مستقبل کے معماروں کو کہاں دھکیلا جارہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہاتھ میں سیگریٹ اور ہوا میں دھواں اڑاتا ہوا یہ کم عمر لڑکا۔ لڑکے کی عمر شاید 13 یا 14 سال ہوگی، اسکول یونیفارم سے آٹھویں یا نویں جماعت کا ہی طالب علم معلوم ہوتا تھا، جس مہارت سے نو عمر لڑکا ہوا میں سگریٹ کے دھوئیں سے ہوا میں دائرے بنا رہا تھا لگتا تھا کہ اس نشے کا استعمال وہ پہلی بار نہیں کر رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر دل میں کہیں ایک چھبن سی ہوئی اور بس ایک خیال آیا کہ ہماری نوجوان نسل کو کس طرف دھکیلا جا رہا ہے؟ اس چھوٹی سی عمر میں اگر یہ لڑکا سگریٹ پی رہا ہے تو آگے اسے کوئی دوسری منشیات کے استعمال کا بھی کہے تو شاید یہ نو عمر لڑکا آسانی سے اس چنگل میں آجائے گا۔

تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے، اسے انسان کی پہچان کراتی ہے۔ لیکن افسوس ہوتا ہے جب یہ خبر نظروں کے سامنے سے گزرتی ہے کہ کسی تعلیمی ادارے میں منشیات کھلے عام فروخت ہو رہی ہے اور اس کا استعمال طلبہ اور طالبات میں ہو رہا ہے اور علم کے طالب ہی اس منشیات کو استعمال کر رہے ہیں یا سہولت کار کے طور پر کام کر کے اس نو جوان نسل کو اس لعنت کی طرف بلا رہے ہیں۔ اسکول کے بچوں سے لے کر یونیورسٹی کے طالب علموں کو منشیات کے استعمال میں لگا کر اس ملک کے مستقبل کو اندھیروں میں لے جایا جا رہا ہے۔ ہیروئن، کوکین، آئس وغیرہ جیسے منشیات کا استعمال صرف لڑکوں میں ہی نہیں لڑکیوں میں بھی مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ با شعور طلبا جانتے ہیں کہ یہ زہر انہیں دیا جا رہا ہے لیکن پھر بھی صرف چند لمحے کی خوشی یا تفریح کی خا طر اس زہر کو اپنی رگوں میں اتار رہے ہیں۔

منشیات کے استعمال کی وجہ جب خاص کر طلبا سے جاننے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ اکثر طلبا ڈپریشن سے نجات پانے کے لیے منشیات کے استعمال کی طرف جاتے ہیں۔ ایک وجہ یہ بھی سامنے آئی کہ تعلیمی ادارے کے باہر کسی نے انھیں سوست بن کر دی یا کراچی اور اسلام آباد کے پوش علاقوں میں ہونے والی جیسی کسی پارٹی میں انھوں نے شرکت کی اور وہاں کسی نام نہاد دوست کے کہنے پر ایک بار مفت میں اس نشے کا مزہ لیا گیا اور بعد میں اس کے عادی ہوگئے۔ اس نشے کے عادی افراد بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں برے نشے کے عادی افراد نہیں بلکہ ان کو اس لعنت کی طرف بلانے والے افراد ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں منشیات خاص کر ہیروئن کا استعمال سب سے زیا دہ ہے جس کی وجہ افغانستان سے جغرافیائی قربت ہے۔ لیکن صوبہ خیبر پختون خوا کی حکومت کی جانب سے گز شتہ دنوں صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں سگریٹ اور نسوار پر فوری طور پر پابندی کا فیصلہ قابل تعریف ہے۔ پاکستان میں کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹنسز ایکٹ 1997 ’میں منشیات کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت شقیں شامل کی گئیں جس کے تحت ایک کلو سے زیادہ منشیات رکھنے پر جج سزائے موت یا کم سے کم چودہ سال قید سے لے کر عمر قید تک سزا سنا سکتا ہے، اس کے علاوہ جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔

سزا کا دار و مدار نشے کی مقدار اور کوالٹی پر ہوتا ہے۔ یہاں ایک اور سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اتنے حکومتی اقدامات کے باوجود پاکستان کے ہر حصے میں منشیات فروشی اور نشہ کے استعمال کرنے والے افراد میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ کے تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کی خبریں ہمیشہ اخبار کی زینت بنتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ شاید سزا پر عملدرآمد نہ ہونا بھی ہے۔

ایک خبر جب نظروں سے گزری کہ پاکستان کی نامور یونیورسٹی سے منشیات فروشی میں ملوث 3 افراد گرفتار ہوئے جس میں غیر ملکی بھی ملوث پائے گئے۔ ایسے ہی پتا نہیں کتنے ہی اسکول، کالج اور جامعات میں منشیات جیسے غلیظ کاروبار کا نیٹ ورک پھیلا ہوا ہے جو ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہے ہیں۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی ہو رہی ہے، طلبا بھی اس کاروبار میں ملوث پائے جا رہے ہیں لیکن کیا جن تعلیمی اداروں میں یہ سرگرمیاں جاری ہیں ان کے سربراہ سو رہے ہیں؟ کتنی ذمے داری ان تعلیمی اداروں کے سربراہوں کی ہے؟

نامور تعلیمی اداروں میں خاص کر امیر طبقے کو منشیات فروش اپنا ٹارگٹ بناتے ہیں۔ تو کیا تعلیمی ادارے جو اتنی بھاری فیسیس لیتے ہیں ان پر یہ ذمے داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں میں منشیات جیسے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کمیٹی بنائیں، جو اس طرح کی مشکوک سر گرمیوں پر نظر رکھے اور منشیات استعمال اور فروش کرنے والے افراد کے گرد گھیرا تنگ کرے اور نوجوان نسل کو اندھیروں میں جانے سے روکے۔

منشیات کا استعمال اگرہمارے معاشرے میں بڑھتا جا رہا ہے تو اس کا ذمے دار کون ہے کیا اس میں بھی ہم اپنی حکومت کو ذمے دار ٹھہرا کر بری الذمہ ہوجائیں گے یا والدین کو قصور وار ٹھہرائیں جو اپنے جگر گو شوں کو تعلیم کی غرض سے بھیجتے ہیں لیکن وہ ہی بچے خود کو نشے کا عادی بنا کر ماں باپ کو اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ یا اس دکاندار کو جو کم عمر لڑکوں کو سگریٹ بیچتے ہیں؟ یا تعلیمی اداروں میں ناقص صورتحال کو جو منشیات کے کاروبار کو اپنے اداروں میں کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں یا اس مسئلے پر بھی بس دعا کرکے ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھ جائیں اور کسی غیبی مدد کا انتظار کریں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں