تقدیر محنت کی عاشق ہے


کہتے ہیں جب دوستی پرانی ہو جائے تو خاموش صحبت میں بھی بڑا لطف ہوتا ہے۔ ایسی ہی حالت ہماری مرزا صاحب کے ساتھ ہے۔ اس اتوارکو کو بہت دنوں کے بعد استنبول کا مطلع صاف تھا اور ہم دونوں خاموش بیٹھے دھوپ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ نہ جانے مجھے کیا سوجھی مرزا صاحب سے پوچھ بیٹھا ”یار ہماری زندگیوں میں سکون کب آئے گا میرا مطلب ہے ہم زندگی سے کب مطمئن ہوں گے؟ “ اور یہ کہ ”میں نے سب سے زیادہ مطمئں نچلے طبقے کے لوگوں کو دیکھا ہے۔

جتنے وہ اپنی زندگی سے خوش ہوتے ہیں اور کوئی نہیں ہوتا۔ جب آپ ان سے ملتے ہو تو آپ کو نظر آتا ہے کتنا سکون ہے ان کی زندگیوں میں۔ مثال کے طور کسی بھی محکمے کا قاصد جتنا مطمئن ہوگا اس کا افسر اتنا ہی غیر مطمئن۔ آپ مڈل کلاس کے لوگوں کو دیکھو ہر وقت اضطراب کی کیفیت میں کبھی ادھر بھاگ کبھی ادھر بھاگ گویا سکون نام کی کوئی چیز ہی ں ہیں۔ بس اتنا کہنا تھا کہ میں نے گویا راجہ صاحب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔

کہنے لگے تمہں پتہ ہے کہ سکون اور اطمینان انسان کے لیے کس قدر نقصان دہ ہیں۔ ذرا تصور کرو اگر انسان میں اللہ تعالی نے مطمئن ہونے کی صلاحیت رکھی ہوتی تو آج تک ہم جنگلوں اور غاروں میں رہ رہے ہوتے اور پتوں کو بطور لباس استعمال کر رہے ہوتے۔ یہ جو ہر روز نئی نئی ایجادات تمہیں نظر آتی ہیں ان کے پیچھے ایک ہی چیز کارفرما ہے وہ ہے اضطراب، بہتر سے بہتر کی جستجو۔ یعنی ”ہر ایک ذرہ یہ کہہ رہا ہے کہ آ مجھے آفتاب کر دے“

میں نے بھی اپنے آپ کو راجہ صاحب کا لیکچر سننے کے لیے ذہنی طور پر تیار کر لیا کہ اب ”اوکھلی میں سر دیا ہے موسلی سے کیا ڈرنا“۔

کہنے لگے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم زندگی میں سکون چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ بس کوئی ایسا کام ہو کے زیادہ تگ و دو نا کرنی پڑے اور ہم سکون سے زندگی گزار دیں، محنت نہ کرنی پڑے، ہم زندگی کو جینا نہیں چاہتے بلکہ گزارنا چاہتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے اقبال شاہیں کے رومانس میں کیوں گرفتار تھے؟ میں نے کہا ہاں شاہین چونکہ بڑا خوددار پرندہ ہے اور مردار نہیں کھاتا بلکہ زندہ پرندوں کو شکار کرتا ہے۔ کہنے لگے بات تو تونے ٹھیک کی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے لوگوں نے اقبال کے اصل مقصد کی طرف جانے کی بجائے اس کی خونخواری پر زیادہ توجہ دی ہے ابھی اپنے فقرے پر ہی غور کر لو کہ وہ زندہ پرندوں کا شکار کرتا ہے حالانکہ اقبال کا مطمح نظر شاہین کا شکار نہیں بلکہ اس شکار کے پیچھے وہ محنت ہے جو وہ اس شکار کے لیے کرتا ہے۔ ”کیا مطلب؟ “ میں نے کہا۔ کہنے لگے تو نے اقبال کو وہ شعر بہت سے واعظوں اور خطیبوں سے سنا ہوگا کہ

؎ جو کبوتر پر جھپٹنے میں مزا ہے اے پسر!
وہ مزا شاید کبوتر کے لہو میں بھی نہیں

اب اس شعر کو پڑھیں یا کسی سے سنیں تو اس سے خونخواری ٹپکتی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ بس اقبال چاہتے تھے انسان کو شاہین کی طرح خونخوار ہونا چاہیے جب کہ اصل مسئلہ اس وقت واضح ہو گا جب آپ اقبال کی یہ نظم پوری پڑھیں گے اور آپ کو پتہ چلے گا کہ ان کا اصل پیغام ہے کیا اور ہم نے کیا اخذ کر لیا ہے۔ اب چونکہ میں نے تو پوری نظم پڑھی نہیں تھی اس لیے راجہ صاحب کی بات پر خاموش رہا تو بولے تم نے پڑھی تو ہوگی لیکن میں یادہانی کے لیے تمہیں پھر سناتا ہوں۔

بچہء شاہین سے کہتا تھا عقاب سالخورد
اے تیرے شہپر پہ آساں رفعت چرخ بریں
ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام
سخت کوشی سے ہے تلخ زندگانی انگبیں
جو کبوتر پر جپھٹنے میں مزا ہے اے پسر!
وہ مزا شاید کبوتر کے لہو میں بھی نہیں

اس نظم کا عنوان ہے ”نصیحت“ اور اس میں اقبال نے بوڑھے شاہین کی شکل میں چھوٹے شاہین یعنی اپنی قوم کے نوجوانوں کو پیغام دیا ہے جو کہ اس نظم کے دوسرے شعر میں پنہاں ہے یعنی سخت کوشی، محنت اور لگن۔ لیکن مجال ہے کہ اقبال کا یہ شعر واعظوں، خطیبوں اور دانشوروں نے قوم کا سنایا ہو بس آخری شعر سناتے ہیں جس کا اصل مقصد دوسرے شعر میں پنہاں پیغام کو تقویت دینا تھا ہم نے اسے ہی پیغام بنا لیا۔ دیکھا تم نے کس طرح ہم سیاق و سباق سے چیزوں کو الگ کر کے اس طرح پیش کرتے ہیں کہ اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔

ہمارے ہاں لوگوں کا کام کے بارے میں رویہ اتنا منفی ہے کہ کوئی جتنا فارغ رہتا ہے اتنا ہی کامیاب گردانا جاتا ہے اور محنت کرنے والے کی گویا کو سوشل لائف نہیں ہے۔ کسی سے نوکری کے بارے میں پوچھا جائے تو یا تو کہے گا کہ کام بہت تھوڑا ہوتا ہے نوکری بہت مزے کی ہے یا پھر کہے گا کہ نوکری کا کیا بتائیں جی کام بہت زیادہ ہوتا ہے ”کن کھرکن دی واہ کوئی نی“۔ کام کر کے راضی نہیں ہیں اور جب کچھ حاصل نہیں ہوتا تو تقدیر کو الزام دے کر اپنے آپ کو مطمئن کر لیتے ہیں۔

میری نظر میں تو ہم نے اپنی سہولت کے لیے تقدیر کے معنی بھی بدل دیے ہیں۔ میں ہمہ تن گوش راجہ صاحب کو سن رہا تھا اور انہوں نے دیکھا کہ لوہا کافی گرم ہے تو ابن اعرابی سے منسوب ایک قول ٹرکش زبان جڑ دیا جس کا آسان ترجمہ یہ بنتا ہے کہ ”تقدیر محنت پر عاشق ہے“۔ مرزا اس کے بعد خاموش گئے اور میں مرزا کی باتوں کے سحر میں کہیں کھو گیا۔ تھوڑی دیر بعد مرزا صاحب کی آواز کان میں پڑی تومیں چونکا۔ کہہ رہے تھے ”یارپروفیسر کام بہت دیتا ہے، میں تو تنگ آگیا ہوں“۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں