خادم رضوی کل بھی ہمارے اپنے تھے، آج بھی ہمارے اپنے ہیں


مولوی خادم حسین رضوی کے ساتھ ہماری عقیدت سے کون واقف نہیں۔ دن رات ہماری زبان پر مولانا کا ہی ذکرِ خیر رہتا ہے۔ مولانا کے سکھائے گئے متبرک کلمات کا ورد ہم ہر وقت کرتے رہتے ہیں۔ اس ورد کی برکت ہے کہ ہمارے کب کے رکے کام اچانک ہونا شروع ہو گئے۔ وہ الگ بات ہے کہ ہماری زبان سے ان کلمات کو سن کر لوگوں کا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے۔ لوگوں کی پرواہ تو ہم نے پہلے بھی نہیں کی، اب بھی نہیں کرتے۔

مولانا نے ہی ہمیں محبت کی ایک جامع تعریف بتائی۔ ہمارا کوئی دوست ہمارے پاس اپنی محبت کا رونا رونے آتا ہے ہم اسے مولانا کی ویڈیو دکھا دیتے ہیں۔ اسے خود ہی سمجھ آ جاتا ہے کہ اس کا محبوب اس سے سچی محبت کرتا ہے یا بس ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے۔

مولانا کی وہ ویڈیو آپ نے بھی دیکھ رکھی ہوگی۔ اس ویڈیو میں مولانا محبت کی تعریف کچھ یوں کرتے ہیں، ‘اگر مگر نال محبت نئیں ہوندی، محبت ہوندی انے وا۔ جن نے اگر مگر کیتی اونے محبت نہ کیتی’۔

ہم نے تو جب سے یہ ویڈیو دیکھی ہے مولانا کے مرید بن گئے ہیں۔ صبح ہوتی ہے تو ہماری زبان دال دلیہ کا راگ الاپنے لگتی ہے شام ڈھلتی ہے تو سری پائے کا ورد شروع ہو جاتا ہے۔

کل رات بھی سونے سے پہلے سری پائے کا وظیفہ دہرا رہی تھی کہ ایک دوست کا پیغام موصول ہوا۔ پیغام کیا تھا ایک چھوٹا سا ایٹم بم تھا جو کم از کم ہمارے ہوش تو اڑا ہی گیا۔ مولانا کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ کیوں بھائی۔۔ ایک مولانا ہی تو ہیں جنہیں ہمارا تھوڑا بہت خیال ہے۔ مولانا گھر سے نکلتے ہیں تو کم از کم قوم کو دو روز کی چھٹی دلواتے ہیں۔ مسجد میں ہوتے ہیں تو ایسے ایسے شگوفے چھوڑتے ہیں جنہیں سن کر عوام دو دن ہنستے رہتے ہیں۔ ایسے بھلے آدمی کو کوئی کیوں گرفتار کرے گا؟

دشمنوں نے کہا کہ مولانا کو آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کے بعد کیے جانے والے دھرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ کل محترم چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی ایک ویڈیو میں کچھ ایسا ہی اشارہ دیا تھا۔ ہمیں تب ہی شک ہو گیا تھا کہ مولانا پر سخت دن آنے والے ہیں لیکن دل کا ایک گوشہ اب بھی کہہ رہا تھا کہ مولانا تو ‘اپنے’ ہیں۔ ان کے ساتھ ایسا کیسے کیا جا سکتا ہے۔

شاید اب اپنا خون سفید ہو چکا ہے۔ آج کے دور میں خون جلد ہی سفید ہو جاتا ہے۔ مولانا تو پھر دو سال اور دو دھرنے نکال گئے۔ ایک وفاقی وزیر کا استعفیٰ بھی لے گئے۔ ہر وزیر، گورنر حتیٰ کہ سپہ سالار کو عمرے پر بھیج چکے۔ گھر گھر میلاد کروا دیے جن کی رونق سوشل میڈیا تک پھیلی۔ مولانا کا ایک اشارہ ملک جام کر دیتا ہے۔ اتنے اپنے کو آخر کون پرایا کرتا ہے؟

ہم پریشان ہی تھے کہ فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں فرمایا کہ مولانا کو 25 نومبر کی دھرنا کال واپس نہ لینے پر حفاظتی تحویل میں لے کر مہمان خانے منتقل کیا گیا ہے۔ یعنی کہ پچھلے دھرنے، توڑ پھوڑ اور متبرک کلمات سب معاف۔ ہم یونہی پریشان ہو رہے تھے۔ مولانا تو کل بھی ہمارے اپنے تھے، آج بھی ہمارے اپنے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں