مستقبل کا ایک امتحانی پرچہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مردان کے تحصیل کاٹلنگ کے ایک پرائمری سکول کی ویڈیو اس وقت سوشل میڈیا پر گردش میں ہے۔ اس ویڈیو میں سکول کے بچے تقریب انعامات کے پروگرام میں ملک کی حکمران سیاسی جماعت، تحریک انصاف کا پارٹی ترانہ گا رہے ہیں۔ خبر یہ ہے کہ کھوئی برمول کے سرکاری سکول انتظامیہ نے اس تقریب کے لئے تحریک انصاف کے ایک ایم پی اے کو مدعو کر رکھا تھا جن کے سامنے بچوں نے ’ تبدیلی آئی رے‘ پیش کیا۔ دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان نے اپنی حکومت کے سو دن پورے ہونے کے بعد ایک تقریب میں ملک کو درپیش معاشی بحران کے حل کے لئے کچھ تجاویز پیش ہیں۔ ایک اور جانب راولپنڈی میں ایک مولانا صاحب مجمع سے خطاب کرتے ہوئے( تلاوت کے انداز میں) ملک کے آرمی چیف کے فضائل پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ کچھ اقوال زریں روز ہمارے وزیر اطلاعات ازراں کرتے رہتے ہیں۔ اس پورے منظرنامے کو دیکھ کر من میں کچھ عجیب خیال آتے ہیں۔ حضرت غالب ہوتے تو کہتے کہ آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں مگر وہ تو غالب تھے۔ ہمیں تو بس وسوسے آتے رہتے ہیں۔ اگر سکول کے بچے کسی جماعت کا ترانہ گا سکتے ہیں تو کوئی اور نصابی انتظامیہ ملک کے مفاد میں ایسا امتحانی پرچہ بھی تیار کر سکتی ہے جس کے سوال مندرجہ ذیل ہوں۔

درجہ ذیل میں سے پانچ سوال حل کریں۔ تمام سوالات کے نمبر مساوی ہیں۔( کل نمبر 100)

سوال نمبر1:۔          بھینس کی بچی کو دودھ پلانے کی افادیت پر ایک مفصل نوٹ لکھیں، نیز یہ بھی واضح کریں کہ بچھڑا (جسے کٹا کہتے ہیں) کو دودھ سے کیوں محروم رکھا جاتا ہے؟

سوال نمبر2:۔          انڈے اور مرغی کے نفسیاتی تعلق پر روشنی ڈالیں۔

سوال نمبر 3:۔         شیخ چلی کے معاشی نظریہ مرغیاں و انڈے پر پاکستان کے معاشی صورتحال میں افادیت پر ایک مفصل نوٹ لکھیں۔

سوال نمبر 4:۔          تارکین وطن پاکستانی ایک ایک ہزار ڈالر بھیج کر بھاشا ڈیم کو تکمیل کے مراحل تک پہنچائیں؟ یا پھر تارکین وطن ایک ایک مرغی خرید کر اگلے سال انڈوں اور چوزوں سمیت پاکستان بھیج کر ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور غیر ملکی قرضہ اتارنے میں مدد دیں؟ ان دونوں معاشی نقطہ ہائے نظر کا تقابلی جائزہ لیں ۔

سوال نمبر5:۔          ” ہم مصروف تھے“ کے انتظامی اثرات اور شعری ذوق پر ایک مفصل نوٹ لکھیں۔

سوال نمبر 6:۔          تحریک لبیک مسلسل عوام کی جان و مال کے لئے خطرہ بن گئی ہے اور مذہب کی آڑ لے کر سیاست کر رہی ہے(ٹویٹ)۔ خادم رضوی کو پولیس نے حفاظتی تحویل میں لیا ہے اور ایک گیسٹ ہاﺅس منتقل کیا ہے(ٹویٹ)۔ ان دونوں ٹویٹس میں عوام کی جان و مال کے لئے خطرہ بن جانے پر حفاظتی تحویل میں گیسٹ ہاﺅس منتقلی کے سیاسی افادیت پر روشنی ڈالیں۔

سوال نمبر7:۔          پورے مجمع میں صرف جنرل صاحب کے انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانے کے جدلیاتی تناظر پر ایک مفصل نوٹ لکھیں۔

سوال نمبر8:۔          سابقہ حکومت کی بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنے کی ناپاک ذہنیت اور موجودہ حکومت کی کرتارپور سرحد کھول کر امن کے سفیر بننے پر ایک مفصل نوٹ لکھیں۔

سوال نمبر 9:۔         ہٹلر کے یو ٹرن نہ لینے تاریخی عوامل کا جائزہ لیں نیز یو ٹرن کی سیاسی افادیت کو اپنے الفاظ میں لکھیں۔

سوال نمبر 10:۔      پھٹیچر، ریلو کٹا، آزاد اراکین اسمبلی، سیاسی لوٹوں، چالیس روپے لیٹر پٹرول، یوٹرن، سیاسی مداخلت سے پاک پولیس، تیس ارب کی روزانہ کرپشن، سویس بنکوں میں پڑے اربوں ڈالر کی بلیک منی، کے نئے مفاہیم پر روشنی ڈالیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 178 posts and counting.See all posts by zafarullah