فہمیدہ ریاض

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ڈر اور خوف کے مارے ہوئے لوگ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں مستقل طور پر مفاہمت اور مصالحت کی ڈگر پہ چلنے کے عادی ہو چکے ہوں اور اپنی محکومی کو ذہنی طور پر قبول کر چکے ہوں تو ایسے لوگوں کے وجود سے جنم لینے والے معاشرے مردہ معاشرے قرار پاتے ہیں۔ اور مرے ہوئے کو تو کوئی ایک رات سے زیادہ اپنے آنگن میں جگہ نہیں دیتا، چاہے وہ کسی کے کتنے ہی پیارے کا مردہ کیوں نہ ہو۔ تو کسی مردہ معاشرے کو زندہ اور متحرک زمانہ کیسے اپنے ساتھ باندھے رکھنے پر تیار ہو سکتا ہے۔

معاشرے دراصل زندہ انسانوں کے قبرستان ہوتے ہیں جو ہنستے بستے شہروں سے دور بنائے جاتے ہیں۔ جن کا شہروں سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ یہ دنیا زندوں کی قدر کرتی ہے، زندوں کو قبول کرتی ہے۔ اس لیے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے ایک زندہ اور سانس لیتی ہوئی سوچ کے ساتھ ساتھ ایک دھڑکتا ہوا نظریہ ناگزیر ہے۔ مزاحمتی ادب حقیقی معنوں میں تبھی تخلیق ہوتا ہے جب تخلیق کار نے ان حالات کو خود پر جھیلا ہو جن کے نتیجے میں کسی بھی ذی شعور فرد کے اندر مزاحمت پنپتی ہے۔

فہمیدہ ریاض نے ان سب حالات سے گزر کر ادب تخلیق کیا۔ انہوں نے محدود اور مخصوص نسائی ادبی کینوس کو وسعت دی۔ انہوں نے عورت کو سوچنے کی طرف مائل کیا، انہوں نے عورت کے اندر یہ شعور اجاگر کیا کہ وہ چیزوں کو محض سطحی اور لگے بندھے حوالوں سے نہیں بلکہ گہرائی سے محسوس کرے اور اپنے محسوسات کو بغیر لگی لپٹی رکھے الفاظ میں ڈھال کر دنیا کے سامنے لائے۔ دنیا کو یہ باور کروائے کہ مشرق کی عورت بھی ایک مکمل انسان ہے۔

انہوں نے عورت کو یہ احساس دیا کہ وہ اپنی ہر خواہش ہر طلب، ہر ضرورت کو پہچانے اور پہچاننے کے بعد اس سے خوف زدہ ہونے کی بجائے تسلیم بھی کرے۔ کیونکہ جب تک عورت خود اپنی حقیقت اور ضرورت کو تسلیم نہیں کرتی تب تک معاشرے سے اپنا مقام حاصل کرنے کا بھی نہیں سوچ سکتی۔ فہمیدہ ریاض نے اپنی نظموں کے ذریعے عورت کو یہی سبق دیا کہ وہ اظہار کے راستے میں حائل کسی رکاوٹ کو قبول نہ کرتے ہوئے آگے بڑھے، کہ یہی طریقِ زندگی ہے۔

انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے معاشرے میں اس سوچ کو اجاگر کیا کہ شاعری (خصوصاً نسائی شاعری) محض جمالیات کا نام نہیں بلکہ داخلی حقائق کے ادراک اور بیانیہ کا نام شاعری ہے۔ صرف محبوب کی نازبرداریاں، اور خودسپردگی کے قصوں میں الجھی ہوئی نسائی شاعری کو فہمیدہ ریاض نے ایک گہرائی، گیرائی اور سچائی سے روشناس کروایا۔ جس کو قبول کرنا اس گھٹن زدہ معاشرے کے لیے آسان نہ تھا۔ لیکن فہمیدہ ریاض نے مستقل اور مسلسل مزاحمت کے ذریعے نہ صرف اپنے لیے خود بنائے ہوئے الگ راستے پر سفر جاری رکھا بلکہ اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے اس کٹھن اور دشوار گزار راستے کو ہموار بھی کرتی چلی گئیں۔

فہمیدہ ریاض نے تمام عمر اپنے طور پر کئی حوالوں سے اس معاشرے کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہیں اور اب جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں تو احساس ہوا کے اس معاشرے کو ابھی مزید بے شمار حوالوں سے اصلاح درکار ہے جبکہ مصلح ناپید ہوئے جاتے ہیں۔ انہی قابلِ اصلاح معاملات میں ایک سوشل میڈیا کا مناسب استعمال بھی ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلانا ناممکنات میں سے ہے کہ انٹرنیٹ عام انسان کی زندگی کا بھی خاص حصہ بن چکا ہے۔

لیکن ہر چیز کے مناسب استعمال کے لیے باقاعدہ تربیت ضروری ہوتی ہے جس کا ہمارے ہاں فقدان ہے۔ ہمارے سوشل میڈیا نے نئی نئی روایات کو جنم دیا ہے۔ سوشل میڈیا پتہ نہیں پاک و ہند میں ہی اتنا اثر پذیر ہے یا دنیا کے دیگر ممالک بھی ایسی ہی شدت سے اس کے سحر میں اسی طرح جکڑے ہوئے ہیں! ہمارا تعلق چونکہ ادبی حلقوں سے زیادہ ہے اس لیے بات بھی اسی حوالے سے ہو گی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اِدھر کسی سینئر ادیب، شاعر کی موت کی خبر آتی ہے اُدھر ہر کسی کے موبائل کی گیلری اور فیس بک کے پرانے البمز میں ڈھنڈیا مچ جاتی ہے اور ہر کوئی مرحوم کے ساتھ کھنچے ہوئے فوٹو کے ہمراہ تعزیتی پیغام نشر کرنے میں سبقت لے جانے کا متمنی دکھائی دیتا ہے۔

پہلے تو یہ روایت سیاست کے حوالے سے کافی زوروں پر تھی کہ فیس بکی ورکرز اور جیالے اپنی اپنی پارٹی کے دفاع میں سر دھڑ کی بازیاں لگاتے پائے جاتے اور الیکشن کے لیے ملا ہوا چھٹی کا دن ووٹ دینے کے لیے پولنگ سٹیشن جانے کی بجائے سو کر گزارہ جاتا۔ لیکن اب یہ معاملہ مرحومین کی تعزیت اور ان سے اظہارِ محبت و افسوس کے حوالے سے بھی شدت پکڑتا جا رہا ہے۔ کسی مرحوم کے جنازے میں شرکت ضروری نہیں سمجھتی جاتی بلکہ غریقِ رحمت ہونے کی دعا اور مرحوم کے ہمراہ تصویر سے مزین پوسٹ کو ہی اس کی بخشش کے لیے کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل جب بانو آپا شدید علیل تھیں تو بے شمار ادیبوں، شاعروں نے ہر ممکن کوشش کر کے ان سے ملاقاتیں کیں اور نشانی کے طور پر ان کے قدموں میں بیٹھے ہوئے، ان کے گھٹنوں کو چھوتے ہوئے، ان سے جھک کر ملتے ہوئے تصویر لازماً کھنچوائی کیونکہ سبھی جانتے تھے کہ آپا عمر کے اس حصے میں اتنی علیل ہیں کہ جلد ہی یہ تصویر کام آنے والی ہے اور ہوا بھی یہی۔ بات تھوڑی تلخ ضرور ہے لیکن سچ تو یہی ہے کہ حقیقتیں تلخ ہی ہوا کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •