نواب زادہ نصراللہ خان کی خواہش
مشرف کے اقتدار کے تاریک دن وطن عزیز پر مسلط تھے اور سیاسی جماعتیں نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم کی قیادت میں ان دنوں کو روشن ایام میں تبدیل کرنے کی جدو جہد میں مشغول تھی انہی دنوں میں ایک ٹیلی ویثرن انٹرویو کے دوران نواب زادہ نصر اللہ خان مرحوم نے فرمایا کہ ہم یہ کہہ رہے ہے کہ اسی پارلیمنٹ کو ساورن (با اختیار ) کر دو۔ میں چونک گیا ایک ایسی پارلیمنٹ جو کسی حجاب کے بناء آمریت کی پیدا وار اور حاشیہ بردار ہو اُسکے لئے اس خواہش کا اظہار اور وہ بھی ایسے شخص کی جانب سے کہ جو قافلہ جمہوریت کا سالار ہو ایک زمانہ دیکھ چکا ہوں، نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم مجھ پر بہت شفقت فرماتے تھے چند دنوں بعد میں نے ایک پروگرام منعقد کیا نواب زادہ مرحوم کو صدارت کی دعوت دی اور انہوں نے کمالِ مہر بانی سے میری اُس دعوت کو قبول فرما لیا اور وقت مقررہ پر تشریف لے آئے۔
پروگرا م کے اختتام کے بعد اُن سے گفتگو کا سلسلہ چل نکلا تو میرے ذہن میں اُس دن سے پھنسے سوال نے پھر انگڑائی لی اور موقع غنیمت جانتے ہوئے ان سے پوچھنے کی جسارت کر ہی ڈالی کہ اُس دن آپ نے ٹی وی انٹرویو میں موجودہ پارلیمنٹ با اختیار بنانے کی بات کی۔ اول تو کیا ایسا ممکن ہے؟ اور دوئم یہ کوئی راز نہیں کہ موجودہ پارلیمنٹ آمریت کی کٹھ پتلی ہے بلکہ پرویز مشرف کے اپنے الفاظ میں صرف ان کی حکومت پر جمہوریت کا لیبل ہے۔
تو کیا اس پارلیمنٹ کو بھی با اختیار بنانے کی کوشش ہونی چاہیے؟ وہ انسان بہت نفیس اور متین تھے میرے جیسے طالبعلم کے معترضانہ سوال کو پر سکون انداز میں سنتے رہے اور پھر لمحے بھر خاموش رہے اور بولے قوم کے ساتھ جو آمریت کررہی ہے وہ جمہوریت کے حامی نہیں کرسکتے۔ قوم کا قوم بننے کے لئے وقت برباد کیا جارہا ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ کو با اختیار بنانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ صرف پرویز مشرف کو مدد فراہم کرنے والا ایک آلہ ہی نہ بنا رہے بلکہ عوامی مفاد میں جو آئینی قانونی اور پالیسی کے معاملات ہے ان پر فیصلہ کریں اورقوم کا جو وقت ضائع ہو رہا ہے وہ نہ ہو۔
میں جانتا ہوں کہ یہی وہ راستہ ہے کہ جس سے آمریت کو پیچھے دھکیلا جاسکتا ہے۔ لیکن پرویز مشرف اس پارلیمنٹ اور اس کے قائدین کو کبھی یہ موقع نہیں دے گا اور نہ ہی کبھی یہ آمریت کے حامی یہ راستہ اختیار کرنے کی کوشش تو درکنار خواہش بھی کریں۔ یہ بیان دے کر ہم نے نیک نیتی ثابت کردی ہے اور وقت ان کی بد نیتی کو مزید شرح کے ساتھ ثابت کریں اور ہم عوامی خواہشات کی مظہر پارلیمان کے قیام کی خاطر اپنی جدو جہد کو جاری رکھے گے برطانوی نو آبادیاتی دور میں برصغیر کے آزادی پسند رہنما وائسرائے کی کونسل تک کے رکن ہوتے تھے وہاں اپنی تجاویز پر ڈٹ کر اظہار خیال کرتے تھے حالانکہ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ یہ ادارہ برطانوی اقتدار کا لازمی حصہ ہے مگر جانتے تھے کہ جدوجہد کے لئے بہرحال ایک پلیٹ فارم دیا۔
پرویز مشرف اور اس کے حاشیہ بردار تو کیا ایسی پیش کش پر عمل درآمد کی طرف بڑھتے جب آمرانہ دور کا خاتمہ ہوا تو اُس وقت کی حزب اختلاف اور حزب اقتدار ایک طویل تجربہ کے ساتھ پارلیمان کا حصہ بنے۔ پپلز پارٹی نے اپنی قائد کو کھو ڈالا تھا لیکن بہرحال اجتماعی تجر بہ اوردانش موجود تھی جب کہ مسلم لیگ ن کے پاس اپنے قائد کی صورت میں فرنٹ لائن میں یہ دونوں قابلیتیں موجودہ تھی اور سیکنڈ لائن میں پپلز پارٹی کی مانند اجتماعی تجر بہ اور دانش موجود تھی یہ وہی وقت تھا جب سلمان تاثیر گورنر پنجاب کے ذریعہ تلخی کا ماحول دانستہ پیدا کیا جا رہا تھا تو اُس وقت نواز شریف نے یہ تجویز پیش کی کہ وطن عزیز کی ترقی کی خاطر میثاق پاکستان کرلینا چاہیے۔
یعنی پاکستان کے آئندہ 25 سالہ ترقیاتی پروگرام کہ جس میں مملکت کو درپیش آئینی اور قانونی سوالات کے جوابات بھی ساتھ ساتھ دے دیے جائے اور اپنی سیاسی سوچ کو برقرار رکھتے ہوئے دیگر معاملات پر ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنا لیا جائے۔ حزب اختلاف میں بیٹھے رہنما کی جانب سے ایسی تجویز جو حزب اقتدار کو ہیرو بناسکتی تھی کہ جیسے 1973 کے آئین کی منظوری میں دیگر سیاسی جماعتوں کا بھی کردار تھا۔ لیکن اُس کا کریڈٹ پپلز پارٹی لیتی رہی۔
ایسے ہی اگر نواز شریف کی 25 سالہ منصوبے کی تجویز پر اتفاق کرلیا جاتا تو اُس معاہدہ کا کریڈٹ حزب اقتدار کو ہی جانا تھا مگر وطن عزیز کے مفاد میں اُس وقت کی حزب اختلاف نے نفع ونقصان کو نظر انداز کرڈالا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اُس پر پھبتیاں تک کسی گئی حالانکہ تجویز بہت مناسب تھی۔ 2013 کے بعد پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی نئی جماعت تحریک انصاف میں جس طرح تلخی کا ماحول قائم کیے رکھا اُس میں یہ ممکن نہیں تھا کہ اِس نوعیت کے کسی معاہدہ کی جانب بڑھنے کا کوئی سامان نہیں تھا۔
اس تمام گفتگو کا سبب یہ ہے کہ اس سب کے باوجود کے حزب اختلاف انتخابی عمل اور اُس سے پہلے رونما ہونے والے واقعات پر شدید تحفظات رکھتی ہے۔ مگر اُس کی قیادت کا تجر بہ اور دانش پارلیمان میں بیٹھے حزب اقتدار سے کہی زیادہ ہے۔ اگر پارلیمان کی موجودہ مدت یا جب کبھی بھی اُس کا وقت ختم کردیا جائے کہ دوران حزب اقتدار اور حزب اختلاف باھم دست وگریبان ہی رہے تو ایسی صورت میں قوم کاوقت ضائع ہی ہوگا۔ یقنناًزخم گہرے ہے مگر اس وقت بھی مسلم لیگ ن کی قیاد ت کو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کو ماضی کی مانند میثاق پاکستان ترقی کے 25 سالہ معاہدہ پر گفتگو کرنے کے لئے دعوت دینی چاہیے۔
جب میں اس منصوبے پر دعوت کا ذکر کررہا ہوں تو خیال رہے کہ میرا مطلب اپنی سیاسی جدوجہد یا نظریات سے دست بردار یا عارضی طور پر اُن کو معطل کردینے سے بلکہ اُن سے جداگانہ جن معاملات پر اتفاق کیا جا سکتا ہے اُن پر گفتگو کرنے سے نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم کی خواہش با اختیار پارلیمنٹ اور سی کے تسلسل میں میاں نواز شریف کی 25 سالہ حکمت عملی کو طے کرنے کی تجویز نہ اُس وقت غیر متعلق تھی اور نہ اب اُن کی افادیت سے انکار ممکن ہے۔
وطن عزیز کو بد قسمتی سے انتخابات کی شفافیت کے مسائل کا ابھی تک سامنا ہے۔ نگران حکومتوں اور ان کے قیام کے طریقہ کار مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے مردم شماری کے ساتھ مسائل ابی تک جڑے ہوئے ہے۔ کروڑوں افراد نادرا کے ریکارڈ میں موجود ہی نہیں ہیں ورنہ گھر گھر مردم شماری کے پرانے طریقہ کار کی ضرورت ہی نہ پرے۔ ریاست کی ترقی کے لئے عوامی خواہشات کی مظہر پارلیمان اور آبادی کا درست تعین بنیادی ضروریا ت ہے اس کے علاوہ سرکاری اداروں اور سرکاری ملازمین کی تنظیم نو، عدالتی نظام میں اصلاحات اور معیشت کی ترقی کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو گرینڈ ڈائیلاگ کا آغازکردینا چاہیے۔


