بلاول بھٹو کا دورہ گلگت بلتستان اور مقامی سیاست
پیپلزپارٹی کے نوجوان قائد بلاول بھٹو زرداری کا چھ دنوں پر محیط طویل دورہ گلگت بلتستان اختتام پذیر ہوگیا، چھ روزہ اس تنظیمی دورے میں بلاول بھٹو زرداری نے گلگت ریجن کے تمام اضلاع کا دورہ کرکے جلسہ عام سے خطاب بھی کیا۔ جبکہ ضلع استور اور بلتستان ریجن کے اضلاع کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ ایک اور تنظیمی دورہ کرنے والے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے حتمی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے تنظیمی دورہ کا آخری روز نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے جس میں انہوں نے نہ صرف گلگت میں صحافیوں سے خصوصی ملاقات کی اور گفت و شنید بھی کی، وہی پر انہوں ضلع دیامر کا بھی کامیاب دورہ کیا۔ ضلع دیامر چند ماہ قبل ہی دہشتگردی کا ہدف بننے کی وجہ سے ملک بھر میں زبان زدعام ہوچکا تھا، اور ماضی کی دم ملاکر روایتی رنگ بھی بشکل زنگ لگ چکا تھا لیکن بلاول بھٹو زرداری کے دورہ دیامر نے اس حوالے سے تمام منفی تاثرات کو ختم کردیا۔ پیپلزپارٹی گزشتہ 15 سالوں میں دیامر کے چار حلقوں میں صرف ایک نشست ایک بار جیت چکی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے دورہ دیامر اور دیامر میں باوجود منع کرنے کے جلسہ عام سے خطاب نے دیامر میں سیاسی سرگرمیوں کے لئے دوبارہ سے کھڑکی کھول دی ہے۔
گلگت بلتستان میں اختیارات کی جنگ بڑی انوکھی قسم کی ہے۔ یہاں پر تھوڑے بہت اختیارات کا حامل شخص بھی فوری طور پر زیرنگیں افراد پر رعب جھاڑتا ہے۔ اختیارات کا حصول اور اختیارات کا دورانیہ بھی بہت کم ہوتا ہے، ایک وقفے کے بعد اختیارات کی جنگ دوبارہ سر اٹھاتی ہے۔ گلگت بلتستان میں سیاسی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے گزشتہ دس سالوں سے بیوروکریسی کے ساتھ اختیارات کی کھینچا تانی تو یونہی جاری ہے جو کسی کروٹ بیٹھنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ اسمبلی کے اجلاسوں میں اپوزیشن ممبران، وزراءاور سپیکر کئی مرتبہ بیوروکریسی کے معاملے پر شکایت آمیز رویہ ا ختیار کرچکے ہیں، کئی وزراءکو اس بات کا بھی علم ہے کہ ان کے محکمے کا سیکریٹری ان کی بات نہیں مانتا ہے۔ سپیکر جی بی اسمبلی فدا محمد ناشاد نے کئی مرتبہ باقاعدہ احکامات بھی جاری کردئے کہ سیکریٹریز اپنے محکمے کی نمائندگی کرنے کے لئے اسمبلی اجلاسوں میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں ، لیکن سیکریٹری صاحبان شاید ‘پدی کیا تو پدی کا شوربہ کیا’ قرار دیکر اس طرف زحمت ہی نہیں کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں سرکاری دفتروں سے عام آدمی کا قانونی کام نکلنا بھی کتنا مشکل ہوسکتا ہے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
منتخب نمائندوں کے ساتھ بیوروکریسی کی اس کھینچا تانی سے باہر نکلتے ہی ایک اور مرحلہ آتا ہے جسے اختیارات کی رسہ کشی کہاجاتاہے جو ہر دو یاتین سال بعد باقاعدہ سے منعقد ہوتا ہے۔گلگت بلتستان میں عوام کے ووٹ سے منتخب نمائندہ اسمبلی کو تین سال پورے ہوتے ہی وفاق اور ملک بھر میں عام انتخابات ہوتے ہیں۔ اب تک ایسا اتفاق دیکھنے کو نہیں ملا ہے کہ وفاق میں کوئی بھی پارٹی دومرتبہ مسلسل اقتدار کا مزہ چکھ لے، یوں وفاق میں حکومتی تبدیلی کے ساتھ ہی گلگت بلتستان میں وفاق کا نمائندہ یعنی گورنر بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔ گورنر کی تبدیلی اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہوتی ہے کہ اگلی باری اس گورنر کی۔ وفاق میں الگ حکومت اور گلگت بلتستان میں الگ حکومت ہونے کی وجہ سے ہم آہنگی کا فقدان پایا جاتا ہے، وفاق کسی ایسے بندے کو گورنر مقرر کرتی ہے جس میں صوبائی حکومت کو لگام دینے کی ہمت ہوتی ہے اور اگلے انتخابات میں اثر انداز ہونے کی بھی۔اس کے بعد منتخب صوبائی حکومت اور وفاق کا نمائندہ گورنر کے درمیان رسہ کشی شروع ہوجاتی ہے، دونوں اطراف سے اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ عوامی امیدوں کا محور ثابت ہوجائیں اور لوگوں کو یہ تاثر جائے کہ عوام کی نظریں انہی پر ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے مقرر کردہ گورنر راجہ جلال حسین مقپون نے پاکستان مسلم لیگ ن کے گورنر میر غضنفر علی خان کی جگہ سنبھالی ہے۔ تقرری کے کچھ ہفتوں تک راجہ جلال حسین مقپون بڑی حد تک متحرک نظر آئے اور روزانہ کی بنیاد پر عوامی وفود کی ملاقاتیں ہوتی تھیں لیکن یہ غبار جلد ہی بیٹھ گیا ۔ جناب جلال حسین مقپون کو شاید دوبارہ راجگی کا خیال آگیا ہوگا، عملاً گورنر ہاﺅس کئی ہفتوں سے معطل ہوکررہ گیا ہے ۔
صوبائی حکومت اور گورنر ہاﺅس کے درمیان اختیارات کی جنگ سابقہ چیف سیکریٹری بابر حیات تارڈ کے معاملے میں چھڑ گئی ۔ بابر حیات تارڈ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے دورہ گلگت بلتستان کے موقع پر ملک سے باہر تھے، جس کی کمی گورنر راجہ جلال حسین نے محسوس کی اور اس کی شکایت صدر مملکت سے کردی۔ بابر حیات تارڈ کی ملک میں عدم موجودگی کے معاملے کو لیکر راجہ جلال حسین مقپون نے صوبائی حکومت کو باقاعدہ خط بھی لکھ دیا کہ اس حوالے چیف سیکریٹری سے وضاحت بھی طلب کی جائے، لیکن صوبائی اعلیٰ ترین آفیسر نے گورنر ہاﺅس میں تعینات سیکریٹری ٹو گورنر کو تبدیل کردیا ۔ جونہی گورنر کو اس بات کا علم ہوگیا انہوں نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے سیکریٹری کے تبادلے کا نوٹیفکیشن منسوخ کرادیا ۔ سیکریٹری سروسز کی کوششوں سے چیف سیکریٹری اور گورنر کے درمیان صلح کرانے کی ایک کوشش بھی بے سود ثابت ہوگئی بالآخر چیف سیکریٹری بابر حیات تارڈ کا تبادلہ کرکے کیپٹن (ر) خرم آغا کو نیا چیف سیکریٹری تعینات کردیا گیا ۔
یہ بڑی دلچسپ سی بات ہے کیپٹن (ر) خرم آغا رواں سال جلوہ افروز ہونے والے تیسرے چیف سیکریٹری ہیں۔ ان سے قبل تعینات بابر حیات تارڈ کو گورنر گلگت بلتستان نے قبول نہیں کیا اور ان کا تبادلہ کرادیا جبکہ بابر حیات تارڈ سے قبل ڈاکٹر کاظم نیاز کی وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سے ان بن تھی جس کی بناءان کا بھی وقت سے قبل ہی تبادلہ کردیا گیا ۔ جبکہ بابر حیات تارڈ سب سے کم عرصے تک اس عہدے میں رہےں، سوشل میڈیا میں چائے کی ‘بعض’ پیالیوں میں اس وجہ سے بھی اس تبادلے پر مسرت دیکھی گئی کہ بابر حیات تارڈ بدتمیز تھا، انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو ٹیکس نہ دینے کا طعنہ دیاتھا، اگر بابر حیات تارڈ کا تبادلہ صرف اس بدتمیزی پر کیا جاتا تو یقینا پرمسرت ہونا فطری امر ہے لیکن یہاں اختیارات کی جنگ نے چیف سیکریٹریز کی لائن لگادی ہے قوی امکان ہے کہ اگر کیپٹن (ر) خرم آغا صاحب ،جو عید میلاد النبی کے ایام میں ہی تعینات ہوئے ہیں ، بھی اگر ان دونوں سمیت بعض حلقوں کی خوشآمد کرنے میں زرہ بھی دیر لگادی تو ان کا بھی تبادلہ کردیا جائیگا۔گلگت بلتستان میں نئے آنے والے ‘آفیسران’ کو خوش آمد کرنے والوں کی تعداد کم نہیں ہے ، کیپٹن(ر) خرم آغا صاحب کی بھی اسی وجہ سے خوش آمدی جاری ہے۔
گلگت بلتستان ملک میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے کم ڈسکس ہونے والا علاقہ ہے ، جس کی وجہ سے اکثر آفیسران کو بھی یہاں کے حالات اور ورکنگ سٹائل کا علم نہیں ہوتا ہے، اگر کوئی علاقے میں کام کرتے ہوئے کام کرنے کا انداز سمجھ جائے تو اس کا تبادلہ کردیا جانا کسی کی زاتی تسکین ہوسکتی ہے عوامی مفاد نہیں ہوسکتا ہے۔ اور جب تک وفاق اور گلگت بلتستان کے ایک ساتھ انتخابات نہیں کرائے جاتے ہیں اختیارات کی اس کھینچا تانی کا کیسٹ ہر بار دہرایا جائیگا۔




