وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ دو دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شام کی سیاہی دن کے اجالے سے گلے مل رہی تھی جب میں نے دوست نواز شیراز درانی کو الوداع کہا۔ صبح چھ بجے جاگا ہوا تھا، دن بھر کام اورسفر کی تھکاوٹ تھی لیکن مجھے ڈیرہ غازی خان سے تونسہ پہنچنا تھا۔ رات تونسہ میں قیام کے بعد علی الصبح وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے آبائی گاؤں بارتھی روانگی تھی۔ کچھ دیر پہلے وزیرا علیٰ نے ڈیرہ غازی خان کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال میں نئے بلاک، موبائل ڈسپنسری اورڈیرہ غازی خان کے دوردراز پہاڑی علاقوں سے حاملہ خواتین کو گھر سے ہسپتال تک پہنچانے والے ایمبولینس دستے کا افتتاح کیا تھا اور اب وہ سرکٹ ہاؤس میں عوام کے منتخب نمائندوں سے مل رہے تھے جس کے بعد انہیں سرکٹ ہاؤس میں ہی ایک عوامی اجتماع سے بھی خطاب کرنا تھا۔

ڈیرہ غازی خان شہر سے کچھ دور ہی نکلا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر تونسہ چودھری نوید احمد کا فون موصول ہوا۔ رات تونسہ میں قیام اور بارتھی پہنچانے کے لئے ان کاعملہ رہنمائی کے لئے تیار تھا۔ وزیر اعلیٰ کے دورے میں مصروفیت کے باوجود ایک سرکاری افسر نے جس طرح خاکسار کی مہمان نوازی اور رہنمائی کی وہ خوشگوار حیرت کا باعث تھی۔

رات قیام رکن قومی اسمبلی خواجہ شیراز احمد کے گھر پر تھا۔ تونسہ سے بارتھی تک تقریبا پچاس کلومیٹر کا راستہ اس قدر دشوار گزار ہے کہ فور وہیل ڈرائیو گاڑی کے بغیر نہ صرف مشکل بلکہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے میں نے کار وہیں چھوڑی اور علی الصبح اسسٹنٹ کمشنر کی فراہم کی گئی فور وہیل ڈبل کیبن گاڑی میں بارتھی روانہ ہوا۔ ڈرائیور کلیم اللہ بلوچ مجھے بتا رہا تھا کہ جب دور پہاڑوں پر بارش کی وجہ سے رود کوہیوں میں پانی آتا ہے تو راستے بند ہوجاتے ہیں اور تونسہ سے وزیراعلیٰ کے گاؤں بارتھی پہنچنا نا ممکن ہوجاتا ہے۔

تونسہ سے بارتھی کا علاقہ اگر آپ نے نہیں دیکھا تو یوں سمجھئے کہ اسلام آباد سے مری کی طرف روانہ ہیں۔ فرق لیکن یہ ہے کہ ایک رویہ سڑک یہی کوئی دو تین عشرے پہلے تعمیر کی گئی تھی جو جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ چکی ہے۔ دو تین جگہ سے تو رود کوہی کے اندر پتھروں پر سے گاڑی گزارنا پڑتی ہے کیونکہ یہاں کسی پل کی ضرورت کسی حکومت یا منتخب نمائندے کو آج تک محسوس نہیں ہوئی۔

اس علاقے کے پہاڑ پانی کی کمی کے باعث خشک اور بے آباد نظر آتے ہیں۔ زمین کا حال یہ کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے۔ فصل کے لئے کچھ علاقہ باران رحمت کا منتظر رہتا ہے اور کہیں رود کوہی کا پانی جمع کر کے فصل کو سیراب کیا جاتا ہے۔ زمینی پانی بھی موجود ہے اور کہیں کہیں میٹھا بھی ہے لیکن نہ تو غریب عوام کے پاس موٹریں لگانے کے پیسے ہیں نہ آج تک کسی حکومت نے پانی فراہمی کی زحمت کی۔ غریب عورتیں صبح برتن لے کر نکلتی ہیں اور رودکوہی یا چشمے میں بہتا پانی لے کر گھنٹوں پیدل سفر طے کر کے گھروں کو پہنچتی ہیں۔ سچی بات ہے حالات دیکھ کر مجھے سائیں اختر حسین کی نظم ”اللہ میاں تھلے آ“ یاد آگئی۔

بارتھی میں وزیراعلیٰ کے آبائی گھر کے پاس ہی جلسے کا انتظام تھا جہاں عوام کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ کے لئے بھی فرشی نشست کا اہتمام تھا۔ وزیر اعلیٰ کا ہیلی کاپٹر نظر آیا تو مقامی افراد نے ڈھول کی تھاپ پر روایتی بلوچی تلواروں کے ساتھ رقص کرتے ہوئے سردار عثمان بزدار کا استقبال کیا۔

وزیراعلیٰ کا وہ گھر جس کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہاں بجلی تک نہیں اس کے سامنے لگے کھمبے پر نصب نیا ٹرانسفارمر ”میرے گاؤں میں بجلی آئی ہے“ کا اعلان کر رہا تھا۔ سردار عثمان بزدار نے ثابت کیا کہ وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے بعد سو دن کے اندر اندر بارتھی اور گردونواح میں تو تبدیلی آچکی تھی۔ سردار عثمان بزدار نے جلسے سے پہلے تقریبا ستر کلومیٹر سڑک کے دو منصوبوں، بارتھی کے رورل ہیلتھ سنٹر کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بنانے اور ڈیر ہ غازی خان کے قبائلی علاقوں میں ریسکیو 1122 سروس کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔

بارڈر ملٹری پولیس میں خالی اسامیوں پر بھرتی سمیت اور بھی بہت سے منصوبوں پر کام کے آغاز کا اعلان کیا گیا۔ مجھے خوشی اس وقت ہوئی جب وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے علاقے میں پانچ چھوٹے ڈیمز بنانے کا اعلان کیا۔ صاف ظاہر تھا کہ علاقے میں پانی موجود ہے تو ڈیم بنانے کا اعلان کیا گیا لیکن گزشتہ ستر برس میں کسی حکومت یا منتخب نمائندے کو اس کا خیال کیوں نہیں آیا؟

اس شہر کے منتخب نمائندے ہر دور میں وزیر بھی رہے اور فاروق خان لغاری تو صدر مملکت کے منصب پر بھی فائز رہے۔ گزشتہ دور میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی جنوبی پنجاب میں ترقیاتی کام تو کروائے لیکن اس شہر کی قسمت پھر بھی نہ بدلی۔ ثابت ہوا کہ تخت لاہور پر رائے ونڈ کی حکمرانی ہو یا مقامی نمائندوں کی، علاقے کی محرومیوں کا شکوہ بجا ہے۔

سوال مگر یہ ہے کہ یہ سارے کام جو مقامی حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہیں اس کے لئے ایک وزیراعلیٰ کی ضرورت کیوں؟ کیا ہمیں ہر پسماندہ علاقے کی قسمت بدلنے کے لئے باری باری وہاں کے نمائندوں کو وزیراعلیٰ بنانا پڑے گا؟ جواب سیدھا سا ہے کہ ہمارے ادارے مستحکم بنیادوں پر استوار نہیں ہیں۔ عوامی خدمت کے کم و بیش تمام اداروں کی مثال اس ضدی گدھے کی ہے جسے چابک کے زور پر ہی چلایا جانا ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آنے والا حکمران جانے والے حکمران پر نا اہلی، غفلت اور بدعنوانی کا الزام دھرتا ہے۔ بیورو کریسی کو بھی بری الذمہ قرار دینا ممکن نہیں کہ وہ بھی ہر آنے والے حکمران کی شان میں رطب اللسان ہوجاتی ہے اور خوشامد کے ہتھیار سے بچنا کسی کسی کا ہنر ہے۔

وزیراعلیٰ کا جلسہ ختم ہو چکا تھا اور مجھے اب تونسہ پہنچنا تھاجہاں سردار عثمان بزدار نے ایک اور جلسے سے خطاب کرنا تھا۔ تونسہ میں بھی وزیراعلیٰ نے سڑکوں کی تعمیر و توسیع اور پبلک ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کا افتتاح کیا۔ رات وزیراعلیٰ نے تونسہ میں ہی قیام کرنا تھا اور اگلے دن ملتان میں عوامی نمائندوں اور سیاسی کارکنوں سے ملاقات کرنا تھی سو مجھے راتوں رات ملتان پہنچنا تھا۔ ملتان روانگی کا قصد کیا تو رکن قومی اسمبلی خواجہ شیراز کے بھائی خواجہ فرخ مرتضیٰ نے مسکراتے ہوئے کہا کھانے کے بغیر تو نہیں جانے دوں گا۔

پر تکلف عشائیے کے بعد انہوں نے اگلی ملاقات کا وعدہ کیا اور میں ان کی محبتوں کا قرض لے کر اس دعا کے ساتھ ملتان روانہ ہوا کہ اس علاقے کے باسی عثمان بزدار کے سبب ہی سہی اب اس علاقے کے مہمان نواز عوام کی محرومیاں کسی طرح ختم ہوجائیں۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے علاقے تونسہ کی پہچان اور شہرت بلند مرتبہ صوفی بزرگ خواجہ سلیمان تونسوی ؒکے سبب ہے۔ تخت لاہور بھلے تخت سلیمان میں بدل جائے لیکن عوام کی محرومیاں ختم ہونی چاہئیں اور یہ محرومیاں تبھی ختم ہوں گی جب عوام کو بنیادی ضروریات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے ذمہ دار اداروں کو یہ ذمہ داری نبھانے کے قابل بنا دیا جائے گا۔ میری دعا ہے اب کی بار محرومیوں کا یہ سفر ختم ہوجائے۔ دیکھئے خاکسار کی دعا قبولیت کا شرف پاتی ہے یا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •