کام ایک ہی لیکن نتائج مختلف


ابھی چند ہی روز قبل ایک جیّد کالم نگار نے نظریہء اضافت کے پرچارک اور مشہور فلسفی و سائنس دان البرٹ آئن سٹائن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیوانگی اور جنون یہ ہے کہ آپ ایک ہی کام بار بار کر رہے ہیں لیکن اس سے مختلف نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔ آج یہ تاریخ ساز سائنسدان حیات ہوتا تو نئے پاکستان کے انقلاب آفرین و ولولہ انگیز حالات و واقعات دیکھ کر اپنا سر پیٹ کر رہ جاتا کیونکہ کم و بیش ڈیڑھ صدی تک اس کا یہ نظریہ حرف بہ حرف درست رہنے کے بعد آج بری طرح پٹ گیا ہے۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب ہم ماضی قریب کے پرانے پاکستان اور نئے پاکستان کے معروضی حالات کا سرسری تجزیہ بھی کرتے ہیں تو ہمیں پرانے پاکستان کے مقابلے میں نئے پاکستان میں آگ پانی کا ملاپ نظر آتا ہے۔ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاہ سفید اور سفید سیاہ میں بدلتا نظر آتا ہے۔ خوب زشت اور زشت خوب کے روپ میں ڈھلتا محسوس ہوتا ہے۔ بہار خزاں اور خزاں بہار بنتی دکھائی دیتی ہے۔ شاعر نے تو رسماً ہی خوب کو ناخوب اور ناخوب کو خوب میں ڈھلنے کے محیرالعقول عمل پر بتدریج کی تہمت دھری تھی، نئے پاکستان میں تو چیزیں آناًفاناً اور پلک جھپکتے ہی ایک سو اسی درجے زاویہ پر بدل رہی ہیں۔

حکومت مخالف کسی روسیاہ کو اگر اس قدر انقلابی اور سیمابی تبدیلیاں نظر نہیں آتیں تو یہ ان کی بد باطنی کے ساتھ ساتھ ان کی کوتاہ بینی اور کور ذوقی کی بھی دلیل ہے وگرنہ علامہ خادم رضوی، شریف فیملی، ن لیگ، تحریکِ لبیک اور مفتی منیب الرحمٰن سمیت ہر ذی فہم اوراہلِ نظر کے لیے یہ تبدیلیاں نہ صرف نوشتہء دیوار اور مقامِ عبرت ہیں بلکہ چودہ سے بھی زائد طبق روشن کرنے کے لیے کافی ہیں۔

اب علامہ خادم رضوی ہی کو لے لیجیے۔ وہ یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوئے جارہے ہیں کہ پرانے پاکستان میں جس کام کے بدلے ریاست ناز نخرے اٹھانے کے علاوہ انواع و اقسام کے الوانِ نعمت مثلاً چکن بریانی، کئی قسم کے پلاؤ، حلوے، شیرینی، خشک میوہ جات اور موسمی و غیرموسمی پھل فروٹ عنایت کرتی تھی وہی ریاست آج اسی کام کے بدلے پسِ دیوارِ زنداں کیوں ڈال رہی ہے؟ پرانے پاکستان میں دین کی جن ”خدمات“ کے عوض عیش کے ساتھ کیش بھی ملتا تھا نئے پاکستان میں انہیں خدمات کے بدلے ریاستی جبر و قہر کیوں روا رکھاجارہا ہے؟ پرانے پاکستان میں جس کام کے بدلے انعام و اکرام کی بارش کی جاتی تھی نئے پاکستان میں اسی کام کے معاوضے کے طور پر ڈنڈوں کی بارش کیوں ہونے لگی؟

ایک علامہ پہ ہی موقوف نہیں پوری ن لیگ اور نواز شریف بھی جب بھارت سے تعلقات کے حوالے سے نئے اور پرانے پاکستان کے طرزِ عمل کا موازنہ کرتے ہیں توحیرت و استعجاب کی تصویر بن جاتے ہیں۔ ان کے دور میں جب بھی پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کی بات ہوتی فوراً ان پر مودی کے یار اور غدار کی پھبتی کسی جاتی۔ نواز شریف بھولے سے بھی اگر بھارت کا نام لے لیتے تو ملک دشمنی کے تیروں کی بارش شروع ہوجاتی۔ مگر آج جب نئے پاکستان کے معمار بھارت کی بالادستی قبول کر کے اس سے امن کی بھیک مانگ رہے ہیں توکشمیر، کلبھوشن، پانی چوری، بھارتی دہشت گردی، را کی کارروائیاں، چینی قونصلیٹ پہ حملہ کچھ بھی اہم نہیں رہتا ا۔

مودی نواز شریف سے ملنے کے لیے خود پاکستان دوڑا آئے تو ہماری بے عزتی مگر ہمارا سپہ سالار اور نئے پاکستان کا وزیرِ اعظم بھارت کے ایک اوسط درجے کے سابق کرکٹر کو جپھی ڈالیں تو سب واہ وا کے ڈونگرے برساتے ہیں۔

نئے پاکستان والوں نے آئن سٹائن کی دیوانگی کی تعریف ہی غلط نہیں ثابت کی بلکہ بہت سے فلسفیوں، سائنسدانوں، دانشوروں اور ماہرین کے مشہور اور مستند نظریات اور مسلّمہ اصول بھی ان کی کرشمہ سازیوں اور معجزنمائیوں کی زد میں آنے والے ہیں۔ آئن سٹائن آج زندہ ہوتا تو اپنے نظریے کو نئے پاکستان میں یوں رسوا ہوتے دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جاتا۔ نئے پاکستان میں بار بار ایک ہی کام کے مختلف بلکہ باہم متضاد نتائج مرتب ہونے کا سلسلہ بڑی کامیابی سے جاری و ساری ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!

Facebook Comments HS