ولی عہد محمد بن سلمان: بھیانک قتل کا احمقانہ منصوبہ
جمال خاشقجی کا قصہ
جمال خاشقجی اکتوبر 1958 میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، خاشقجی خاندان نے جمال سمیت بڑے بڑے نام پیدا کیے۔ جمال کے دادا سعودی عرب کے مؤسس شاہ عبدالعزیز کے طبیب تھے، اس کے علاوہ عبدالرحمن خاشقجی مسجد نبوی کے موذن تھے۔ اسی طرح عالمی شہرت یافتہ ارب پتی عدنان خاشقجی اور لیڈی ڈیانا کے دوست دودی الفاید بھی جمال کے قریبی رشتہ دار تھے۔ جمال خاشقجی نے صحافت کی تعلیم امریکا کی انڈیانا سٹیٹ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ صحافت کا آغازسعودی گیزٹ سے کیا اور پھر افغانستان اور سوڈان سمیت مختلف ممالک میں رپورٹنگ کی۔ جمال خاشقجی سعودی عرب کے مختلف انگریزی اور عربی اخبارات کے کلیدی عہدوں پر فائز ہونے کے بعد 2004 میں شاہ فیصل کے بیٹے شہزادہ ترکی الفیصل کے مشیر (میڈیا ایڈوائزر) مقرر ہوگئے ۔ ترکی الفیصل لندن اور واشنگٹن میں سعودی سفیر رہے اور جمال خاشقجی اس عرصے میں ان کے ہمراہ رہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک صحافی کے طور پر جمال نے اپنے روابط بہت وسیع کر لیے یہاں تک کہ ترکی صدر سمیت مختلف ممالک کے عہدیداران ان کے ذاتی دوست بن گئے۔ جبکہ دوسری جانب داخلی طور پر شاہی خاندان سے قربت نے جمال کی شخصیت کو نئی جہت دی اور ان کے وزن میں اضافہ کیا۔
2017میں جمال خاشقجی سعودی عرب میں میڈیا پر لگنے والی نئی پابندیوں اور محمد بن سلمان کی پالیسیوں سے تنگ آ کر امریکا روانہ ہو گئے۔ امریکا میں جمال خاشقجی نے سعودی حکومت پر اپنے انٹرویوز اور بعد ازاں واشنگٹن پوسٹ میں کالمز کے ذریعے ہلکی تنقید کرنا شروع کردی۔ جمال خود کو سعودی حکومت کا مخالف نہیں کہتے تھے۔ وہ سرعام شاہ سلمان اور ولی عہد کی بیعت کا اعلان کرتے تھے، تاہم وہ سعودی حکومت کی قطر، یمن، مصر، اور داخلی معاملات پالیسیوں سے اختلاف رکھتے تھے، ان کے خیال میں محمدبن سلمان کو سعودی عرب میں صحافیوں، دانشوروں اور مذہبی رہنماوں کی آزادیاں سلب کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، کیونکہ ان شخصیات کی مدد سے ولی عہد اپنا ویژن زیادہ بہتر طریقے سے مکمل کر سکتے ہیں۔ جمال خاشقجی اپنی آراء کا اظہار واشنگٹن پوسٹ میں کرتے اور امریکی فیصلہ ساز ان کالموں کو اہمیت دیتے جبکہ دوسری طرف انہی فیصلہ ساز اور اہم شخصیات کو سعودی ولی عہد اشتہاری کمپنیوں کے ذریعے اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش میں مصروف تھے (اور شاید اب تک ہیں)، رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد نے ذاتی تشہیر پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے۔
جمال خاشقجی کی موت کا المناک قصہ اس وقت شروع ہوا جب وہ ذاتی کاغذات کے حصول کے لیے واشنگٹن میں سعودی سفارت خانہ گئے۔ وہاں ان کی ملاقات محمد بن سلمان کے بھائی اور امریکا میں سعودی سفیرخالد بن سلمان سے ہوئی۔ خالد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ جمال خاشقجی کے قریبی ساتھیوں اور سی آئی اے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق خالد نے ہی جمال خاشقجی کو استنبول میں سعوی قونصل خانہ جانے اور وہاں سے کاغذات کے حصول کی ہدایت کی۔ جمال کو ترکی صدر نے بھی ترکی میں قیام کرنے کی دعوت دی، اور غالبا جمال کا بھی یہی ارادہ تھا، کیونکہ ترکی میں مغربی و مشرقی رنگوں کا امتزاج پایا جاتا ہے جس کے جمال متلاشی تھے۔ جمال خاشقجی نے ترکی میں گھر خریدا، ترکی خاتون سے شادی کا ارادہ کیا، اور ان معاملات کو قانونی شکل دینے کے لیے ضروری کاغذات حاصل کرنے کے لیے سعودی قونصل خانہ گئے، ترکی میں بھی سعودی حکام ان سے احترام سے پیش آئے اور ان کو کچھ دن بعد کی حتمی تاریخ دی۔
سعودی حکام کے ظاہری بشاشت کے پیچھے ایک مکروہ پلان تھا، تمام تیاریاں ہوچکی تھی، اور جمال خاشقجی کو دی گئی تاریخ پر منصوبہ پر عمل کرنا تھا۔ 15 آدمیوں کا انتخاب کیا گیا، جن کی قیادت ولی عہد کا قریبی ساتھی، ماہر المطرب کر رہا تھا۔ ٹیم میں پوسٹ مارٹم کا ماہر صلاح الطبیقی اور جمال خاشقجی سے مشابہت رکھنے والا المدنی بھی شامل تھا۔ 2 اکتوبر یعنی مقررہ تاریخ کی رات کو ٹیم استنبول پہنچ گئی، اور جمال خاشقجی کی آمد سے قبل قونصل خانہ میں داخل ہو گئی۔ جمال خاشقجی اپنی منگیتر کے ہمراہ قونصل خانہ پہنچے، اپنے موبائل منگیتر کو دے کر اندر داخل ہو گئے جہاں ان کا استقبال بدترین طریقے سے کیا گیا۔ ترکی اہل کاروں کو چھٹی دی جا چکی تھی۔ قونصل خانہ خالی تھا، اس لیے ٹیم کو منصوبہ پر عمل درآمد کرنے میں مشکل نہیں پیش آئی۔
قونصل خانہ کے باہرجمال کی منگیتر خدیجہ جنکیز کو انتظار کرتے جب زیادہ وقت ہوگیا تو اس کو تشویش ہونے لگی، سات گھنٹے انتظار کے بعد بھی جب جمال خاشقجی باہر نہیں آئے تو خدیجہ نے جمال کے دوستوں کو خبر دی، کچھ ہی دیر بعد جمال کی گمشدگی کی خبر دنیا بھر میں پھیل گئی، لوگوں کو یقین ہوگیا کہ جمال کو بھی حکومت مخالف سعودی شہزادوں کی طرح اغوا کرکے ریاض پہنچا دیا گیا ہے۔ گمشدگی کے اگلے روز ولی عہد نے بلومبرگ کوانٹرویو دیتے ہوئے خیال ظاہر کیا کہ جمال قونصل خانہ سے نکلنے کے بعد غائب ہوئے ہیں، تاہم ترکی حکومت کو اصل واقعہ کی اطلاع مل چکی تھی۔ تفصیلات ترکی حکومت نے ترکی ڈراموں کی طرح قسط وار اپنے میڈیا کو جاری کی جس سے ہوشربا انکشافات ہوئے۔
جمال خاشقجی قونصل خانہ میں داخل ہوئے تو ٹیم کے چار افراد نے ان کو دھکیل کر اندر لانے کی کوشش کی، جواب میں جمال نے سخت زبان استعمال کی جس کے بعد زبان درازی کی سلسلہ شروع ہوگیا، اطلاعات کے مطابق جمال خاشقجی کو گالیاں دی گئی اور غدار کہا گیا۔ ان کا گلا گھونٹا گیا جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔ پھر لاش کو خون منجمد کرنے والا ٹیکہ لگایا گیا، صلاح الطبیقی نے لاش کے ٹکڑے کیے اور المدنی جمال خاشقجی کے کپڑے پہن کر عقبی دروازے سے باہر نکل گیا، تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ جمال خاشقجی قونصل خانہ سے نکل گئے ہیں۔ لاش کے ٹکڑوں کے بارے میں غالب گمان ہے کہ ان کو کیمیائی مواد سے تحلیل کردیا گیا ہے۔ اس بھیانک عمل کو سعوی حکام نے انتہائی احمقانہ انداز میں سر انجام دیا۔ لہذا ترکی حکومت کو سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر جاسوسی آلات کی مدد سے تمام تفصیلات کا علم ہو گیا۔
ترکی حکومت کے میڈیا کے ذریعے یکے بعد دیگرے انکشافات نے سعودی عرب کو اعتراف پر مجبور کردیا کہ واقعہ کی یہی تفصیلات ہیں، تاہم سعودی حکام کے مطابق ٹیم کو صرف جمال خاشقجی سے سعودی عرب واپسی سے متعلق مذاکرات کے لیے روانہ کیا گیا، اور قتل کرنا ٹیم کا ذاتی فعل تھا۔
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے البتہ سمجھتی ہے کہ محمد بن سلمان نے ہی اس قتل کا حکم دیا تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ تادم تحریر محمد بن سلمان کا دفاع کررہے ہیں، یہ بھی دلچسپ لیکن قابل یقین بات ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بھی محمد بن سلمان کا اس قضیہ میں دفاع کرنے والوں میں شامل ہے۔ عالمی سطح پر سعودی عرب کا موقف کمزور ہے، اور تمام ممالک محمد بن سلمان پر حقائق واضح کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


