ولی عہد محمد بن سلمان: بھیانک قتل کا احمقانہ منصوبہ


پاکستان کا موقف

پاکستان اسلامی دنیا میں اہم مقام رکھتا ہے، جس کی واحد وجہ پاکستانی کی عسکری طاقت ہے۔ اسلامی دنیا پاکستان کو اہمیت دیتی ہے اور پاکستان سے اچھی تعلقات کی خواہاں رہتی ہے، تاہم پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے ہی دباؤ کا شکار رہی ہے۔ تاریخ ہی فیصلہ کرے گی کہ پاکستان نے خارجہ محاذ پر اپنے مفادات کا کس حد تک تحفظ کیا، لیکن یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کے اندرونی حالات کی وجہ سے دنیا کی نظر میں پاکستان کی وقعت کم ہوتی گئی حتی کہ اب ہم کسی شمار میں نہیں آتے۔ مسلم دنیا کی قیادت پاکستان کی عسکری اہمیت سے واقف ہے لیکن مسلم ممالک کے عوام کی نظر میں پاکستان کا کوئی امتیازی مقام نہیں۔ غیر مسلم دنیا میں صورت حال اس سے بھی بدتر ہے۔ داخلی کمزوریوں کے باعث پاکستان اسلامی اور عالمی سطح پر اپنا کردار ادا نہیں کرسکا۔ گزشتہ دہائی میں معاشی و سیکورٹی لحاظ سے دنیا کی نگاہ میں ہم قابل رحم تھے، سیاسی لحاظ سے بھی پاکستان کی کا کوئی واضح بیرونی ایجنڈا نہیں تھا، تاہم سی پیک شروع ہونے کے بعد اب پاکستان کسی حد تک آزادانہ طور پر اپنے مفادات کے مطابق تعلقات قائم کر رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت کیونکہ تبدیلی کی علامت تھی اس لیے ان کی حکومت سے خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی توقع کی جا رہی تھی۔ خود عمران خان نے وزیر اعظم بننے سے قبل اپنے خطاب میں یقین دلایا تھا کہ ہم کسی غیر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوں گے، اپنے مفادات کا تحفظ کریں گے اور عالم اسلامی کے لیے مثال بنیں گے۔ مشرق وسطی سے متعلق عمران خان کی ہمیشہ سے یہ سوچ رہی ہے کہ پاکستان کو ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے، اسی موقف کا اعادہ انہوں نے وزارت عظمی سنبھالنے کے بعد بھی کیا، تاہم حکومتی پالیسی اس موقف سے میل کھاتی دکھائی نہیں دی رہی۔

مشرق وسطی میں اس وقت سعودی عرب، امارات اور بحرین کا اتحاد ہے۔ اس اتحاد نے یمن میں جنگ شروع کر رکھی ہے جہاں شمالی علاقوں میں ایران کی مدد سے حوثیوں کی حکومت قائم ہے جبکہ جنوب پر امارات کا قبضہ ہے۔ سعودی اتحاد کے قطر سے تعلقات انتہائی خراب ہیں۔ فریقین کے درمیان تجارت بند ہے اور بحری، بری اور فضائی حدود سے سفر کی اجازت نہیں۔ عمان تمام ممالک سے گوشہ نشین ہے جبکہ کویت خلیجی مصالحت کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ایران مشرق وسطی میں نفوذ کا خواہش مند ہے، خلیجی ممالک کے شمال میں عراق، شام اور لبنان پر ایران کی کٹھ پتلیوں کی حکومت ہے، یمن میں بھی حوثی باغیوں کے ذریعے ایران کی جڑیں مضبوط ہے، تاہم خلیجی ممالک اب ایران کو اپنا سب سے بڑا دشمن نہیں سمجھتے، اکثر خلیجی ممالک کے ایران سے اعلانیہ تعلقات ہیں۔

مشرق وسطی کی اس سیاسی صورتحال کو سامنے رکھ کر وزیر اعظم عمران خان کے اقدامات کا جائزہ لیں تو ہمیں عمران خان کا جھکاؤ واضح طور پر سعودی اماراتی اتحادکی جانب نظر آتا ہے۔ پاکستان کی معاشی صورتحال کی وجہ سے یہ جھکاؤ قابل فہم بھی ہے لیکن جمال خاشقجی کے معاملہ پر پاکستان کے حکومتی موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جھکاو حد سے بڑھ چکا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان بیرونی دوروں کو پسند نہیں کرتے، اس کے باوجود وہ صرف 100دنوں میں سعودی عرب اور امارات کے دو دورے کرچکے ہیں، اگر ان دوروں کا مقصد امداد کا ہی حصول تھا تو قطر کا دورہ کیوں نہیں کیا گیا جو اسی خطہ میں واقع ہے، اور اپنے پڑوسیوں کی جانب سے حصار کے بعد پاکستان اور دیگر ممالک سے تعاون کرنے میں زیادہ لچک کا مظاہرہ کر رہا ہے؟ قطری وزیر خارجہ عبدالرحمن آل ثانی نے پاکستان کے ایک روزہ دورہ کیا، جس کی تفصیلات تو سامنے نہ آ سکی، البتہ دورے کے بعد قطری سفارت خانے کی کسٹم فری گاڑیوں کا معاملہ دب گیا، اور قطری شہزادوں کو شکار کی اجازت ملنے کی خبریں گردش کرنے لگی، گویا قطر اور سعودی عرب سے دوستی میں توازن کے بجائے دونوں ممالک کے دباؤ کی وجہ سے اصولی موقف پر سمجھوتہ کیا گیا ۔

جمال خاشقجی کے معاملہ پر سعودی حکومت کے متضاد اور ناقابل تصدیق موقف کی پاکستان نے حمایت کی۔ دنیا بھر میں سعودی موقف کو مضحکہ خیز قرار دیا جارہا تھا، پاکستان نے سعودی حکومت کے اقدامات کو عد ل و انصاف کے موافق قرار دیا۔ وزیر اعظم عمران خان اگر اپوزیشن میں ہوتے اور یہ واقعہ پیش آتا تو وہ یقینا سخت اصولی موقف اختیار کرتے، لیکن حکومت کے بوجھ نے اس معاملہ پر ان کی زبان گنگ کر دی ہے، اور ان کی وزارت خارجہ بلا جواز سعودی حمایت پر مصر ہے۔

پاکستان کی حالیہ مایوس کن خارجہ پالیسی ہمارے ملک کے لیے نئی بات نہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ تبدیلی کے دعویدار بھی خارجہ محاذ پر تبدیلی لانے میں ہنوز ناکام نظر آتے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4