کچھ ”سیاہ سی“ باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں ہر شخص، ہرگروہ اور ہر جماعت اپنے منہ میاں مٹھو، صادق و امین اور محب الوطن ہے جبکہ ان کے مخالفین سراپا لغزشوں اور خباثتوں میں لت پت ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے سوقیانہ پن، گالی گلوچ اور کینہ پروری کو تہذیب کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ جانے والوں کا منہ کالا اور آنے والوں کا بول بالا ہے۔ یہاں جیت اللہ کے فضل سے اور ہار صرف دھاندلی سے ملا کرتی ہے۔ اپنے نظام سیاست میں بیت الخلائی مخلوق یعنی لوٹوں کا کردار ہمیشہ سے کلیدی رہا ہے۔

یہ صورتِ خورشیدہی تو ہیں کہ ِادھر ڈوبے، اُدھرنکلے مگر اب تو انہیں بھی عزت دی جانے لگی ہے اور وہ الیکٹ ایبل کے متبرک اور مطہر نام سے موسوم ہوچکے ہیں۔ ضرورت سدا ہی نظریوں کی ایجاد کی ماں رہی۔ جب ہم عدالتوں کے ساتھ ”عالیہ“ اور ”عظمٰی“ کا نام سنتے ہیں تو عجیب سی رومانوی خوشی ہوتی ہے تاہم کبھی کبھی عدالت کے ساتھ ”دیوانی“ کا لفظ ناخوشگوار دیوانیت کا باعث بھی بنتا ہے۔ بی بی شہید پیار سے انہیں ”کینگرو“ بھی کہا کرتی تھی۔

عدالت سے عداوت کبھی سود مند نہیں۔ اہلیانِ تخت و تاج کبھی اس بات سے غافل نہ ہوں کہ تختہ ان کی شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ رائے ہے کہ ایک جماعت عوام کا خون پی گئی، دوسری گوشت کھا گئی جبکہ تیسری کھال کے در پے ہے۔ انقلابی تبدیلی کا یہ عالم کہ اب آدھی رات کوبھی ادارے اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں دقیقہ فروگزاشت کرنے کو تیارنہیں۔ مزید یہ کہ معرکہء حق وباطل میں ہر گھر میں ”دو قومی نظریہ“ وجود میں آچکا ہے جس کے موجب افراد خانہ باہم بر سر پیکار ہیں۔

بیرونی قرضوں کی بابت سابقہ حکومتوں کی مُنی خاصی بدنام رہی ہے مگر اب کے نئی سرکار سے قبل ہی قرض کی ولائیتی مئے سے تاریخ کے مہنگے ترین انتخا بات کی فاقہ مستی میں رنگ بھر دیے گئے۔ کبھی دوسرے ممالک اور آئی ایم ایف سے قرض لینا جرم اور شرمندگی تھی پر آج ترقی اور تفاخر کی علامت ٹھہرا ہے۔ ہیلی کاپٹر، پروٹوکول، بڑی کابینہ ماضی میں حرام جبکہ اب حلال ہوچکی ہے۔ ماضی میں دھرنے ملکی ترقی اور استحکام کے لئے اشد ضروری تھے جبکہ اب نظریہء یو ٹرن کے تحت بغاوت کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔

گالی، طعن و تشنیع، الزامات او ر اداروں پہ لعنتں رسید کرنا باعث صد افتخار تھا لیکن آج توہینِ وزارت و عدالت ٹھہرا ہے۔ آج کچھ طبقات کی لغزشاتِ صغیرہ کو بھی نگاہِ کبیرہ سے دیکھا جارہا ہے۔ اب ہماری سیا ست میں فاختہکی گنجائش نہیں ہے بلکہ صرف عقابوں کا راج ہے۔ اب ہمارا ہر پہلو بے مہار ہو چکا ہے۔ ہمارے ہاں بے مہار سیاست دانوں، بے مہار ُملاؤں، بے مہار لبرلز، بے مہار وکیلوں، بے مہار قوم پرستوں اور بے مہار صحافیوں کے سوا اور بچا ہی کیا ہے؟

