کرپشن کیسے ختم ہو
بنیادی طور پر چار آدمیوں پر مشتمل دکان ہو کوئی فیکٹری ہو یا پورا ملک ہو کرپشن کو ہم دو اقسام میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک حقیقی کرپشن جس میں پورے یا زائد پیسے لے کر غیر معیاری میٹیریل لیا یا پاس کیا جائے۔ دوسری وہ کرپشن جو آڈٹ پکڑتا ہے یعنی ایک ٹھیکے میں اگر تین کوٹیشن آئیں اور سب سے کم کو ٹھیکہ نہ دے کر زیادہ والی کوٹیشن کو منتخب کیا گیا ہو۔ اس کی مثال یوں ہے کہ اخبار میں ٹینڈر دیا گیا ہو کہ چار پہیوں والی سواری درکار ہے جس میں چار بندے بیٹھ سکیں ہم وقتی طور پر مثال سمجھانے کے لیے گاڑی کے سی سی اس ٹینڈر میں نہیں ڈالتے۔ اب آٹھ لاکھ کی مہران منتخب ہونی چاہیے اور ایک کروڑ والی مرسیڈیز ریجیکٹ۔ پاکستان کے سسٹم کے مطابق ایک کروڑ والی مرسیڈیز اٹھانوے لاکھ میں لینے والا سرکاری ملازم یا وزیر پھنس جائے گا اور آٹھ لاکھ والی مہران بیس لاکھ میں پاس کرنے والا سرکاری ملازم بچ جائے گا کیونکہ اس نے سب سے سستے ٹینڈر کو پاس کیا۔
دراصل ڈیڑھ سو سال پرانے سروس رولز کے ہوتے ہوئے فرشتے بھی حکومت میں آ جائیں کرپشن کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔ جس میں بجلی سے متعلقہ ٹینڈر الیکٹریکل انجینیر کی بجائے آرٹس گریجویٹ سیکرٹری یا میٹرک پاس وزیر پاس کر رہا ہوتا ہے۔ دنیا اب چاند پر پہنچ گئی ہے جبکہ ہم اپنے ترقیاتی فنڈز کا ساٹھ سے ستر فیصد نالیاں پکی کرنے یا پہلے سے صحیح گلی یا سڑک کھود کر دوبارہ بنانے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ اس کا بہترین حل سروس رولز میں ترمیم ہے جس میں فزیبیلیٹی رپورٹ مختلف ٹینڈر بھرنے والی فرمز سے بنوائی جائیں اور ان سے ٹیکنیکل پریزینٹیشن کا کہا جائے بہتر ٹیکنیکل پوائنٹ والی فرم کے مطابق فنڈ جاری کیا جائے۔
ان سے گارنٹی لی جائے جس میں مقررہ مدت میں کوئی فالٹ آنے پر بھاری جرمانے ہوں کسی انسانی جان کے ضیاع کی صورت میں خون بہا دیا جائے۔ کمپنی کی بجائے اس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے شناختی کارڈ نمبروں پر جرمانے ہوں تاکہ یہ کمپنی کا نام بدل کر یا دیوالیہ شو کروا کر قانونی سقم کا فائدہ نہ اٹھا لیں۔ اب یہ ظاہری بات ہے کہ اس سے کاسٹ بڑھے گی اور فرموں کے پاس سرکاری ملازمین کو دینے کے لیے زیادہ پیسے نہیں بچیں گے چنانچہ وہ ہر کام میں روڈے اٹکا کریا بل روک کر اسے فلاپ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ ٹینڈر کے ساتھ ہی پیمنٹ کی شرائط طے ہوں اور اس ٹائم پر پیمنٹ نہ ہونے پر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں روک لی جائیں اور دوسری یا تیسری دفعہ اس حرکت پر وہ ملازم معطل کر دیا جائے۔ بحالی پر اگر دوبارہ یہ حرکت کرنے پر ملازمت سے فارغ کر دیا جائے۔


