اس تحریر میں آفتاب رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار، حسن و جمال، عادت و خصلت، اوصاف و کمالات اور شمائل و خصائل کا وہ نقشہ پیش کرنا مقصود ہے جوآپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے الفاظ میں نقل ہوتے آیا ہے۔ ہم اس کا آغاز اُمّ معبد رضی اللہ عنہا کے الفاظ سے کرتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے پس منظر پیش خدمت ہے۔
جب کفار و مشرکین پیغمبر انقلاب کے قتل کے درپے ہوگئے ؛ توانھوں نے بحکم خداوندی مکہ مکرمہ سے یثرب، جو بعد میں مدینہ منورہ بنا اور ہمیشہ کے لیے بن گیا، کی طرف اپنے رفیق غار و مزار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی معیت میں روانہ ہوئے۔ قافلۂ اہل حق کٹھن راستے کو طے کرتے ہوئے مدینہ کی سمت بڑھتا جارہا تھا۔ چلتے چلتے راستہ میں ایک علاقہ سے گزر ہوا جسے ”قدید“ کا علاقہ کہا جاتا ہے۔ اس علاقہ میں ایک چھوٹی سی بستی تھی، جس میں ”قبیلہ خزاعہ“ کے لوگ بود و باش اختیار کیے ہوئے تھے، وہاں ایک خیمہ تھا۔
اُمّ معبد خزاعیہ کون ہیں؟ آپ کا نام عاتکہ بنت خالد بن منقذ الخزاعی اور کنیت اُمّ معبد ہے۔ یہ قبیلہ خزاعہ کی ایک باوقار اور با عفت، نمایاں اور توانا خاتون تھیں ؛ قبیلہ خزاعہ کی طرف منسوب کرکے آپ کوخزاعیہ کہاجاتا ہے۔ گاؤں دیہات کے خیمہ میں رہنے والی غیر مشہور، غیر خواندہ، مگر عقل مند و دانا خاتون تھیں۔ ان کی زبان بڑی ہی فصیح و بلیغ تھی۔ بکری چرانے والے ابو معبد کی رفیقۂ حیات تھیں۔ گوشۂ اسلام میں داخل ہونے سے پہلے بھی راستے سے گزرنے والے لوگوں کا استقبال کرتی تھیں اور جو کچھ میسر ہوتا کھلاتی پلاتی تھیں اور ایسا کرنے سے کیا مانع ہوتا؛ جب کہ وہ ایک عرب خاتون تھیں۔
Read more