ولی عہد محمد بن سلمان: بھیانک قتل کا احمقانہ منصوبہ
محمدبن سلمان کی شخصیت
گزشتہ دو برس کے دوران سعودی عرب میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی۔ خواتین کو ڈرائیونگ اور اسٹیڈیم میں جانے کی اجازت، سینما گھروں کا افتتاح، ریٹز کارلٹن میں سعودی امرا کی گرفتاری اور سعودی شہروں میں میوزک شو ز کا انعقاد مبصرین کے لیے حیران کن تھا۔ محمد بن سلمان کی شخصیت اور اہداف کو سامنے رکھا جائے تو ان تبدیلیوں کی وجوہات باآسانی سمجھ میں آسکتی ہیں۔
33 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ہدف طاقت اور مال کو اپنے لیے مخصوص کرنا اور اقتدار پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنا ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے محمد بن سلمان نے سابقہ حکمرانوں کا راستہ نہیں اپنایا۔ محمد بن سلمان نے اپنی حکومت کی مضبوطی کے لیے مغربی ممالک اور امریکی پر بھروسہ کرنے کی کوشش کی، اس سلسلہ میں اول محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اعتماد میں لیا اور امریکی صدر کے داماد سے مضبوط تعلق قائم کیا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کا داماد جیرڈ کوشنرمشرق وسطی میں اسرائیل حامی لابی کا روح رواں ہے اور محمد بن سلمان اور محمد بن زاید اس مہم میں اس کے ساتھی ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے اعتماد کا رشتہ قائم کرنے کے بعد محمد بن سلمان نے ولی عہد محمد بن نایف کو راتوں رات عہدہ سے معزول کیا اور امریکی میڈیا کے مطابق نظر بند کردیا۔ شاہ سلمان کی بگڑتی صحت کی وجہ سے سعودی عرب کا اصل حاکم ولی عہد محمد بن سلمان بن گیا، تاہم طاقت کے مراکز اب بھی شاہی خاندان میں منقسم تھے۔ لہذا محمد بن سلمان نے کرپشن مخالف مہم میں ایک ہی رات میں ملک کے طاقتور ترین شہزادوں اور مالدار تاجروں کو گرفتار کر لیا۔ شہزادوں کی گرفتاری کا یہ عمل سعودی عرب اور پوری دنیا کے لیے حیران کن تھا۔
ریاض کے فائیو سٹار ہوٹل ریٹز کارلٹن میں سعودی عرب کی اہم ترین شخصیات سے تفتیش کی جا رہی تھی، بی بی سی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق تفتیش کی نگرانی محمد بن سلمان کا پر اعتماد ساتھی سعود القحطانی کررہا تھا، یہ وہی شخصیت ہے جو سوشل میڈیا پر معروف سعودی شخصیات کو حکومت موافق موقف اپنانے پر مجبور کرتا اور حکومت مخالفین کو سخت دھمکیاں دیتا ہے، بعد ازاں سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے معاملہ میں سعود القحطانی کو اپنے عہدہ سے فارغ کر دیا۔ بی بی سی اور دیگر مغربی اخبارات کے مطابق دوران حراست سعودی شہزادوں پر تشدد کیا گیا، جس کا مقصد ان کی ہیبت کو کم کرنا تھا، اخبارات سعودی شہزادہ ترکی بن عبداللہ کے گارڈ کی دوران حراست تشدد سے وفات کا بھی تذکرہ کرتے ہیں۔ تاہم سعودی قیادت اور گرفتار شہزادوں کے مطابق ایک "ڈیل” کے بعد ان میں سے اکثر کو رہا کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق رہائی پانے والے شہزادوں پر بیرون ملک سفر پر پابندی ہے، اور ان کی نقل وحرکت کی نگرانی کے لیے ان کی ٹانگوں میں Tracking band لگے ہوئے ہیں۔ ریٹز کارلٹن واقعہ کے بعد محمد بن سلمان سعودی عرب میں واقعی طاقت کا واحد مرکز بن گیا، تاجروں سے حاصل ہونے والی بھاری رقوم کہاں گئی اس کا پتہ لگانا مملکت میں ممکن نہیں۔ ناقدین کے مطابق محمد بن سلمان نے بڑی رقم ہتھیا لی ہے۔ جہاں تک کرپشن کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ گرفتار شہزادوں پر واقعی کرپشن کے سنگین الزامات تھے، تاہم شفاف طریقہ حتساب کی عدم موجودگی، عدالتوں پر حکومتی کنٹرول اور میڈیا پر پابندیوں کے باعث یہ جاننا دشوار ہے کہ یہ مہم واقعی کرپشن مخالف تھی یا محض طاقت اور مال کے حصول کا ایک بہانہ تھی۔
دوسری جانب محمد بن سلمان نے مغربی میڈیا اور امریکی حکام کو قدیم مذہبی روایات ختم کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی وہ مغربی طرز پر اصلاحات لارہے ہیں، ان اصلاحات کو مغربی دنیا میں سراہا گیا اور محمد بن سلمان کو مصلح کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ اس دوران ٹرمپ اور محمد بن سلمان کا باہمی اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط ہوتا گیا کیونکہ محمد بن سلمان مشرق وسطی میں امریکی پالیسیوں کی حمایت کے علاوہ اسلحہ خریداری معاہدات کے ذریعے امریکا کی بھاری امداد بھی کر رہا تھا۔ جس سے صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا میں لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، یہی وجہ تھی کہ سعودی عرب میں شہزادوں پر کریک ڈاون کے اگلے دن ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ کے ذریعے سعودی قیادت کی حمایت کی۔
محمد بن سلمان کی شخصیت کی ایک اہم خاصیت ہے کہ وہ تنقید بالکل برداشت نہیں کرتا۔ مذہبی قیادات سے نفرت اس کے علاوہ ہے۔ شاہ فہد کے زمانہ میں اصلاحات کامطالبہ کرنے والے مذہبی مشایخ جن کے رویوں میں گرفتاری کے بعد نرمی آ گئی تھی، محمد بن سلمان کے نشانے پر تھے، ڈاکٹر سلمان العودہ اور ڈاکٹر عوض القرنی جیسی معتدل مزاج مذہبی شخصیات جن کے لاکھوں مداح تھے گرفتار کرلیے گئے۔ ان کے علاوہ بلامبالغہ ہزاروں مذہبی شخصیات کو گرفتار کیا گیا جن میں سے اکثر حکومت موافق مواقف اختیار کرتے، لیکن محمد بن سلمان اپنے دیرینہ دوست محمد بن زاید کی طرح ان مذہبی شخصیات کو ناپسند کرتا ہے جو معاشرہ کی اصلاح کی بات کریں۔ دلچسپ بات یہ ہے سعودی سکیورٹی فورسز نے ان لبرل اور غیر مذہبی شخصیات کو بھی گرفتار کیا جو حکومت پر تنقید کرتی تھی نہ بہت زیادہ تعریف، بلکہ اپنے فلاحی و اجتماعی کاموں میں خاموشی سے مصرو ف تھیں۔
یہی وہ حالات تھے جس سے تنگ آکر سعودی صحافی جمال خاشقجی نے اپنا ملک چھوڑ دیا، اور بیرون ملک آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق کو استعمال کیا، لیکن آخر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ شخصیت جس کو اپنی مدح سرائی میں پس و پیش بھی قبول نہ ہو وہ تنقید برداشت کریں، لہذا سعودی عرب سے باہر مقیم سعودی حکومت کے مخالفین کو "سیدھا” کرنے کا منصوبہ بنایا گیا جس کا جمال خاشقجی شکار ہو گئے۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