پہلے یہ ریاست ڈسٹوپیا تھی مگر اب نئے پاکستان میں یوٹوپیا بننے جارہی ہے۔ تسلیم کرنا ہوگا کہ باریاں لینا صرف دو جماعتوں کا ہی استحقاق نہیں بلکہ باری کے اور بھی مستحقین ہیں مگر قربان جائیے ان قسمت کے دھنی مستریوں کے جو پہلے پرانے پاکستان اور اب نئے پاکستان کی تعمیر میں اپنی انجینئیرانہ و ماہرانہ صلاحیتیں صرف کرنے جارہے ہیں۔ ادھر رکشہ پارٹیوں کی بھی خوب چاندی ہوئی ہے اور ان کے کاسہ ہائے چشم حریصاں پُر ہوتے نہیں دِکھتے۔

آج ہر طرف تبدیلی کا شور صوتی آلودگی کی حد تک مچا ہے۔ نا ممکن امیدوں کے سبز باغات کھلے ہیں۔ تمام اچھائیاں موجودگان کے موجب اور برائیاں گذشتگان کے سر ہیں۔ ہر کس و ناقص امید سے ہے۔ حکومت اپوزیشن کی چیخیں سننے کی امید سے ہے۔ اپوزیشن حکومتی لغزشوں اور بد نظمیوں کے انتظار کی امید سے ہے جبکہ آبادی کے حوالے سے پوری قوم ہی ہر وقت امید سے ہے۔ دوسری جانب مکافات ِ عمل سے بھی انکار ممکن نہیں۔ لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا کے مصداق چار دہائیاں پہلے کسی کی خاطر کھودے گئے کنوؤں میں یار لوگ خود گر چکے ہیں۔

بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے، میٹر، اورنج اور شاہرات انہیں بچانے سے قاصر ہیں۔ پُلیں تو اتنی بنا چکے کہ اب خود پُل صراط سے دوچار ہیں۔ روٹی پانی مکان میں بھی پھنستے نظر آرہے ہیں اوراپنے ہی وعدہ معافوں کے روپ میں آشیانوں پہ بجلیاں گرا رہے ہیں۔ اب سمجھ میں آرہا ہے کہ تاریخ میں واٹر گیٹ، وارم واٹر، واٹر لو، پانی پت اور کالا پانی کیوں مشہور ہیں۔ ان کے آج انہیں گرانے والوں کا انتظار ”وقت“ بڑی شدت سے کررہا ہے کیونکہ تاریخ تو اب بھی لکھی جارہی ہے۔

اپمائر کو ساتھ ملا کر کھیلنے کی نشان دہی کرنے والے آ ج خود امپائروں کے کندھوں پہ سوار نظر آتے ہیں۔ ا نقلابی چکی کے بھاری پاٹوں میں انسانوں کے ساتھ ساتھ بیچارے جانور بھی زیر عتاب ہیں۔ سب سے معتوب جانور گدھا ہے۔ جس پہ پہلے ہی کافی ستم رواتھے پرڈبویا اس کو ہونے نے کہ اب اسے ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنا کر سیاسی غصے نکالے گئے۔ تاہم قسمت اب اسے سنیماؤں میں ڈونکی گنگ بنائے پھرتی ہے۔ ماضی میں تیر انداز جانوروں کا شکار کرتے تھے، اب جیو گرافک چینل میں دیکھتے ہیں کہ گاڑیوں اور جیپو ں میں بیٹھے لوگ بھی بآسانی ایسا کرسکتے ہیں۔ عوام کو دیکھیں تو علاقائی اور شخصی سیاست حاوی ہے۔ سیاسی راہ نما قوم کو اس حد تک تقسیم اور ایک دوسرے سے متنفر کرچکے ہیں کہ اب دور دور تک ایک قوم کا خواب محض خواب ہی لگتا ہے۔ ویسے اقبال شناس احباب بخوبی جانتے ہیں کہ علامہ اقبال نے اربابِ سیاست کو ابلیس کے فرزند کیوں گردانا تھا؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں