توہینِ مذہب کیسز میں مذہبی طبقے کی تشفی کیسے ہوسکتی ہے؟
پاکستان کے موجودہ وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بیان دیا ہے کہ پاکستان میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کا مستقل حل تلاش کرنے کی ضروت ہے۔ وزیر موصوف کے بیان میں انتہا پسندی کی نسبت صرف مذہبی طبقہ کی طرف کی گئی ہے۔ یہ بات اُصولاً غلط ہے۔ پاکستان میں مذہبی اور سیکولر دونوں طبقے پائے جاتے ہیں۔ مذہبی افراد پاکستان میں مکمل طور پر پاکستان کا نفاذ چاہتے ہیں اس کے برعکس سیکولر طبقات چاہتے ہیں کہ ملک سیکولر ہو۔ ہر دو طبقوں میں معتدل اور انتہا پسند دونوں قسم کے افراد اور گروہ پائے جاتے ہیں۔ پاکستان کو صرف مذہبی انتہا پسندی کا سامنا ہی نہیں بلکہ سیکولر انتہاپسندی کا بھی سامنا ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ دونوں قوتیں ردعمل کی نفسیات کی وجہ سے انتہا پسندی تک پہنچی ہیں۔ اگر ریاست اور لیبرل طبقے مذہبی افراد سے یہ توقع کر رہے ہیں کہ وہ انتہا پسندی چھوڑ دیں اور متبادل بیانیہ اپنائیں تو اُنہیں چاہیے کہ وہ بھی انتہا پسندانہ سوچ چھوڑیں اور اعتدال کی طرف آئیں۔
مذہبی انتہا پسندی کی دوسری بڑی وجہ مذہب، مذہبی تعبیرات اور مذہبی شخصیات کا مذاق اُڑانا ہے۔ اختلاف اور اعتراض کا جواز ہر دور میں رہتا ہے نیز اختلاف و تنقید تنقیح کے لیے ازحد ضروری ہیں مگر تمسخر اور اہانت نے مذہبی طبقہ کو سیکولر طبقہ کا دشمن بنارکھا ہے۔
جب دُنیا میں اسلام کے خلاف منظم سازشیں ہورہی ہوں، ختمِ نبوت کے منکر خود کو ریاستی طور پر مسلم منوانے کی کوشش کریں، یورپی یونین اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر اہانت کرنے والوں کی سرپرستی کرے اور اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان کے ایوانوں میں اسلام سے متصادم قوانین منظور کیے جارہے ہوں تو ایسی فضا میں مذہبی طبقات کو اپنی بقا کے لیے شدید تر اقدام اٹھانے پڑتے ہیں۔
آسیہ کیس میں مذہبی افراد کا ردعمل فطری تھا۔ آسیہ ملزم ہے یا مجرم واللہ اعلم۔ میں کیس سے متعلق زیادہ نہیں جانتا مگر ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں اُسے مجرم قراردیا گیا۔ پھر بیرونی طاقتوں کے ایما پر گورنر سلمان تاثیر نے آسیہ کے لیے معافی طلب کرکے اس کیس کو ہائی پروفائل کیس بنا دیا۔ جس پر ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو قتل کر دیا اور اسی کیس کی وجہ سے ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی، سرکاری سرپرستی میں کیس کو جس طرح ہینڈل کیا گیا اس سرپرستی نے کیس کو عوام کے سامنے جانبدار بنادیا۔ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ حالات پر کڑی نظر رکھنے والے صحافیوں کی توقعات کے بھی برعکس ہے۔
اب اُس سوال کی طرف آتے ہیں کہ مذہبی افراد کی تشفی کیسے ہوسکتی ہے؟ مذہبی افراد کو قانون اور ریاستی فیصلوں پر چلانا بہت آسان ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کو فعال کر دیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیلِ نو اس طرح کریں کہ تمام مذہبی طبقے قومی دھارے میں آجائیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے ذریعہ سے قانون کی متفقہ تشریح ایوان میں لائیں اور اُسے قانون کا حصہ بناتے چلے جائیں تاکہ کوئی مذہبی گروہ قانون اور اُس کی بالادستی کا انکار نہ کرسکے۔
اسی طرح توہینِ مذہب پر بھی متفقہ آئین لائیں اور صوبے کی سطح پر شرعی عدالتیں قائم کریں اُن شرعی عدالتوں میں مستقل بنچ قائم کیے جائیں جو توہینِ مذہب کے کیسز سے متعلق آئین کے اندررہتے ہوئے فیصلے کریں اور یقینی بنایا جائے کہ ان عدالتوں اور ریاست کے ہوتے ہوئے کسی کو اختیار نہیں کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے۔
ریاست کے ذمہ داران اور سیاستدانوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ انہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کو عضوِ معطل بنارکھا ہے، انہوں نے کونسل کی کتنی سفارشات کو آئین کا حصہ بنایا؟ کونسل نے سود کا متبادل حل پیش کیا تھا آپ آج تک سود ختم نہیں کرسکے۔ کسی بھی طبقے کو قانون کا پابند بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اُسے قومی دھارے میں لا کر اُس کی تشفی کروائیں خواہ وہ مذہبی طبقات ہوں، بلوچ ہوں، ماورائے عدالت قتل ہونے والے ہوں یا فاٹا کے عوام۔ ملکی امن اور فلاح کا جائزہ فاٹا انضمام سے لیں۔ سوال آپ پر چھوڑتا ہوں فاٹا انضمام مخصوص جرگہ کی رضامندی سے ہونا چاہیے تھا یا عوامی ریفرنڈم سے؟ کون سا طریقہ فاٹا کے لوگوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے زیادہ موثر تھا؟


