کوکھ کی چوٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صبح چار اور پانچ کے درمیان باقر بھائی کو کراچی سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی اور صبح گیارہ بجے ان کی لاش گھر پہنچا دی گئی۔ ان کی گرفتاری سے مقدمہ تک، فیصلے سے اپیلوں تک اور پھانسی سے لاش گھر پہنچنے تک، مجھے یاد نہیں ہے کہ میں نے امی کی آنکھوں کو کبھی خشک دیکھا ہو۔ آنسو جھرنے کی طرح بہتے رہے تھے، باقر بھیا کی تدفین کے چھ دن کے اندر اندر امی کا بھی انتقال ہوگیا تھا۔

جب لاش گھر پہنچی تو پہلی دفعہ مجھے ایسا لگا جیسے امی نے رونا بند کردیا ہے۔ آنسوؤں کے سوتے خشک ہوگئے ہیں۔ ایدھی کی ایمبولینس سے باقر بھیا کی لاش کو آہستہ آہستہ باہر نکالا گیا، چار پانچ مردوں نے اسٹریچر کو پکڑ کر اٹھایا اور اندر گھر میں پہلے سے تیار کیے ہوئے کمرے میں لاش کو تخت کے اوپر رکھ دیا گیا تھا۔

امی اپنے مڑے تڑے ہاتھوں سے میرا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں آئی تھیں اور سب سے کہا کہ تھوڑی دیر کے لیے غسلانے سے پہلے سب لوگ کمرہ خالی کردیں۔ میری ہچکیاں بندھی ہوئی تھیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں۔ یہ تو میں نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ باقر بھیا کو پھانسی لگ جائے گی۔

انہوں نے آہستہ سے بھیا کے چہرے سے چادر ہٹائی، بھیا کے چہرے پر ایک بڑا سا پیدائشی نشان تھا، سُرخ سا، جو دائیں گالوں کے اوپر سے شروع ہوکر کنپٹی تک پہنچتا تھا انہوں نے آہستہ آہستہ اس پر ہاتھ پھیرا، ان کی پیشانی پر آنکھوں کا بوسہ دیا اور اس پیدائشی نشان کو تھوڑی دیر تک چومتی رہیں۔ بھیا نے امی کی سی ہوئی سفید قمیض پہنی ہوئی تھی۔ امی نے آہستہ سے قمیض کے بٹن کھولے، بالکل ویسا ہی نشان بھیا کی دائیں چھاتی پر تھا۔ گول سا پھیلا ہوا سُرخ سا۔ امی نے آہستہ آہستہ اس پیدائشی نشان کو بھی چوما، آنکھوں سے لگایا، گالوں سے دبایا اور دوبارہ قمیض کے بٹن لگا کر چادر بھیا کے مُنھ پر ڈال دی۔

”غسال کو بلالو بیٹا، باقر کے جانے کا وقت ہے۔ “ میں پھر ایک بار پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی مگر امی کے چہرے پر جیسے ایک ویران سا اطمینان تھا۔

میں نے کمرہ کھولا اور امی کے ساتھ باہر آکر بیٹھ گئی۔ ظہر کی نماز سے پہلے جنازہ تیار ہوگیا۔ ساجد بھائی بھی ایک ہفتے پہلے سعودی عرب سے کراچی آچکے تھے وہ اور عامر دونوں ہی گھر میں ہر قسم کے کاموں کونمٹارہے تھے، میں امی کے ساتھ بیٹھی ہوئی بچوں کو سپارے پڑھتی ہوئی، دانوں پر ورد کرتے ہوئے دیکھتی رہی، روتی رہی، امی کی آنکھیں خشک تھیں، ویران جیسے کوئی صحرا بیابان۔ ٹھیک ایک بجے گھر کے مرد کلمہ پڑھتے ہوئے باقر بھیا کے جنازے کو گھر سے نکال کر قبرستان چلے گئے تھے۔

باقر بھیا سب سے بڑے تھے، ان کے بعد دو بھائی ساجد اور عامر اور پھر میں سب سے چھوٹی تھی گھر میں۔ باقر بھائی مجھ سے آٹھ سال بڑے تھے۔ میں چھ ماہ کی ہی تھی کہ ابو کا انتقال ہوگیا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ بس کے ایکسیڈنٹ میں مرگئے تھے۔ تیزی سے جاتی ہوئی، ریس کرتی ہوئی بس فٹ پاتھ سے ٹکرائی اور اس حادثے میں سات آدمی مر گئے۔ ان میں سے ایک میرے ابو بھی تھے۔ مجھے یاد نہیں ہے کہ امی نے کبھی بھی ابو کے بارے میں مجھ سے کوئی بات کی ہو، وہ ابو کے ذکر پر ہمیشہ خاموش ہوجاتی تھیں۔

یہ ساری باتیں تو مجھے خالہ جانی اور ماموؤں سے پتہ لگی تھیں۔ یہ بھی پتہ لگا کہ ابو کے مرنے کے فوراً بعد کرائے کا گھر خالی کرنا پڑگیا اور امی ہم چار بچوں کے ساتھ خالہ جانی کے گھر آگئی تھیں۔ خالو اچھے آدمی تھے، مالدار تھے۔ انہوں نے خالہ جانی سے خود ہی کہا کہ وہ کفالت کریں گے ہم سب کی اور بہت ضد کرکے ہمیں اپنے گھر لے آئے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ہم سب کو لکھا پڑھا دیں گے اس قابل کردیں گے کہ زندگی کی دوڑ میں کامیاب ہوسکیں۔ امی اور ان کے گھر والوں نے روایت کے مطابق چار بچوں کے ساتھ دوسری شادی کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا۔

پھر یہ ہوا کہ باقر بھیا کی شرارتوں سے خالہ خالو اور خالو کے گھر والے پریشان ہوکر رہ گئے۔ مجھے یہ بتایا گیا کہ باقر بھیا کی شرارتوں سے زیادہ امی کی ان کے بارے میں غیر ضروری جانبداری تھی جس سے خالو پریشان ہوگئے۔ وہ گھر کی چیزیں توڑ دیں، اسکول سے بھاگ آئیں، خالو کے پیسے چرالیں، خالہ کے زیور بیچ دیں، بچوں کو تنگ کریں، بڑوں سے بدتمیزی کریں مگر امی کا مطالبہ تھا کہ انہیں کچھ نہ کہا جائے، وہ لاڈلے تھے ان کے۔

میں نے امی کو ہمیشہ انہیں پروٹیکٹ کرتے ہوئے، ہمیشہ ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ان کی جائز ناجائز ہر بات کی حمایت کرتے ہوئے دیکھا۔ انہیں ان میں کوئی برائی، کوئی خرابی نظر ہی نہیں آتی تھی۔ انہوں نے جیسے اپنے دل و دماغ میں طے کرلیا تھا کہ باقر بھائی کبھی کچھ برا کر ہی نہیں سکتے ہیں، ان کے لیے دنیا میں وہی سب کچھ تھے۔

ایک سال کے اندر ہی خالو نے گھر کے بڑوں کی میٹنگ بلالی اور پھر یہی فیصلہ ہوا کہ ہم سب خالو کے گھر سے ماموں جان کے گھر منتقل ہوجائیں۔

ماموں جان کو جوان بیوہ بہن کا بڑا درد تھا۔ وہ تو شروع دن سے ہی چاہتے تھے کہ ہم سب ان کے ساتھ رہیں مگر ابو کے انتقال کے فوراً بعد معاملات کچھ اس طرح سے ہوئے اور خالو جان نے کچھ اتنی بڑھ کر گرمجوشی دکھائی کہ وہ اس وقت کچھ کہہ نہیں سکے۔ پھر خالو جان زیادہ ذی حیثیت تھے اورخالہ جان کے بہناپے کا دباؤ بھی تھا کہ امی نے ان کے گھر ہی جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ماموں جان کے گھر میں حالات ذرا مختلف تھے، انہوں نے پہلے ہی سے فیصلہ کرلیا تھا کہ باقر بھیا کو کچھ نہیں کہیں گے۔ اپنی بہن کی فطرت کا انہیں اندازہ تھا۔ وہ باقر بھیا کے سلسلے میں کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھیں۔ ماموں جان کی ساری توجہ اپنے بچوں، میرے دو بھائیوں اور مجھ پر رہی۔ ہم سب اسی ڈسپلن کے پابند کرائے گئے جو ان کے بچوں کے لیے بھی تھا۔ وقت پر کھانا وقت پر سونا، وقت پر اسکول جانا اور وقت پر ٹیوشن پڑھنا۔

ماموں جان کے گھر میں کبھی احساس نہیں ہوا کہ ہم ان کے حقیقی بچّے نہیں ہیں۔ ان کی ہی مدد، رہنمائی اور مستقل نظر تھی کہ جس کی بدولت ساجد نے کمپیوٹر میں ڈگری لی۔ عامر انجینئرنگ کالج سے انجینئر بن کر نکلا اور میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کرنے کے بعد کالج میں پڑھا رہی تھی۔ ساجد بھائی کی سعودی عرب میں نوکری کے بعد ماموں جان کے گھر کے نزدیک ہی ہم لوگوں نے اپنا ایک چھوٹا سا گھر بھی خرید لیا اور زندگی بظاہر پُرسکون ہوگئی تھی۔

باقر بھیا نے بڑی مشکل سے دسویں کا امتحان نہ جانے کتنی دفعہ فیل ہونے کے بعد پاس کیا۔ اس کے بعد وہ کسی پریس میں ملازمت کرنے لگے۔ پریس کی نوکری چھوٹی تو وہ کسی اخبار میں کام کرتے رہے۔ ان ہی دنوں پتہ لگا کہ امی نے اپنے زیورات بیچ کر باقر بھیا کو کچھ پیسے دیے ہیں کہ وہ بزنس کریں گے۔ بزنس بھی ان کا ناکام ہوگیا پھر وہ سول کورٹ میں ملازمت کرنے لگے تھے۔ باقر بھیا کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ وہ کہاں ہیں، کب آتے ہیں، کب جاتے ہیں، کیا کرتے ہیں، کتنا کماتے ہیں اور کہاں خرچ کرتے ہیں، ان کی دنیا اور تھی اور ہم لوگوں کی دنیا اور۔

ان کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کا سامنا ماموں جان سے کبھی بھی نہ ہو اور اگر ہوتا بھی تھا تو وہ سر جھکائے ان کی باتیں سنتے تھے، نہ ہاں نہ ناں اور پھر کئی کئی دنوں کے لیے غائب ہوجاتے تھے۔ امی ہمیشہ ان کا ساتھ دیتی تھیں۔ مجھے کبھی ایسا نہیں لگا کہ امی نے مجھے، ساجد کو، عامر کو ہمارے حصے کا پیار نہیں دیا ہو۔ وہ ہمیں بھی چاہتی تھیں، ٹوٹ کر چاہتی تھیں۔ ہر وہ کام کیا انہوں نے جو مائیں کرتی ہیں۔ صبح سویرے اُٹھ کر ہمیں ناشتہ دینا، ہمارے لیے راتوں کو پریشان ہونا، راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر ہمیں سردیوں میں چادر کمبل اُڑھانا، ہمارے ساتھ بیٹھ کر ہمارا ہوم ورک کرانا، ہمارے سر کے درد پر، معمولی بخار پر، چھوٹی سی چوٹ پر تڑپ تڑپ جانا۔

رات سونے سے پہلے وہ خاموشی سے ہمارے کمرے میں آتیں اور دھیرے دھیرے دُعائیں پڑھ کر ہمارے اوپر پھونکتی تھیں۔ میں کبھی بھی امی کے پیار کا شمار نہیں کرسکوں گی۔ ممتا کی کوئی کمی نہیں تھی ان میں۔ لیکن کبھی کبھی احساس سا ہوتا تھا کہ باقر بھائی ہم سب سے زیادہ پیارے ہیں انہیں۔ ان کا کوئی خاص مقام تھا ان کے پاس، ان کے لیے ہمیں ڈانٹ بھی پڑتی، بُرا بھلا بھی کہا جاتا مگر مجھے یاد نہیں ہے کہ میں نے امی کو کبھی بھی باقر بھیا کے لیے کچھ بھی بُرا کہتا ہوا سنا ہو یا خود کبھی انہیں کچھ کہا ہو، وہ ہمیشہ ان کی تعریف و توصیف ہی کرتی رہتی تھیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •