نواز شریف نے دیسی ککڑ اور کٹوں کے بارے میں موقف دینے کا اعلان کر دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”پیسہ ملک میں آ رہا ہے یہ تو اچھی بات ہے، جب ہمارا کوئی شہری روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک جاتا ہے تو ہم اسے کہتے ہیں پیسے بھیجو پیسے بھیجو“ یہ الفاظ میاں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس سننے والے فاضل جج نے اس وقت کہے جب نیب پراسیکوٹر واثق ملک اپنے دلائل عدالت میں بیان کر رہے تھے۔ میاں نواز شریف اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے بولے یہ تو اعزاز کی بات ہے۔ فاضل جج نے ایک موقع پر نیب پراسیکوٹر کو جھاڑ پلا دی کہ بیٹی کو پیسے دینا جرم نہیں اگر اللہ توفیق دے تو جتنا ممکن ہو زیادہ دینے چاہیے۔

العزیزیہ ریفرنس کی سماعت صبح ساڑھے نو بجے شروع ہوئی میاں نواز شریف اپنے رفقاء کے ساتھ نو بج کر بیس منٹ پر کمرہ عدالت میں آئے۔ طویل عرصے بعد ان کے چہرے پر شادمانی دیکھی۔ آج وہ پرجوش لگ رہے تھے۔ کمرہ عدالت میں اپنے وکلاء سے کہنے لگے کہ ”میرا دل کر رہا ہے کہ میں اپنے کیس میں خود دلائل دوں، پیشاں بھگت بھگت کر قانون دی مینوں وی تھوڑی تھوڑی سمجھ آ گئی (پیشیاں بھگت بھگت کر مجھے بھی قانون کی تھوڑی تھوڑی سمجھ آ گئی ہے ) ۔ “

میاں نواز شریف کے دائیں طرف بزرگ سیاست دان راجہ ظفرالحق اور بائیں طرف خواجہ حارث براجمان تھے۔ اپنے وکلاء کے ساتھ مشاورت کرتے کہیں کہیں راجہ ظفرالحق بھی شریک گفتگو ہوتے رہے۔ سماعت شروع ہوئی تو میاں نواز شریف فلیگ شپ کے سوالنامہ پڑھتے رہے اور ضروری نوٹس تیار کرتے رہے۔

گیارہ بجے فاضل جج سے نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ دس منٹ کی بریک لینا چاہتا ہوں۔ اس پر فاضل جج نے کہا کہ میاں نواز شریف اگر کچھ کہنا چاہتے ہیں تو روسٹرم پر آ کر کہیں۔ میاں نواز شریف روسٹرم پر گئے اور کہا کہ ”بات انیس سو تہتر سے چلی ہے۔ نیب کو بھی معلوم نہیں کہ یہ کیس کیا ہے۔ ان سے پوچھیں“۔ اس پر نیب پراسیکیوٹر خاموش ہو گئے۔

توقف کے بعد میاں نواز شریف بولے کہ ”بیٹا باپ کو پیسے بھیجتا ہے تو یہ اعزاز کی بات ہوتی ہے اس میں برائی کیا ہے؟ “ فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ ”دونوں اطراف سے دلائل سننے کے بعد ایک کیس کی طے تک پہنچنے کے لیے سوالاً، جواباً ایک نشست رکھوں گا“۔

ساڑھے گیارہ بجے میاں نواز شریف نے فاضل جج سے کہا کہ ”تین بجے تک وقت دیں میں نے اپنے وکلاء کی مدد سے سوالنامہ کی تیاری کرنی ہے“۔ جس پر فاضل جج نے انھیں جانے کی اجازت دے دی میاں نوازشریف صحافیوں سے مخاطب ہوئے اور بولے ”اس کیس دا سر پاؤں نہیں تسی دسو ہے کوئی“ (اس کیس کا سر پیر کوئی نہیں، کوئی ہے تو آپ بتائیں ) ۔ میں نے سوال کیا کہ ”وزیراعظم عمران خان ہندوستان کے ساتھ تجارت اور راستے کھولنے کی باتیں کر رہے ہیں اور یہی باتیں اپ بھی کرتے تھے تو آپ کو غدار کہا گیا، کیا کہیں گے“۔ بولے ”جواب دینے کا مناسب وقت نہیں“، ڈالر کی اُڑان کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ”مجھے تشویش ہے کہ ڈالر کہاں جا رہا ہے، دیسی ککڑ، انڈے اور کٹوں کے حوالے سے پارٹی موقف شاہد خاقان عباسی اور مریم اورنگزیب دیں گے“۔

تین بجے میاں نواز شریف دوبارہ کمرہ عدالت میں آئے۔ ان کے ساتھ ان کے رفقاء کی بڑی تعداد تھی۔ میاں نواز شریف کی خاموشی کا راز جاننے کی کوشش ان کے ایک قریبی سیاسی رفیق سے کی تو یہ جان پایا کہ ہفتہ دس دن خاموشی ہے، سیاست میں زیادہ دیر خاموش رہنا کارکنان کے لیے نیک شگون نہیں ہوتا۔

کمرہ عدالت میں میاں نواز شریف سے ملاقات کرنے والوں میں ممتاز دانشور عرفان صدیقی، سردار ممتاز، سینیٹر پرویز رشید، سئنیٹر آصف کرمانی، سینیٹر چوہدری تنویر، طارق فاطمی، زہرہ ودود فاطمی، طاہرہ اورنگزیب، بیرسٹر دانیال تنویر، چوہدری جمیل، سینیٹر سلیم ضیاء اور دیگر موجود تھے۔ میاں نواز شریف نے فرداً فرداً سب سے ہاتھ ملایا ان کی خیریت دریافت کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بشارت راجہ

بشارت راجہ رفاہ یونیورسٹی سے میڈیا سائسز میں ایم فل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ بطور کورٹ رپورٹننگ کر رہے ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے بلاگ اور کالم بھی لکھتے ہیں۔

bisharat-siddiqui has 40 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui