شکوہ ابا سے خاکم بدہن ہے مجھ کو


میں اپنے دونوں ننگے پیروں کو بستے کے پیچھے چھپائے شرمندہ شرمندہ بیٹھا ہوا تھا۔
ہوا یہ تھا کہ اس دن اسکول کے یونیفارم والے مخصوص سیاہ جوتوں کی بجائے میں شوق میں کتھئی رنگ کے جاگرز پہن کر اسکول چلا گیا تھا۔ اسکول والوں نے اسمبلی میں سے مجھے الگ کیا اور پھر میرے جوتے اتروا لیے۔ میرے ساتھ کچھ اور بھی لڑکے اور لڑکیاں تھے جن کو یہ سزا ملی تھی۔ اور پھر اس دن اسکول کی چھٹی تک ہم سب کو ننگے پاؤں ہی رہنا پڑا۔ یہ واقعہ ایک سے زیادہ مرتبہ میرے ساتھ ہوا۔

ہمارا اسکول ڈسپلن کے معاملے میں بہت سخت تھا۔ یونیفارم کے علاوہ کسی بھی قسم کے کپڑے اور جوتے پہننے کی سخت ممانعت تھی۔ لڑکیوں کو بھی میک اپ اور زیور وغیرہ کی اجازت نہیں تھی۔ اسکول کا مؤقف تھا کہ اسکول میں سب برابر ہیں اور سب کو برابر نظر بھی آنا چاہیے چناچہ ان معاملات میں اسکول کی ”عدم برداشت“ شدت پسندی کی حد کو چھوتی تھی۔ جتنا عرصہ میں اس اسکول میں رہا ”بندے کا پتر“ ہی بن کر رہنا پڑا۔

بچپن کی یہ یاد کیوں تازہ ہو گئی؟ اس کی وجہ کل سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پوسٹ ہے جس میں ایک والد صاحب نے اپنی صاحب زادی کے ”مہندی والے ہتھ“ ایک ڈائری نما کاپی کے خالی ورق پر رکھ کر ایک نوٹس کے ہمراہ تصویر بنائی اور پھر ایک معاملے کی اطلاع دیتے ہوئے پوسٹ کر دی۔ پہلے ہم نوٹس کے الفاظ دیکھتے ہیں پھر والد صاحب (اس بچی کے ) کی پوسٹ کے الفاظ پر غور کرتے ہیں۔

نوٹس کے الفاظ کے مطابق ”اگر کسی طالبہ کے ہاتھ پر مہندی لگائی گئی تو جب تک وہ مہندی اتر نہیں جاتی یا اتار نہیں دی جاتی، روزانہ طالبہ کو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا“۔ نوٹس کے الفاظ واضح ہیں کہ اگر مہندی لگائی گئی تو سزا ملے گی۔

اب والد صاحب کی پوسٹ کو دیکھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ انہیں رائے چاہیے۔ ان کی چھ سالہ بیٹی، جو پہلی جماعت کی طالبہ ہے، کو 11 ربیع الاول والے دن ہاتھوں پر مہندی لگانے کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر اسکول میں سزا دی جا رہی ہے۔ بچی کو اسمبلی میں نہیں حصہ لینے دیا جا رہا، بچی کو دوسری طرف کھڑا رکھا جاتا ہے جبکہ باقی بچے دوسری طرف بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس کو اپنی جماعت میں جانے سے پہلے سرزنش کر کے ذہنی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔

اس کو بریک نہیں دی جاتی۔ روزانہ کی بنیاد پر اسے زبانی اور تحریری نوٹس دیے جا رہے ہیں جو ڈائری میں لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ بچی جب اسکول سے گھر آتی ہے تو وہ کچھ نہیں بتاتی اور جب ہم اس کی ڈائری دیکھتے ہیں تو اس کے چہرے کے تاثرات یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں اور وہ رونا شروع کر دیتی ہے کہ وہ دوبارہ اس اسکول میں نہیں جانا چاہتی۔

والد صاحب اپنی پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں رہ گیا کہ وہ اپنی بچی کے دونوں ہاتھ جسم سے علیحدہ کر دیں کیونکہ وہ ان ننھے منے اور حساس ہاتھوں سے مہندی اتارنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ اس کے بعد والد صاحب کہ رہے ہیں کہ انہیں مشورہ دیا جائے کہ و ہ کیا کریں۔ اس پوسٹ کو لگانے کا فیصلہ انہوں نے دوسرے دن کی سزا اور نوٹس ملنے کے بعد کیا۔ ساتھ ہی وہ بتا رہے ہیں کہ وہ اسکول گلشن معمار کراچی میں واقع ہے۔

محترم والد صاحب کی پوسٹ پڑھ کر جہاں بچپن کی یادیں تازہ ہوئیں وہیں ذہن میں کچھ سوال بھی سر اٹھانے لگے۔ مثلاً والد صاحب نے اس معاملے پر اسکول سے رابطہ کرنے کی بجائے سوشل میڈیا پر اسے پھیلانے کو کیوں ترجیح دی۔ اور پہلے ہی نوٹس کے بعد کیوں نا اسکول سے رابطہ کیا بلکہ دو دن کی سزا اور نوٹسوں کے بعد سوشل میڈیا کا رخ کر لیا۔ اور یہ کہ نوٹس، جیسا کہ اس کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ پیشگی ہے، ایسی صورت میں بچی کے ہاتھوں پر مہندی کیوں لگائی گئی اور اسکول کے ڈسپلن کے جواب میں 11 ربیع الاول کا استعمال کیوں کیا گیا؟

اس پوسٹ پر رائے مانگی گئی تھی لیکن سوشل میڈیا صارفین اسے لے اڑے۔ پوسٹ وائرل ہو گئی۔ اس پوسٹ میں 11 ربیع الاول کا ذکر ہونے کی وجہ سے بات فرقہ بندی تک چلی گئی۔ لوگوں نے اسکول کے فرقے اور عقیدے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ چونکہ اسکول کا نام نہیں لکھا گیا اس لیے پرائیویٹ اسکولوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر جذباتی صارفین نے بچی پر توڑے جانے والے ظلم کی مذمت شروع کر دی اور بچی کو فوراً اسکول سے اٹھا لینے کے مشورے دینے شروع کر دیے۔

یہ کسی کو نہیں معلوم کہ اصل واقعہ کیا ایسے ہی پیش آیا ہے یا اس کر بڑھا چڑھا کر سوشل میڈیا پر پیش کیا گیا ہے لیکن اس پوسٹ کی بنیاد پر لوگوں نے جو رائے دی، اگر اکثریت کو مدنظر رکھا جائے تو یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ موجودہ زمانے میں چونکہ پرائیویٹ اسکولوں کو بھاری فیس دی جاتی ہے اس لیے اسکول کے ڈسپلن کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی۔ اسکول کو بچوں کو ڈسپلن سکھانے کی بجائے محض ان کی جی حضوری کرتے ہوئے صرف اور صرف فراہمی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور باقی معاملات میں کسی قسم کی کوئی روک ٹوک نہیں کرنی چاہیے۔

خیر، اسکول، بچی اور اس کے والد صاحب کے معاملات وہ جانیں، مجھے تو اپنے والد سے شکوہ کرنا ہے۔

جس دن میرے جاگرز اتروا کر مجھے اسکول میں ننگے پاؤں رہنے پر مجبور کیا گیا اس وقت آپ نے بجائے مجھے اسکول کا ڈسپلن سکھانے کے سوشل میڈیا پر پوسٹ لگا کر اسکول کی ایسی کی تیسی کیوں نہیں کر دی؟ اور جس دن میرے بال اسکول کی نظر میں بڑے ہونے کی وجہ سے مجھے اسمبلی میں سے نکال کر الگ کھڑا کر دیا گیا، اس دن بجائے نائی کے پاس لے جا کر میرے بال کٹوانے کے آپ نے کیوں اسکول والوں کو نہیں سمجھایا کہ اپنی مرضی کے بال رکھنا میرا انسانی حق ہے اور اسکول کا بال کٹوانے پر اصرار میرے انسانی حق کی خلاف ورزی ہے۔

اور جب مسلکی اختلاف کی بنیاد پر پورا ایک سال مجھے اسکول میں اساتذہ اور ساتھی طالب علموں کی جانب سے سماجی مقاطعہ بھگتنا پڑا تو آپ نے مجھے صبر سے کام لینے اور اپنی تعلیم پر توجہ رکھنے کی نصیحت کرنے کی بجائے مخالف فرقے کے مولوی سے مل کر کیوں نہیں اسکول کے خلاف کفر کے فتوے لیے؟ آپ نے کیوں نا سوچا کہ اسکول سے ملنے والی سزائیں میری نفسیات پر بھیانک اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ آپ نے کیوں اسکول میں مجھ پر ہونے والے ذہنی تشدد کو نا سمجھا؟ کیوں؟

کاش تب آپ نے ایسا کیا ہوتا تو آج میرے دل میں اپنے اسکول کے ڈسپلن کی عزت کی بجائے انسانی حقوق کی پاس داری کا احساس ہوتا۔ اور میں سوشل میڈیا اور اپنے کالم میں اسکول کے پرخچے اڑا رہا ہوتا۔

Facebook Comments HS

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 122 posts and counting.See all posts by awais-ahmad