فہمیدہ ریاض اور مشرقی عورت کی کہانی
اس نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو اپنے آپ کو روایات کی اونچی دیواروں میں گھرے ہوئے پایا۔ ان روایات نے اس سے پہلے بھی کئی نسلوں کو اپنے حصار میں گھیر رکھا تھا۔
وہ ایسے ماحول میں پلی بڑھی جہاں ظلم اور جبر کی حکمرانی تھی۔ انسانوں کی سوچوں پر پہرے اور زبانوں پر تالے لگائے گئے تھے۔ عورتوں کے حقوق‘ ان کی آزادی اور ان کی خودمختاری کی قدریں پا بہ زنجیر تھیں۔
اس نے جب نوجوانی کے دور میں قدم رکھا اور اپنی ذات سے آگہی اور انسانی رشتوں کے راز ہائے سربستہ سے آشنائی حاصل کرنے کی کوشش کی تو تھوڑی ہی دور جا کر اسے زور سے ٹھوکر لگی اور اسے احساس ہوا کہ اس کے ماحول نے جو مشرقی شرم و حیا اسے ماں کے دودھ کی طرح پلائے ہیں اس کی شریانوں میں خون کی طرح گردش کر رہے ہیں اور وہ اسے اپنی ذات کے اظہار سے روک رہے ہیں
؎ یہ مری سوچ کی انجان کنواری لڑکی
غیر کے سامنے کچھ کہنے سے شرماتی ہے
اپنی مبہم سی عبارت کے دوپٹے میں چھپی
سر جھکائے ہوئے کترا کے نکل جاتی ہے
یہی وہ شرمیلا پن تھا جس کی وجہ سے وہ صبح آئینہ دیکھنے سے اور شام کو گھر سے باہر نکلنے سے گھبراتی اور راستے میں کوئی مرد مل جائے تو راستہ کاٹ کر گزر جاتی لیکن جب وہ رات کو چاند ستاروں سے سرگوشیاں کرتی تو رات اسے جی بھر کے چھیڑتی۔
؎ ہزار اچھوتے کنوارے سپنے
نظر میں اسکی چمک رہے تھے
شریر سی رات اس کو چپکے سے وہ کہانی سنا رہی تھی
کہ آج
وہ اپنی چوڑیوں کی کھنک سے شرمائی جا رہی تھی
وہ مشرقی لڑکی جس کے ذہن میں کنوارے سپنے اور دل میں معصوم جذبے انگڑائیاں لے رہے تھے ہر شام کسی انجانے محبوب کی منتظر رہتی تا کہ اس کی آنکھوں میں جھانک کر اپنی ذات سے متعارف ہو سکے۔
؎ سکوتِ شام ہے اور میں ہوں گوش بر آواز
کہ ایک وعدے کا افسوں سا ہے فضائوں میں
لیکن اس نے نجانے کتنی شامیں انتظار کرتے ہوئے گزار دیں لیکن کوئی محبوب نہ آیا۔
اس نے نجانے کتنے دن گہری سوچوں میں گزار دیے اور اس کے خوابوں نے تعبیروں کا روپ نہ ڈھالا۔
اس نے نجانے کتنے موسم آہیں بھرتے ہوئے گزار دیے اور اس کے آنگن میں وصل کا کوئی پھول نہ کھلا۔
آخر اس کی تنہائی کی آنکھوں میں درد و غم کے ڈورے گہرے ہونے لگے اور تشنہ آرزوئیں آنسو بن کر آنکھوں سے چھلکنے لگیں۔
؎ غالیچوں کے ساتھ بھلا ناری کب تک سوئے گی
بے شک رات کی تنہائی میں چھپ چھپ کر روئے گی
آخر جب اس کے انتظار اور صبر کے پیمانے چھلک پڑے تو وہ خود ہی اپنے محبوب کی تلاش میں نکل پڑی
؎ مری چنبیلی کی نرم خوشبو
ہوا کے دھارے پہ بہہ رہی ہے
ہوا کے ہاتھوں میں کھیلتی ہے
ترا بدن ڈھونڈنے چلی ہے
آخر ایک شام اس کی اپنے محبوب سے ملاقات ہوتی ہے اور وہ اس کی جانب مقناطیسی کشش سے کھنچی چلی جاتی ہے۔
وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔۔۔باتیں کرتے ہیں۔۔۔۔دل کی بپتا سناتے ہیں۔۔۔باغوں کی سیر کرتے ہیں۔۔۔۔غروبِ آفتاب کے منطر سے محظوظ ہوتے ہیں۔۔۔جھیلوں میں کنکر پھینکتے ہیں۔۔۔۔آتش دانوں میں لکڑیاں جلاتے ہیں۔۔۔۔جذبات سے مغلوب ہو کر بغلگیر ہو جاتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کے ہونٹوں اور زبانوں سے شباب کی شراب پی کر ازلی و ابدی پیاس بجھاتے ہیں
زبانوں کا بوسہ
زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے
یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبو
یہ بدمست خوشبو جو گہرا غنودی نشہ پلا رہی ہے
یہ کیسا نشہ ہے
ان قربتوں کے لمحوں سے وہ ایک عجیب و غریب لذت سے آشنا ہوتی ہے ایسی لذت جس کے لیے فطرت اسے برسوں سے تیار کر رہی تھی۔۔
۔۔۔ابد
یہ کیسی لذت سے جسم شل ہو رہا ہے میرا
یہ کیا مزا ہے کہ جس سے ہے عضو عضو بوجھل
یہ کیف کیا ہے کہ سانس رک رک کے آرہا ہے
یہ میری آنکھوں میں کیسے شہوت بھرے اندھیرے اتر رہے ہیں
لہو کے گنبد میں کوئی در ہے کہ وا ہوا ہے
جب وہ اپنے کوچہِ محبوب میں بہت دور تک نکل جاتی ہے تو اس کے چاروں طرف زلزلے آنے لگتے ہیں۔اس کے دوست‘ اس کے ہمسائے‘ اس کے رشتہ دار اس پر طنز و تضحیک کے تیر پھینکنے لگتے ہیں اور اسے گناہ و ثواب کے جال میں الجھا دیتے ہیں۔ ماحول کی تنگدلی اور کم ظرفی کا اس پر اتنا اثر ہوتا ہے کہ وہ اپنی معصوم خواہشوں کو خود ہی شک کی نگاہ سے دیکھنے اور اپنے پاکیزہ جذبوں کی تکمیل کی طرف پہلے قدم کو بھول سمجھنے لگتی ہے
زادِ راہ
چھپے ہوئے ہیں اندھیروں میں وسوسے کیا کیا
ہر ایک خضر پہ رہزن کا شک گزرتا ہے
ہر آستین میں خنجر دکھائی دیتا ہے
پرے سرکتا ہی جائے گا کیا سحر کا افق
ہماری جراتِ آغاز‘بھول تھی شاید !
جہاں ایک طرف ماحول کا خوف آسیب بن کر اس کے ذہن پر سوار ہو جاتا ہے وہیں دوسری طرف وصل کے لمحوں کا خمار اسے دن رات سرشار رکھتا ہے۔ وہ جتنا بھی انکار کرنا چاہے اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکتی۔
؎ ہاں دہن میں ہے ذائقہ ان بوسوں کا۔۔
جن کو چکھنے سے بھی انکار کیا تھا دل نے
میری رگ رگ میں وہ سیال رواں ہے ابتک
جس سے بچ جانے پہ اصرار کیا تھا دل نے
اسے یہ جاننے میں دیر نہیں لگتی کہ وہ اس تنگ نظر ماحول میں اکیلی نہیں ہے بلکہ اس کی طرح سینکڑوں‘ہزاروں اور لاکھوں ایسی عورتیں ہیں جنہیں اپنی خواہشوں ‘ آرزوئوں اور خوابوں پر کوئی اختیار نہیں۔
چنانچہ اس کے لیے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچتا کہ وہ اپنی محرومیوں اور مجبوریوں کے خلاف بغاوت اور احتجاج کی آواز بلند کرے۔ اسے یہ جان کر حیرانی ہوتی ہے کہ جن لوگوں نے کبھی احتجاج کا نعرہ نہ لگایا ہو وہ کبھی یہ نہیں جان سکتے کہ یہ کیسی دلخراش صدا ہوتی ہے۔ یہ نعرہ بلند کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ محسوس کرنے اور صدائے احتجاج کے لب تک آنے کے دوران آدمی پر کیا گزرتی ہے اس سے وہ واقف نہیں ہو سکتے۔
جب جب وہ بغاوت کا نعرہ بلند کرتی رہی تب تب اس پر پتھر برستے رہے۔کبھی اپنوں کے کبھی بیگانوں کے کبھی سیاسی حکمرانوں کے کبھی مذہبی رہنمائوں کے۔
وہ ان پتھروں سے بچنے کے لیے اپنے محبوب کی طرف بڑھتی ہے لیکن اسے احساس ہوتا ہے کہ جس رشتے پر اسے ناز تھا وہ دھاگے سے بھی کچا نکلا۔
؎ پھر بھی سوچیں تو مجھے آْپ سے نسبت کیا ہے
کچے دھاگے کا یہ بے نام سا اک رشتہ ہے
وہی محبوب جسے اس نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا
اب سو جائو
اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
تم چاند سے ماتھے والے ہو
اور اچھی قسمت رکھتے ہو
اسی محبوب کی قربت سے اسے ندامت محسوس ہونے لگتی ہے۔یہ علیحدہ بات کہ ندامت سے پہلے کا لمحہ اس کے دل میں فروزاں رہتا ہے
مگر ندامت کے تلخ سے ذائقے سے پہلے
گناہ کی بے پناہ لذت
وہی گناہ جس نے آدم کو جنت سے آزادی دلوائی تھی وہی گناہ زمین پر حوا کی آزادی کا پیش خیمہ بنتا ہے اور اس کے لیے رہائی کی زندگی استوار کرتا ہے۔ یہی گناہ اسے ماں بننے کی عظمتوں کو چھونے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے اور وہ اپنے محبوب سے کہتی ہے
؎ میرے اندر اندھیرے کا آسیب تھا
یا کراں تا کراں ایک انمٹ خلا
یوں ہی پھرتی تھی میں
زیست کے ذائقے کو ترستی ہوئی
دل میں آنسو بھرے‘ سب پہ ہنستی ہوئی
تم نے اندر مرا اس طرح بھر دیا
پھوٹتی ہے مرے جسم سے روشنی
اور جب وہ حاملہ ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی تخلیق کر رہی ہوتی ہے تو اپنے اس تخلیقی سفر میں اپنے محبوب کو شریک کرنا چاہتی ہے۔ وہ اسے دعوت دیتے ہوئے کہتی ہے
لائو ہاتھ اپنا لائو ذرا
چھو کے میرا بدن
اپنے بچے کے دل کا دھڑکنا سنو
ناف کے اس طرف
اس کی جنبش کو محسوس کرتے ہو تم؟
بس یہیں چھوڑ دو
تھوڑی دیر اور اس ہاتھ کو میرے ٹھنڈے بدن پر یہیں چھوڑ دو
وہ اپنی ماں بننے کے خیال سے سرشار رہتی ہے اور دن رات گنگناتی ہے
سوتا رہ
میرے لال
میری گرم کوکھ میں
سوتا رہ
کتنی دور دور تک
پھیل گئی جڑ تری
اور بہت گہری
اور بہت گہری
سارے تن میں تو ہے
میرے لال میرے لال سوتا رہ
آہستہ آہستہ اسے احساس ہوتا ہے کہ وہی مرد جو اس کے حسن اور قربت سے مخمور رہا کرتا تھا چند سالوں کا مہمان تھا اور ان وفاداریوں سے ناآشنا تھا جن کی وہ متمنی تھی۔اس کے لیے یہ خیال ہی سوہانِ روح بن جاتا ہے کہ ایک دن جب اس کی آنکھوں کی شوخی‘ چہرے کی تازگی اور جسم کی شگفتگی ختم ہو جائےگی تو اس کا محبوب کسی اور حسینہ کی آغوش میں جا سوئے گا۔ آخر ایک دن وہ جراتِ رندانہ سے کام لے کر اس سے دو ٹوک پوچھ ہی لیتی ہے
کب تک مجھ سے پیار کرو گے
کب تک؟
جب تک میرے رحم سے بچے کی تخلیق کا خون بہے گا
جب تک میرا رنگ ہے تازہ
جب تک میرا انگ تنا ہے
پر اس سے آگے بھی تو کچھ ہے
وہ سب کیا ہے
کسے پتہ ہے
وہیں کی اک مسافر میں بھی
انجانے کا شوق بڑا ہے
پر تم میرے ساتھ نہ ہوگے تب تک
وہ جانتی ہے کہ وہ دن بھی آئے گا جب اس کی تنہائی اسے بے چین کر دے گی اور وہ ساری ساری رات زخم چاٹتی ریے گی۔
رات تلملاتی ہے
بے بسی کے پنجے میں
ہانپتی غصیلی رات
پنکھ پھڑ پھڑاتی ہے
میری کوکھ میں ہر آن
پل رہا ہے سناٹا
اور میری تنہائی
چوستی ہے سینے سے
گرم دودھ کا دھارا
عمر بھر کی کرواہٹ
پوچھنے لگی اک بار
زہر یہ بھی پینا ہے
ساری رات جینا ہے
جب وہ سوچ کی ان سرحدوں پر پہنچ جاتی ہے تو اس کے اندر طنز اور تلخی بھرنے لگتے ہیں۔اسے احساس ہوتا ہے کہ مرد نے صدیوں سے اسے یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ وہ آدم کی پسلی سے پیدا ہوئی تھی اور اس کی فطرت میں کجی تھی جس کی بنا پر وہ ہر دور میں مصائب کا شکار رہی تھی لیکن وہ اس کجی پر بھی فخر کرنے لگتی ہے
چھوٹی وصال و فراق سے میں
انجان ڈگر پر چل رہی ہوں
ہاں میرے خمیر میں کجی تھی
میں خوش ہوں کہ اب بھٹک رہی ہوں
آخر وہ تنہائی کے سفر کے اس موڑ تک پہنچ جاتی ہے جہاں مرد کی قربت سے مایوس ہو کر اپنی ذات میں کھو جاتی ہے اور مرد سے کسی خواہش‘کسی جذبے‘ کسی خواب اور کسی آرزو کی تکمیل کی امید نہیں رکھتی۔
پتھر سے وصال مانگتی ہوں۔۔۔۔۔میں آدمیوں سے کٹ گئی ہوں
وہ خواہشِ بوسہ بھی نہیں اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیرت سے ہونٹ کاٹتی ہوں
زندگی کے اس موڑ تک پہنچتے پہنچتے وہ مردوں کی عادتوں‘ طرزِ زندگی اور سوچ کے انداز سے بخوبی واقف ہو جاتی ہے اور خود اعتمادی کے اس زینے پر جا کھڑی ہوتی ہے جہاں وہ مردوں کو آئنیہ دکھا سکے
مقابلہِ حسن
کولہوں میں بھنور جو ہیں تو کیا ہے
سر میں بھی جستجو کا جوہر
تھا پارہِ دل بھی زیرِ پستاں
لیکن مرا مول ہے جو ان پر
گھبرا کے نہ یوں زیرِ پا ہو
پیمائش میری ختم ہو جب
اپنا بھی کوئی عضو ناپو !
وہ ساری عمر ایسے مرد کی تلاش میں تھی جو خود دار ہو‘ عورت کی عزت کرنا جانتا ہو‘ تعصبات سے بالا تر ہو‘ مرد اور عورت کے رشتے کو حاکم و محکوم‘ بادشاہ اور کنیز‘ آقا اور غلام کے رشتے کی بجائے دو دوستوں‘ دو ہمرازوں‘ دو محبوبوں اور دو ہمسفروں کا رشتہ جاتنا ہو لیکن جب وہ اپنے ماحول پر نگاہ ڈالتی ہے تو اسے دور دور تک کوئی ایسا مرد نظر نہیں آتا
یہ زنِ نغمہ و عشق شعار
یاس و حسرت سے ہوئی ہے حیراں
کس سے اب آرزوٗے وصال کرے
اس خرابے میں کوئی مرد کہاں
جوں جوں اس کا سماجی شعور ارتقا کی منازل طے کرتا ہے اسے احساس ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف ایک مرد کا نہیں اس ماحول کا ہے جس کی تاریخی سیاسی مذہبی اور معاشرتی روایات میں ناانصافی ‘تعصب اور ظلم خون کی طرح گردش کرتے ہیں۔ وہ جانتی ہے کہ جب تک وہ روایات نہ بدلیں گی اور منصفانہ اور عادلانہ ماحول تیار نہیں ہوگا مردوں اور عورتوں کے رشتے صحتمند بنیادوں پر استوار نہیں ہوں گے۔ اسے احساس ہے کہ وہ ایسے وطن میں زندگی گزار رہی ہے جہاں ہر طرح کے جذبات کے اظہار پر پابندیاں ہیں
۔۔۔میرے وطن میں
کل کھل کر رونے پر پابندی لگائی گئی تھی
مگر آج کھل کر ہنسنا بھی منع ہے
اور ہم
جو نہ رو سکتے ہیں اور نہ ہنس سکتے ہیں
صرف تم کو ہی دیکھتے ہیں
تو جو ہماری رازداں ہے
اے سر زمینِ وطن
کمال کی بات یہ ہے کہ ان ذاتی اور اجتماعی‘ انفرادی اور معاشرتی مسائل کے باوجود وہ پر امید ہے اس کا انسانی ارتقا پر ایمان ہے وہ جانتی ہے کہ مشرق کی یہ اسیر شہزادی ایک دن آزاد ہو جائے گی۔ وہ کہتی ہے
سنگ دل رواجوں کی
یہ عمارتِ کہنہ
اپنے آپ پر نادم
اپنے بوجھ سے لرزاں
جس کا ذرہ ذرہ ہے
خود شکستگی ساماں
سب خمیدہ دیواریں
سب جھکی ہوئی کڑیاں
سنگ دل رواجوں کے
خستہ ہال زنداں میں
اک صدائے مستانہ
ایک رقصِ رندانہ
یہ عمارتِ کہنہ ٹوٹ بھی تو سکتی ہے
یہ اسیر شہزادی چھوٹ بھی تو سکتی ہے
وہ اس لیے بھی پر امید ہے کہ وہ ماں ہے اور ماں دھرتی ماں کی طرح کبھی مایوس و ناامید نہیں ہوتی کیونکہ وہ نامساعد حالات کے باوجود اپنی کوکھ میں نئی زندگی تخلیق کرتی ہے
کیا میں نہ جانوں گی
کہ ہر نشست کا آخری گیت
ہمیشہ امید کا گیت ہوتا ہے
جو تاریخ خود گاتی ہے شاعر کے کلام سے
میری دھرتی دکھی سہی مگر نراش؟
نہیں نہیں ! بھلا بچوں والی کا مایوسی سے کیا ناتہ !
مختصر یہ کہ فہمیدہ ریاض شاعری میں مشرقی عورت کی کہانی رقم ہے۔ اس کے کلام میں عورتوں کی آزادی‘ خود اعتمادی اور خود مختاری کی جدوجہد کی حقیقت بھی ہے اور اس معاشرے کا خواب بھی ہے جس میں انسانوں کا احترام اور ان کے حقوق کا تحفظ بنیادی قدر سمجھا جائے گا اور عورتیں دوسرے درجے کی شہری نہ ہوں گی۔
علی سردار جعفری نے چند سال پیشتر اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس وقت اردو میں سب سے اچھا ادب خواتین تخلیق کر رہی ہیں۔ فہمیدہ ریاض بھی انہی ادیبوں اور شاعروں میں سے ایک ہیں جن پر اردو ادب بجا طور پر فخر کر سکتا ہے۔


