فہمیدہ ریاض

جب ڈر اور خوف کے مارے ہوئے لوگ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں مستقل طور پر مفاہمت اور مصالحت کی ڈگر پہ چلنے کے عادی ہو چکے ہوں اور اپنی محکومی کو ذہنی طور پر قبول کر چکے ہوں تو ایسے لوگوں کے وجود سے جنم لینے والے معاشرے مردہ معاشرے قرار پاتے ہیں۔ اور مرے ہوئے کو تو کوئی ایک رات سے زیادہ اپنے آنگن میں جگہ نہیں دیتا، چاہے وہ کسی کے کتنے ہی پیارے کا مردہ کیوں نہ ہو۔ تو کسی مردہ معاشرے کو زندہ اور متحرک زمانہ کیسے اپنے ساتھ باندھے رکھنے پر تیار ہو سکتا ہے۔

معاشرے دراصل زندہ انسانوں کے قبرستان ہوتے ہیں جو ہنستے بستے شہروں سے دور بنائے جاتے ہیں۔ جن کا شہروں سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ یہ دنیا زندوں کی قدر کرتی ہے، زندوں کو قبول کرتی ہے۔ اس لیے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے ایک زندہ اور سانس لیتی ہوئی سوچ کے ساتھ ساتھ ایک دھڑکتا ہوا نظریہ ناگزیر ہے۔ مزاحمتی ادب حقیقی معنوں میں تبھی تخلیق ہوتا ہے جب تخلیق کار نے ان حالات کو خود پر جھیلا ہو جن کے نتیجے میں کسی بھی ذی شعور فرد کے اندر مزاحمت پنپتی ہے۔

Read more

فہمیدہ ریاض تانیثی شاعری کا معتبرحوالہ

ایسے دقیق خیالات و نظریات کو نظم کرنے کے علاوہ ’کب تک‘ ، ’زبان کا بوسہ‘ ، ’ایک لڑکی سی‘ ، ’باکرہ‘ ، ’ایک عورت کی ہنسی‘ ایسی بے شمار بے باک نظموں کو جنم دیا۔ جولائی 1945 ء کو میرٹھ میں پیدا ہونے والی اِس لڑکی کی ابتدائی نظمیں زمانہ طالبِ علمی میں ”فنون“ کا حصہ بنیں۔ 1967 ء میں پہلا شعری مجموعہ ”پتھر کی زبان“ کے نام سے منظرِ عام پر آیا۔ 73 ء میں ”بدن دریدہ“ اور اُس کے بعد ایک مجموعہ ”دھوپ“ کے عنوان سے چھپا۔ کئی شعری مجموعوں کے علاوہ افسانوی نثر بھی شائع ہوئی۔

شادی سے پہلے کراچی اور بعد ازاں لندن مقیم رہیں۔ لندن میں بی بی سی سے وابسطہ ہوئیں، لندن کالج آف فلم ٹیکنیک سے فلم پڑھتی رہیں۔ فہمیدہ ریاض شاعری سے ہٹ کے خواتین کے استحصا ل اور معاشرتی جبروقیود کے خلاف عملی طور پر سرگرم رہیں۔ ”آواز“ کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا۔ ضیا الحق کے دور میں جبری جلا وطنی کے نتیجے میں ہندوستان شفٹ ہوئیں۔ ہندوستان کے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور کئی دیگر اداروں کے ساتھ کام کیا۔ بھارت قیام کے دوران ”آئی ایس آئی“ کی ایجنٹ کہلوانے والی فہمیدہ ریاض ضیا کی موت کے بعد جب پاکستان آئین تو یہاں اِنھیں ”را“ کا ایجنٹ کہا گیا۔

Read more