ڈپریشن اور خود کُشی کا بڑھتا ہوا رجحان


اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسی ایک امن پسند قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر مغربی دنیا میں پاکستانیوں کی پہچان تشدد اور شدت پسندی بن چکی ہے۔ حقیقت کچھ بھی ہو مگر مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت اور بگڑتی ہوئی ملکی صورتحال نے عوام میں عدم برداشت کو بہت زیادہ فروغ دیا ہے اور لوگ اپنی زندگیاں ختم کرکے اس ساری صورتحال سے فرار چاہتے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ڈپریشن ایک نفسیاتی مرض کا نام ہے۔ عرف عام میں اسی مایوسی کہا جاسکتا ہے۔ یہ بیماری آپ کے اندر سے جینے کی چاہ اور حالات و واقعات سے لڑنے کی ہمت کو ختم کردیتی ہے۔ ڈپریشن کی کچھ واضح علامات میں نیند کی کمی، ہر وقت اداس اور خفا رہنا، اپنے وجود کے نا ہونے کا احساس ہونا اور خود کو بیکار تصور کرنا، کسی بھی چیز کو توجہ نہ دے پانا اور یاداشت کا کمزور ہونا، لوگوں سے ملنے جلنے سے اجتناب کرنا اور بھوک کا مٹ جانا شامل ہیں۔ اور یہی جسمانی تبدیلیاں وہ خطرناک علامات ہیں جو ایک اچھے بھلے انسان کو بستر مرگ تک پہنچا سکتی ہیں۔

ڈپریشن کی وجوہات کی بات کی جائے تو پہلی وجہ کیمیائی تبدیلی ہے یعنی آپ کے دماغ کے اہم حصے میں موجود نیورو ٹرانسمیٹرز میں فرق آجانا ہے جو آپ کے موڈ کو متوازن رکھ رہے ہوتے ہیں۔ دوسری وجہ جینیاتی ہے یعنی اگر آپ کے خاندان میں کسی کو ڈپریشن ہو تو پھر آئیندہ یا موجودہ نسل میں بھی وراثتی طور پر پایا جاسکتا ہے۔ تیسری وجہ آپ کی شخصیت ہے، اگر آپ کی شخصیت کچھ اس طرح کی بن چکی ہے کہ آپ چھوٹی چھوٹی باتوں پر حد سے زیادہ پریشان ہوتے ہیں، منفی باتوں پر بہت زیادہ غور کرتے ہیں اور آپ کی خود اعتمادی بتدریج کم ہورہی ہے تو آپ بہت آسانی سے ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ چوتھی اور آخری وجہ ماحولیاتی عناصر ہیں۔ مسلسل جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہونا، گھریلو ماحول کا خراب ہونا، مسلسل ناکامیاں، کسی بہت ہی عزیز شخص کی جدائی، والدین یا اپنوں کی غفلت، اور معاشی مسائل بھی ڈپریشن کا باعث ہوسکتے ہیں۔

اسلامی روُ سے خودکشی حرام اور ناقابل بخشش گناہ ہے اور بحیثیت مسلمان ہم اگلی زندگی اور موت کے بعد دوبارہ اُٹھائے جانے پر ایمان بھی رکھتے ہیں۔ لیکن کیا وہ تمام لوگ جو یہ حرام موت مر چکے ہیں وہ حلال اور حرام کا فرق بھول چکے تھے؟ کیا وہ سب مسلمان نہیں تھے؟ نہیں، وہ مسلمان تھے مگر مایوس تھے اور مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا، جو مایوس ہو جائے وہ مومن نہیں رہتا، شاید اسی لیے مایوسی کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ جب انسان ایک دروازہ کھٹکا کر یہ تسلیم کرلیتا ہے کہ اور کوئی دروازہ ہے ہی نہیں تب اسے مایوسی کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا اور زندگی کے خاتمے کو ہی آخری حل سمجھنے لگتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ”ہم نے انسان کو کمزور پیدا کیا ہے“ (البقرہ) ۔ شاید اسی سبب انسان چھوٹی چھوٹی باتوں پر بے ساختہ مایوس ہو کر غلط فیصلے کرنے لگتا ہے اور جلد بازی میں لیے گئے فیصلے ہمیشہ اپنے پیچھے پچھتاوے چھوڑتے ہیں۔

پاکستان میں خودکشی کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو گھریلو ناچاقی اور طلباء کی امتحانی نتائج میں ناکامی دو اہم وجوہات نظر آتی ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ آپسی تعلقات کو مضبوط اور خوشگوار بنائیں تا کہ گھریلو ماحول ہر طرح کی بدمزگی اور ذہنی تناؤ سے پاک ہو۔ بچے گھر سے ہی سیکھتے ہیں، کوشش کریں باہمی اختلافات کو خلوت میں افہام و تفہیم اور بات چیت کے ذریعے سلجھائیں۔ مثبت رویہ اور محبت کی زبان ایسی طاقتیں ہیں جن سے دنیا کا ہر مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

اپنے بچوں کو ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ اور تنقید کے بجائے پیار سے سمجھائیں کہ وہ خود میں کیسے بہتری اور سدھار لاسکتے ہیں۔ آپ کی اولاد عمر کے کسی بھی حصے میں ہو گھر کا ماحول بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر آپ کا ذہن ہمہ وقت ذہنی دباؤ میں رہنے کا عادی ہوجائے تو ایسی صورت میں مایوسی وبالِ جان بن جاتی ہے۔ زندگی کی پریشانیوں سے چھٹکارے کے لیے خودکشی کے نئے نئے خیال آنے لگتے ہیں۔ اگر آپ ایسی حالت سے دوچار ہوں تو آپ کو چاہیے کہ خود کو ہر کام سے چھٹی دے کر ایک پرسکون جگہ پر بیٹھ جائیں۔

آنکھیں بند کرکے ذہن سے تمام منفی سوچوں کو ایک ایک کر کے باہر نکلنے کا راستہ دیں۔ گہری سانس لیں اور یہ عمل کئی بار کریں پھر ٹھنڈے دماغ سے مسائل کا حل ڈھونڈئیے، تمام ممکنہ آپشنز کو سامنے رکھیئے اور سب سے آسان اور موزوں ترین آپشن کو چُن لیجیے اور اس پر قائم رہیئے۔ آپ کے مسائل کے حل کے دروازے خود بخود کھلتے چلتے جائیں گے۔

خوش قسمتی سے ڈپریشن ایک قابل علاج مرض ہے۔ 80 سے 90 فیصد مریض مناسب علاج اور معیاری کاؤنسلنگ سے دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ اس بیماری سے خود کو اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کو بچائیں اور اگر کوئی شخص اس پریشانی کا شکار نظر آئے تو اسے اس کی سزا دینے کے بجائے کسی اچھے ماہر نفسیات سے استفادہ کرنے پر راضی کریں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے یہاں ذہنی پریشانیوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اور ذہنی امراض کے ڈاکٹروں کو پاگلوں کا ڈاکٹر اور ان کے پاس جانے والے ہر پریشان حال شخص کو پاگل قرار دیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آدھے سے زیادہ لوگ اپنی ذہنی الجھن کو خود بھی سنجیدہ نہیں لیتے اور علاج کو توہین سمجھتے ہیں۔ نفسیاتی بیماریوں کے علاج کا رواج نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ 20 کروڑ آبادی کے ملک میں صرف 400 ماہرنفسیات موجود ہیں۔ یعنی 25 لاکھ لوگوں کے لئے صرف 1 سائیکالوجسٹ۔ جبکہ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ہر تیسرا شخص کسی نا کسی قسم کی نفیساتی الجھن کا شکار ہے۔ ہماری یہاں سائکالوجی کو بطور لازمی مضمون پڑھایا جانا چاہیے کیونکہ سایکالوجی کو تمام مضامین کی ماں کہا جاتا ہے۔

جب تک بڑے پیمانے پر وطن عزیز میں ڈپریشن کے علاج اور معیاری سائکالوجسٹس کی دستیابی ارزاں نہیں ہوجاتی ہمیں لوگوں میں ڈپریشن سے بچاؤ اور علاج کے بارے میں آگاہی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا ہوگا۔ لوگوں میں اس بات کا یقین پیدا کرنا ہوگا کہ چند آسان احتیاطی تدابیر مثلاً ہلکی پھلکی ورزش، روزانہ چہل قدمی، گہری سانسیں لینے اور مثبت خودکلامی کرکے آپ اس نقصان سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ حکومتِ وقت کو اس بڑھتی ہوئی بیماری پر سنجیدگی سے توجہ دینی ہوگی تا کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو اپنے سامنے خود سے دور جانے سے روک سکیں۔

Facebook Comments HS