تبدیلی والی سرکار اور پشاور بی آر ٹی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

19 اکتوبر 2017 ء کی ایک خبر کے مطابق وزیر اعلی (سابق ) پرویزخٹک نے اعلان کیا تھا کہ اگلے چھ ماہ بعد یعنی اپریل 2018 ء کو پشاؤ ر بس ریپڈ ٹرانزٹ مکمل ہوجائے گی جسے ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔ 20 اپریل 2018 ء کو سابق وزیر اعلی پرویز خٹک نے دعوی کیا کہ 30 اپریل 2018 ء کو پشاور بی آر ٹی کا افتتاح کیا جائے گا۔ اس کے بعد تاریخوں پر تاریخ دیتے آرہے ہیں لیکن پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ کا منصوبہ ہے کہ مکمل ہونے کا نام تک نہیں لے رہا ہے، تازہ ترین خبر یہ ہے کہ اس منصوبے پر لاگت تین گنا سے بھی بڑھ گئی ہے اور شایدجون 2019 ء کو مکمل ہوجائے گی۔

پشاؤ ر بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کا آغاز اکتوبر 2017 ء کو ہوا تھا اس وقت دعوی کیا گیا تھا کہ اگلے چھ ماہ میں یہ منصوبہ مکمل کر دیا جائے گا۔ شاید یہ منصوبہ سازوں کے غلط اندازے یا بیروکریسی کا چال کہ وہ جو ٹائم فریم دیا گیا تھا اس میں بھی کئی گناہ اضافہ ہوا اور جو بجٹ مختص کی گئی تھی وہ بھی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔

چمکنی سے شروع ہوکر حیات آباد کے آخری فیز تک جانے والی اس بس سروس کا کل فاصلہ 27 کلومیٹر ہے جس کا ابتدائی تخمینہ لاگت صوبائی حکومت نے چودہ ارب روپے لگایا تھا۔ پھر 40 ارب اور اب 66 ارب روپے کے ہندسے کو بھی عبور کرچکی ہے۔ گزشتہ دنوں قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) نے پشاور بی آر ٹی کے لئے 66 ارب 43 کروڑ 70 لاکھ روپے کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ وزیر اعلی کے پی محمود خان اور وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات کے بعد عمل میں آیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو منصوبہ چھ ماہ میں 14 ارب یا زیادہ سے زیادہ 40 ارب میں مکمل ہونا چاہیے تھا وہ ایک سال کا عرصے گزرنے کے باوجود اب بھی کھٹائی میں کیوں پڑا ہوا ہے؟ اور عوام کو 8 ماہ مزید اس کی تکمیل کے لئے انتظار کرنا پڑے گا۔ جبکہ بجت بھی کہیں سے کہیں تک پہنچ گئی ہے۔ پشاور کے واقع واحد روڈ پر کام سے گرد وغبارکی وجہ سے یہاں کے لوگ مختلف قسم کے پیچیدہ بیماریوں کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ لیکن نہ تونیب کو اس تاخیری منصوبے کے حوالے سے تفتیش کی ضرورت محسوس ہورہی ہے اور نہ ہی مسٹر کلین کی صوبائی ووفاقی حکومتین اس حوالے سے کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ دکھا رہی ہے۔ اس دوران غریب عوام رل رہے ہیں۔

عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف پنجاب میں ن لیگی حکومت کے شروع کردہ میٹرو منصوبوں کے زبردست ناقد رہے ہیں اور ان منصوبوں کو غیر ضروری اور خزانے پر بوجھ قرار دے رہے تھے۔ اب ذرا پنجاب کے میٹرو بسز اور پشاور بی آر ٹی کا تقابلی جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ 2013 ء کو مکمل ہونے والے 27 کلومیٹر طویل لاہور میٹرو بس پر 30 ارب روپے خرچ آئے تھے اسی طرح پنجاب اور وفاقی حکومت کے اشتراک سے 28 فروری 2014 ء کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان 22 کلومیٹر میٹرو بس سروس پر کام کا آغازہوا جو کہ جون 2015 ء کو مکمل ہوا اس پر 44 ارب روپے کا خرچہ آیا۔

ٹرانسپورٹ سے متعلق منصوبوں کے اعداد وشمار جمع کرنے والے امریکی ادارہ ’امریکن پبلک ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن‘ کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس دنیا کا مہنگا ترین منصوبہ ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پشاور بی آر ٹی کا منصوبہ اسلام آباد راولپنڈی میٹرو بس منصوبے کے مقابلے میں دوگنا لاگت سے تعمیر کیا جارہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ منصوبہ دنیا کے سب سے مہنگے ترین منصوبہ ثابت ہوگا۔

پاکستان تحریک انصاف کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس محض خالی خولی دعووں، وغدوں اور پروپیگنڈے کے علاوہ کوئی منصوبہ بندی سرے سے موجودہ ہی نہیں۔ جبکہ اس منصوبے کا خرچہ بھی کئی گنا بڑھ گیا ہے ساتھ ہی ساتھ منصوبے میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •