رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محّبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افضل البشرؐ سے محبّت:

قرآن کریم کی مختلف آیات کریمہ اور متعدد احادیث شریفہ سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ ایک مسلمان کو اللہ تعالی، سیدنا محمد رسول اللہؐ اور دین اسلام سے بے انتہا محبت کرنی چاہیے۔ در حقیت یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک شخص اللہ تعالی سے محبت کرے، مگر اس کے پیارے رسول محمدؐ سے محبت نہ کرے یا اس کے بھیجے ہوئے دین اسلام سے محبت نہ کرے، یا اللہ کے رسولؐ سے محبت کرے اور اللہ تعالی اور دین اسلام سے محبت نہ کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ آپؐ سے محبت کرنا ضروری ہے اور کمال ایمان اسی پر موقوف ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپؐ کونبی ورسول ہونے کے ساتھ، اللہ تعالی نے آپؐ ایک ایسا انسان بنایا تھا جوکسی بھی طرح کے نقص سے پاک تھا۔ آپؐ کو من جانب اللہ حسن وجمال، لیاقت وکمال اوراحسان ونوال کا اتنا وافر حصہ ملاتھا کہ آپؐ کے علاوہ کسی شخص کو میسر نہیں ہوا۔ آپؐ اس دنیا کے کامل ومکمل انسان اور افضل البشر تھے۔ پھر آدمی آپؐ سے محبت کیوں نہ کرے!

محبت کا مفہوم ومطلب:

علامہ عینیؒ ( 1361۔ 1451 ء) فرماتے ہیں : ”دل کا تعلق اورمیلان کسی چیز کی طرف ہونا، اس تصور سے کہ اس میں کو‏ئی کمال اور خوبی وعمدگی ہے، اس طرح کہ وہ شخص اپنے رجحان اورآرزووخواہش کا اظہار اس چیز میں کرے جو اس کو اس سے قریب کردے“۔ (عمدۃ القاری 1 / 142 )

قرآن کریم میں آپؐ سے محبت کا تذکرہ:

ارشاد خداوندی ہے : ( ترجمہ) ”ایمان والوں کے لیے یہ نبی ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہیں۔ “ (الأحزاب: 6 )

مفتی محمد شفیعؒ ( 1897۔ 1976 ) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ”نبیؐ مومنین کے ساتھ تو ان کے نفس اور ذات سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں ؛ کیوں کہ انسان کا نفس تو کبھی اس کو نفع پہونچاتا ہے، کبھی نقصان؛ کیوں کہ اگر نفس اچھا ہے، اچھے کاموں کی طرف چلتا ہے ؛ تو نفع ہے اور برے کاموں کی طرف چلنے لگے ؛ تو خود اپنا نفس ہی اپنے لیے مصیبت بن جاتا ہے، بخلاف رسول اللہؐ کے کہ آپؐ کی تعلیم نفع ہی نفع اور خیر ہی خیر ہے۔

اور اپنا نفس اگر اچھا بھی ہو اور نیکی ہی کی طرف چلتا ہو، پھر بھی اس کا نفع، رسولؐ اللہ کے نفع کے برابر نہیں ہوسکتا؛ کیوں کہ اپنے نفس کو تو خیر وشر اور مصلحت ومضرت میں مغالطہ بھی ہوسکتا ہے اور اس کو مصالح ومضار کا پورا علم بھی نہیں، بخلاف رسول اللہؐ کے کہ آپؐ کی تعلیمات میں کسی مغالطہ کا خطرہ نہیں اور جب نفع رسانی میں رسول اللہؐ ہماری جان اور ہمارے نفس سے بھی زیادہ ہیں ؛ تو ان کا حق ہم پر ہماری جان سے زیادہ ہے اور وہ حق یہی ہے کہ آپؐ کی ہر کام میں اطاعت کریں اور آپؐ کی تعظیم وتکریم تمام مخلوقات سے زیادہ کریں“۔ (معارف القرآن 7 / 85۔ 86 )

ایک دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے : ) ترجمہ ( ”آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس میں نکاسی نہ ہونے کا تم کو اندیشہ ہواور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو؛ تم کو اللہ سے اور اس کے رسولؐ سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہوں ؛ تو تم منتظر رہو۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی اپنا حکم (سزائے ترک ہجرت کا) بھیج دیں۔ اور اللہ تعالی بے حکمی کرنے والے لوگوں کو، ان کے مقصود تک نہیں پہنچاتا۔ “ (التوبۃ: 24 )

آپؐ سے محبّت کمال ایمان:

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اس کواپنے والد (ماں اور باپ) اور اپنی اولاد سے زیادہ میں محبوب نہ ہوجاؤں“۔ (بخاری: 14 )

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اس کو اپنے والد (ماں اور باپ) ، اپنی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ میں محبوب نہ ہوجاؤں“۔ (بخاری: 15 )

ان مذکورہ بالا حدیث سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ”جب تک نبیؐ سب سے زیادہ محبوب نہ ہوجائیں، ایمان کامل نہیں ہوسکتا“ ؛ جب کہ بسا اوقات طبعی طور پر ایک آدمی کا قلبی لگاؤ اور دل کا میلان اپنے والدین، خویش واقارب اور بیوی بچوں کی طرف زیادہ ہوجاتا ہے۔ بظاہر اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی بھی مسلمان ”کامل مومن“ نہیں ہے؟ محدثین کرام نے اس سوال کا جواب یوں دیا ہے کہ محبت کی تین قسمیں ہیں :

محبت طبعی: یہ غیر اختیاری محبت ہے۔ والدین، خویش واقارب اور بیوی بچوں سے جو محبت ہوتی وہ محبت طبعی یعنی غیر اختیاری ہوتی ہے۔ حدیث میں یہ ”محبت طبعی“ مراد نہیں ہے۔

محبت ایمانی: یہ اختیاری محبت ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک کام کے کرنے سے طبیعت انکار کرتی ہے ؛ مگر ایمان یہ تقاضا کرتا ہے، یہ کام شریعت کا حکم ہے ؛ اس لیے ہمیں یہ کام کرنا ہے۔

محبت عقلی: یہ بھی اختیاری محبت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بسا اوقات طبیعت کا میلان کسی کام یا حکم کی ادائیگی کی طرف نہیں ہوتا ہے ؛ مگر عقل رہنمائی کرتی ہے اس حکم کے بجالانے میں ہمارا فائدہ ہے ؛ لہذا ہم اسے کرتے۔ حدیث میں جس محبت کا ذکر ہے، وہ یہی محبت اختیاری یعنی محبت ایمانی اور محبت عقلی کا ذکر ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانیؒ ( 1372۔ 1448 ) فرماتے ہیں : ”والمراد بالمحبة ہنا حب الاختیار لا حب الطبع“ (فتح الباری 1 / 59 ) یعنی حدیث جس محبت کا ذکر ہے، اس سے مراد محبت اختیاری ہے نہ کہ محبت طبعی۔

محبت کے اسباب:

عام طور ایک آدمی کسی سے تین اسباب میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ کی وجہ سے محبت کرتا ہے۔ وہ اسباب : حسن وجمال، لیاقت وکمال اوراحسان ونوال ہیں۔ یہ اسباب آپؐ کی مبارک ذات میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ ان اسباب کو ذیل میں بیان کیا جارہا ہے :

حسن وجمال: ایک آدمی کسی سے محبت اس کی ظاہری خوب صورتی وجمال کی وجہ سے کرتا ہے، جیسا کہ زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام سے حسن وجمال کی وجہہ سے محبت کی۔ نبی اکرمؐ تو دنیا کے حسین ترین انسان تھے۔ آپؐ کے حسن وجمال کی گواہی متعدد صحابۂ کرامؓ نے دی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولؐ سے زیادہ خوب صورت کوئی چیز نہیں دیکھی، گویا سورج آپؐ کے چہرے میں رواں (چہرہ نہایت ہی منور) تھا۔ (شمائل ترمذی: 116 )

کمال: کسی سے محبت کا ایک سبب اس کے اندر کا کمال ولیاقت اورخوبی وعمدگی بھی ہوتی ہے، جیسے علم وفضل اور صلاحیت وصالحیت وغیرہ۔ آپؐ میں سیکڑوں کمالات تھے۔ آپؐ پر نبوت ختم ہوئی اور آپؐ خاتم النبئین تھے۔ آپؐ نے فرمایا: ”مجھ پر نبوت ختم ہوئی اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا“۔ (المعجم الأوسط: 3274 ) اللہ تعالی نے آپؐ کو اولین وآخرین کے علم سے نوازا تھا۔ پھر مخلوقات میں جتنے بھی کمالات ہیں وہ سب آپؐ کے ہی واسطے سے ہیں ؛ کیوں کہ آپؐ ہی مبلغ اور قاسم ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ”إنّما أنا قاسم واللھ یعطی“۔ (بخاری: 71 )

احسان: ایک آدمی کسی کے احسان کی وجہہ سے بھی اس سے محبت کرتا ہے۔ صفت احسان بھی نبی اکرمؐ میں حد درجہ پائی جاتی تھی۔ حدیث میں ہے : ”اللہ کے رسولؐ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے۔ جب رمضان کا مہینہ آتا؛ تو آپؐ جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کرتے تھے۔ (اور خاص طور پر رمضان میں ) آپؐ کی سخاوت ہوا سے بھی زیادہ تیز ہوتی تھی۔ “ (مسند احمد: 3469 )

آپؐ سے محبت کا تقاضا:

صرف زبان سے یہ کہہ دینا کہ ہم اللہ تعالی اور نبی اکرمؐ سے دل وجان سے محبت کرتے ہیں، کافی نہیں ہے ؛ بل کہ آپؐ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان احکام خداوندی کو بجا لائیں جن کا اللہ تعالی نے حکم دیا اور ان چیزوں سے رک جائیں جن سے ذات باری تعالی نے منع فرمایا ہے۔ قرآن کریم کی ہدایات کو اپنے سینے سے لگائیں۔ ہم رسول اکرمؐ کی سنتوں پر عمل کریں۔ آپؐ کی زندگی کو ہم اپنے لیے نمونہ بنالیں اور اسی کے مطابق ہر کام انجام دیں۔

آپؐ کے شمائل وسیرت کا مطالعہ کریں۔ آپؐ کا خوب ذکر کریں۔ آپؐ پر درود وسلام کا نذرانہ پیش کریں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : (ترجمہ) ”آپ فرمادیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو؛ تو تم لوگ میرا اتباع کرو، اللہ تعالی تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمھارے سب گناہوں کو معاف کردیں گے اور اللہ تعالی بڑے معاف کرنے والے، بڑے عنایت فرمانے والے ہیں“۔ (آل عمران: 31 )

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں