دکان کے سامنے کھڑے رہنا بچوں کے لئے ایک حسین تجربہ ہوتا تھا۔
گاؤں میں سائیکل کسی کسی کے پاس ہوتی تھی۔ باراتیں تک اونٹوں کجاووں، بیل گاڑیوں اور گھوڑوں پر جاتیں۔ سائیکل مالکان رنگدار لنگیاں پہنے بارات کے ساتھ ساتھ سائیکل پکڑے ہوئے چل رہے ہوتے۔ ایسے مہمانوں کو باراتوں کی شان بڑ ہانے کے لئے بطور خاص مدعو کیا جاتا تھا۔ بعد میں بہت عرصہ ٹریکٹر ٹرالیوں پر باراتیں جاتی رہیں۔ ہمارے گاؤں میں سب سے پہلے ہمارے دادا کے بھائی جو کہ محکمہ پولیس میں ملازم تھے گرامو فون لے آئے تھے۔
اس دن سر شام ڈیرے کے کچے صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ چارپائیاں اور موڑھے بچھ گئے۔ درمیان میں ایک میز لگائی گئی۔ جس پر گراموفون رکھ دیا گیا۔ سارا گاؤں اکٹھا ہو گیا تھا۔ دادا جی نے ریکارڈ جمایا، چابی بھری اور ریکارڈ چلا دیا۔ استاد بڑے غلام علی کی مدھر آواز سر بکھیرنے لگی۔ کئی دنوں تک اس بات کا چرچا رہا کہ مہر صاحب شہر سے مشین لے آئے ہیں جو گانے گاتی ہے۔
اس کے بعد سیل سے چلنے والے ریڈیو آئے۔ اور پھر ٹیپ ریکارڈر عام ہوئے۔ شوقین حضرات ٹیپ ریکارڈر پر کڑھائی کیے ہوئے کپڑے کے غلاف چڑھاتے اور ہاتھ میں لٹکا کر چلتے تھے۔ ہمارے چچا بتاتے تھے۔ ہمارے گاؤں کے ساتھ ہی ایک نہر تھی۔ اس کی پٹڑی پر محکمہ انہار کے ملازمین کے علاوہ کسی کو بھی سواری چلانے کی اجازت نہیں تھی۔ اول اول جب محکمہ انہار کے افسران کو موٹر سائیکل دیے گئے، تو جیسے ہی گاؤں کے بچے دور سے آتی ہوئی موٹر سائیکل کی پھٹ پھٹ سنتے بھاگ کر پٹڑی کے پاس پہنچ جاتے، اور پھر دور تک موٹر سائیکل سوار کو جاتے ہوئے دیکھتے رہتے۔
واپس آ کر بتاتے کہ لوہے کا گھوڑا ہے، شور کرتے ہوئے گزرتا ہے اور اپنے پیچھے خوشبو چھوڑ جاتا ہے۔ 1980 ء میں گاؤں میں بجلی آ گئی۔ اس کے بعد اکا دکا گھروں میں ٹیلی ویژن آگئے۔ اب لکڑی کے بڑے ڈبے میں زندہ بولتے چلتے آدمی دیکھنے کا شوق ہر کسی کو ہونے لگا۔ پہلے جس گھر میں ٹی وی ہوتا گاؤں کے سارے لوگ شام کو وہی اکٹھے ہوتے۔ چارپائیوں پر اہل خانہ، ان کے آگے زمین پر بچے اور عورتیں اور سب سے پیچے اور ذرا دور مرد حضرات کھڑے ہو کر ٹی وی سے لطف اندوز ہوتے۔
بعد میں اکثر گھروں کی چھتوں پر کبوتر بٹھانے کے چھاتے سے مشابہ۔ ایلومینیم کے اینٹینے دکھائی دینے لگے۔ بلاشبہ گاؤں دیہات میں کرکٹ کا تعارف و مقبولیت صرف ٹی وی کی ہی مرہون منت ہے۔ جس دن میچ یا فلم آنی ہوتی اس دن اینٹینے کی ٹوٹی تاریں جوڑی جاتیں۔ اینٹینے پر ایلومینیم کی کھانا کھانے والی پلیٹیں اضافی طور پر لگائی جاتیں۔ اور ایک آدھ چھوٹا اینٹینا کا بانس پکڑے سائیڈ دینے کے لئے کھڑا رکھا جاتا، تاکہ سگنل کمزور ہونے سے مزہ غارت نہ ہو۔
جس دن بارش ہو جاتی، فضا صاف ہو جاتی، اس دن پڑوسی ملک دور درشن کے سگنل آنے سے بونس میں ایک آدھ بھارتی فلمی گانا یا کسی پروگرام کا حصہ دیکھنے کو مل جاتا۔ بعد میں سعودی عرب یا دبئی سے چھٹی پر گھر آنے والے پردیسی ایک آدھ رنگین ٹی وی اور وی سی آر ساتھ لانے لگے۔ یوں گاؤں کے لوگوں کو بھارتی اور غیر ملکی نیلی پیلی فلموں کی لت پڑنے لگی۔ رہی سہی کثر ڈش اینٹینوں کی آمد نے پوری کردی۔ رفتہ رفتہ مزدور پیشہ بہتر روزگار اور بچوں کی اچھی تعلیم کے لئے شہروں کا رخ کرنے لگے، اور کچھ عرصے بعد تو یہ حال ہو گیا کہ کاشتکار طبقہ زمینداری سے چمٹا رہنے اور زمینوں کی نسل در نسل تقسیم سے معاشی بدحالی کا شکار ہو گیا اور کل کے ان کے ”کمی“ تعلیم حاصل کر کے سرکاری ملازمتوں اور کاروبار میں ان سے آگے نکل گئے۔
آج کے گاؤں اب ہنر مندوں سے خالی ہو چکے ہیں۔ باقی وہاں پر یا تو وہ کاشتکار رہ گئے ہیں جن کو اس کے علاوہ کوئی کام نہی آتا یا وہ غریب ترین لوگ جو علم وہنر میں پیچھے رہنے کی وجہ سے شہروں میں جانے کی طاقت نہی رکھتے۔ حکومتوں نے دیہات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ جس کی وجہ سے زراعت تباہ حال ہے۔ تعلیم و صحت کی سہولیات تک کسی کی رسائی نہی۔ گلیوں میں اب بھنگی، چرسی اور جواری پھرتے ہیں۔ یا خالی پلاسٹک بیگ اور شاپر اڑتے ہیں۔
نوجوان سارا دن تاش، لڈو، قطار گوٹی اور اب موبائل فون لے کر درختوں کے سائے تلے بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ کوئی محنت کا کام کر کے راضی نہی۔ اب کچھ رکشہ چلانے والے اور اکا دکا چھوٹے موٹے دکاندار ہی یہاں باقی بچے ہیں۔ باقی لوگ اب گاؤں چھوڑ چکے ہیں۔ پرانے پیشوں سے وابستگی اب یہاں باعث شرمندگی سمجھی جاتی ہے۔ اب کوئی بھی موچی، پاولی، نائی یا ترکھان کہلوانا پسند نہی کرتا۔ سب نے نئی ذاتیں اپنا لی ہیں۔ اس سب کے ذمہ دار ہمارے منفی اور حقارت پر مبنی رویے ہیں۔
جنہوں نے ان محنت کشوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہی چھوڑا کہ وہ متبادل شناختیں اپنا لیں۔ گھر زیادہ ہیں اور مکین کم۔ خوشحالی اور ترقی شہروں تک سمٹ چکی ہے۔ کل تک ہر چیز میں خود کفیل گاؤں والے اب ہر چیز دکانوں سے خریدنے پر مجبور ہیں۔ کاش دیہات میں رہنے والے کل کے خوشحال لوگوں نے غریب ہنر مندوں کو عزت دی ہوتی اور حکومتوں نے گاؤں دیہات کو بھی ملک کا حصہ سمجھا ہوتا، تو ماضی کے یہ خوشحال اور ہنستے بستے دیہات آج یوں ویران نہ ہوتے۔

