فہمیدہ ریاض
جب ڈر اور خوف کے مارے ہوئے لوگ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں مستقل طور پر مفاہمت اور مصالحت کی ڈگر پہ چلنے کے عادی ہو چکے ہوں اور اپنی محکومی کو ذہنی طور پر قبول کر چکے ہوں تو ایسے لوگوں کے وجود سے جنم لینے والے معاشرے مردہ معاشرے قرار پاتے ہیں۔ اور مرے ہوئے کو تو کوئی ایک رات سے زیادہ اپنے آنگن میں جگہ نہیں دیتا، چاہے وہ کسی کے کتنے ہی پیارے کا مردہ کیوں نہ ہو۔ تو کسی مردہ معاشرے کو زندہ اور متحرک زمانہ کیسے اپنے ساتھ باندھے رکھنے پر تیار ہو سکتا ہے۔
معاشرے دراصل زندہ انسانوں کے قبرستان ہوتے ہیں جو ہنستے بستے شہروں سے دور بنائے جاتے ہیں۔ جن کا شہروں سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ یہ دنیا زندوں کی قدر کرتی ہے، زندوں کو قبول کرتی ہے۔ اس لیے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے ایک زندہ اور سانس لیتی ہوئی سوچ کے ساتھ ساتھ ایک دھڑکتا ہوا نظریہ ناگزیر ہے۔ مزاحمتی ادب حقیقی معنوں میں تبھی تخلیق ہوتا ہے جب تخلیق کار نے ان حالات کو خود پر جھیلا ہو جن کے نتیجے میں کسی بھی ذی شعور فرد کے اندر مزاحمت پنپتی ہے۔
Read more

