بچوں سے کیسے بات کی جائے؟


اچھا بتاؤ ناں وہ بار بار پوچھ رہی تھی، سامنے ایک چھوٹی سی بچی اپنی ماں کا ہاتھ تھامے کھڑی معصوم سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے سوالوں کا جواب دے رہی تھی مگر پھر بھی اس کی تسلی نہ ہو رہی تھی۔ مجھے تو کچھ بتاتی ہی نہیں اچھا یہ بتاؤ اسکول میں خوش رہتی ہے؟ اس کی دوستی کس سے ہے؟ کسی سے لڑائی تو نہیں ہوتی؟ مجھ سے کبھی کوئی بات کرتی ہی نہیں، کچھ بتاتی ہی نہیں۔ کچھ تجسس اور تھوڑی افسردہ سی وہ اپنی بچی کی سہیلی سے یہ سارے سوال پوچھ رہی تھی اور ادھورے جوابات سے قطعاً مطمئن نہ تھی۔
بہت سی ماؤں کو یہ پریشانی ہوتی ہے کہ ان کے بچے ان سے بات نہیں کرتے اور انہیں کچھ بتاتے نہیں۔ بچوں کے اس رویے کی کچھ وجوہات ہیں۔

1. توجہ سے بات نہ سننا

کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ بچہ اپنی بات بتانا چاہتا ہے مگر ماں کی توجہ کہیں اور ہوتی ہے۔ بحیثیت ماں ایک عورت پر بہت ذمہ داری ہوتی ہے اور وہ ایک وقت میں کئی کام کر رہی ہوتی ہے، ایسی صورتحال میں کام کاج چھوڑ کر بچے کی طرف مکمل توجہ ہونا مشکل ہے۔ اگر ممکن ہو تو کام تھوڑی دیر کے لئے روک کر اس کی بات سن لی جائے یا پھر اس کا حل یہ کیا جاسکتا ہے کہ بچے کو پیار سے بتا دیا جائے کہ کچھ ہی دیر میں کام نمٹا کے اطمینان سے اسکی بات سنی جائے گی۔ ایسا کرنے سے بچے کو تسلی ہو جاتی ہے کہ وہ اور اس کی بات چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو اس کی ماں کے لئے اہم ہے۔ اسی طرح ایک دوسرا پہلو جیسا کہ میں نے پہلے ایک آرٹیکل میں عرض کیا کہ بچے کی بات مکمل یکسوئی سے سنی جائے سکرین پر نظریں جمائے بچے کی بات سننے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اس کی بات غیر اہم ہے نتیجتاً وہ بد دل ہو کر بات کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

2. بچے کی بات کو سنجیدہ نہ لینا

کئی دفعہ غیر شعوری طور پر مائیں بچے کی بات کو مذاق میں اڑا دیتی ہیں، عموماً یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ تو بچہ ہے اس کو کیا معلوم مگر ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا بچے خصوصاً دور حاضر کے بچے جن کے سامنے معلومات کا انبار بھرا رہتا ہے قطعاً اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ان کی بات کو سنجیدہ نہ سمجھا جائے۔ خواہ وہ بات کتنی ہی بچگانہ کیوں نہ ہو ماں کو چاہئے کہ اسے سنجیدگی سے سنے اور اگر وہ کسی بات کو اہم تصور کرتا ہے تو اس کی بات مکمل سن کر اس حوالے سے مزید کچھ بات چیت ضرور کرے۔

3. ڈانٹ کا خوف

بچے کی تربیت کا ایک بہت اہم پہلو یہ ہے کہ اسے اس کی حدیں اچھی طرح سے ذہن میں راسخ ہوں۔ ایک کامیاب ماں بچے کی بہترین دوست ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنا وقار بھی قائم رکھتی ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں بچہ اپنے دل کی تمام باتیں اپنی ماں کے ساتھ بہت آسانی سے کرلیتا ہے وہیں وہ جانتا ہے کہ ماں کا احترام لازم ہے۔ ڈانٹ ڈپٹ اور سختی سے بچے کے دل میں ماں کے احترام کے بجائے اس کا ڈر بیٹھ جاتا ہے اور پھر وہ کھل کر کوئی بات نہیں کر سکتا کیونکہ وہ یہی سمجھتا ہے کہ کسی بھی بات کا نتیجہ ڈانٹ کی صورت میں ہی نکلے گا۔ چھوٹی عمر سے ہی بچوں کو پیار اور محبت کے ساتھ بار بار یہ بات دہرائی جائے کہ وہ اپنی ہر بات ماں سے کرسکتے ہیں انہیں اعتماد دلائیں کہ اگر ان سے کچھ غلط بھی ہو جائے تب بھی وہ ڈانٹ کے خوف سے ماں سے کچھ نہ چھپائیں۔ اور جب بھی بچے کوئی بات بتائیں تو ان کی حوصلہ افزائی ضرور کرنی چاہیے تاکہ وہ آئندہ بھی بات کرنے سے نہ گھبرائیں۔

4. بات رد ہو جانے کا ڈر

قدرتی طور پر بچہ جب بھی کوئی بات کرتا ہے تو اسے صحیح سمجھتا ہے چاہے وہ بات کتنی ہی بےتکی یا غلط ہی کیوں نہ ہو، ایسے میں جب اس کو یہ کہا جائے کہ تمہاری بات ٹھیک نہیں تو وہ کسی ایسے شخص سے بات کرنا ہی پسند کرے گا جو اس کی بات رد نہ کرے۔ بچے کی بات سن کر فوراً یہ کہہ دینا کہ نہیں نہیں ایسا نہیں ہوتا تمہیں نہیں پتا اس کے لئے بہت سخت الفاظ ہیں۔ ایسی کسی بات پر بعض اوقات خاموشی سے سن لینا ہی کافی ہوتا ہے تصحیح کی ضرورت ہو تو مثبت طریقے سے سمجھا دینا چاہیے۔

5. پند و نصائح کا انبار

بڑی بڑی نصیحتوں سے ہمیشہ پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ وہ اکثر بے اثر رہتی ہیں۔ بچے کے ساتھ ہمیشہ مختصر اور جامع گفتگو کریں۔ کسی بات کے جواب میں اگر نصیحت کرنا ضروری ہو تو سادہ اور مختصر بات کرنی چاہیے۔ ورنہ بچہ یہ سوچ کر کہ اس بات کے جواب میں تو لیکچر شروع ہو جائے گا بات کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔

ان سب وجوہات کے علاوہ ایک سبب یہ بھی ہے کہ بعض بچے فطرتاً خاموش طبع اور شرمیلے ہوتے ہیں اور وہ کسی سے بھی بات کرتے ہوئے کتراتے ہیں یہاں تک کہ ماں سے بھی کھل کر بات نہیں کرتے ایسے بچوں کو نرمی اور محبت سے بات کرنے پر آمادہ ضرور کریں مگر زور دے کر بات کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS