کراچی روشنیوں کا شہر کیسے بنا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روشنیوں کا شہر کراچی ہمیشہ سے روشنیوں کا شہر نہیں تھا بلکہ یہ تاریکی میں ڈوبا ہوا اور گندگی کی بھر مار والا شہر ہوا کرتا تھا جہاں شام ہوتے ہی گھپ اندھیرا ہو جاتا تھا اور لوگ آسمان کے تاریکی کے چادر اوڑھنے سے قبل ہی اپنے کام بند کر کے سر شام سو جایا کرتے تھے اس زمانے میں زیادہ تر لوگ سورج کے طلوع ہوتے ہی جاگتے تھے اور سورج کے غروب ہوتے ہی اپنے گھروں میں دبک جاتے تھے رات کو گھروں کو روشن رکھنے کے لئے چراغوں اور لالٹین سے روشنی کی جاتی تھی جوکہ انتہائی معمولی نو عیت کی ہوتی تھی مگر مجبوری کے عالم میں لوگوں کے لئے یہ مد ہم روشنی ہی کافی ہوتی تھی کیونکہ اس وقت تک کلاچی، کراچو، کراچے اور مختلف ناموں سے موسوم شہر کے لوگ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بجلی نام سے بھی نہ آشنا تھے۔

ماضی کے اس دور میں چند سڑکیں ہوا کرتی تھیں اور ان پر بیل گاڑیاں، اونٹ گاڑیاں، گدھا گاڑیاں، گھوڑا گاڑیاں چلا کرتی تھیں مگر سڑکوں پر روشنی کا انتظام نہ ہونے کے سبب گھوڑا گاڑیوں پر لگے دو مٹی کے تیل سے جلنے والے چراغوں جبکہ اگدھا گاڑیوں میں لالٹین باندھ کر رات کا سفر کیا جاتا تھا غالبا یہ 1847 سے پہلے کا دور تھا 1839 میں جب انگریز آئے تو اس وقت تک یہ شہر رات کا اندھا شہر تھا جس کے باعث شہر کے اندر چوریوں، ڈکیتیوں اور نقب زنی کے واقعات اکثر و بیشتر پیش آیا کر تے تھے جس کے پیش نظر سرچارلس نیپئر نے اس شہر میں روشنی کے انتظامات کر نے کے لئے خصوصی انتظاماتکیے اس نے شہر کی سڑکوں کو روشن کر نے کے لئے با قاعدہ طور پر ایک بورڈ بنا یا جس نے کافی غور اورخوص کے بعد شہر کی سڑکوں کو روشن رکھنے کے لئے 1847 میں سڑکوں کے کنارے ناریل کے تیل سے جلنے والے لیمپ نصب کر وائے ان لیمپوں کو روشن رکھنے کے لئے زمین کے اندر تیل کا ایک چھوٹی سی ٹینکی بنائی گئی جبکہ لیمپ 5 سے 6 فٹ کی اونچائی پر نصبکیے گئے جن میں میونسپلٹی کے اہلکار صبح کے اوقات میں اس کی چمنیاں صا ف کر کے ان میں تیل بھرا کرتے تھے جبکہ رات کو انہیں دوسرے اہلکار روشن کر نے کے لئے آیا کر تے تھے مگر پھر ان اہلکاروں نے کھوپرے کے تیل کی چوری شروع کر دی جس کے سبب لیمپ مٹی کے تیل سے جلائے جانے لگے یہ اقدام 1883 میں اٹھایا گیا تھا۔

Karachi in 1938

کراچی میونسپل کمیشن جسے 1878 میں میونسپلٹی کا درجہ ملا اس کے چیف انجینئر مسٹر جیمس اسٹریچن نے پہلی بار سڑ کوں کو روشن رکھنے کے لئے بجلی کمپنی قائم کر نے کی تجویز دی مگر کیونکہ بجلی کی تنصیب میں بہت سارے سرمائے کی ضرورت تھی اس لئے اسی دور میں سڑکوں پر گیس لیمپ لگا دیے گئے جس کی زمین کی ٹینکیوں میں تیل بھرا جاتا اوروہ تیل پائپ کے ذریعے بر نر میں پہنچتے اور گیس کے ہنڈے کو روشن کر دیتے تھے جس سے سڑکیں، چوراہے پہلے سے زیادہ روشن رہنے لگے اور اندھیرے کی وجہ سے رات کو پیش آنے والے حادثات میں بھی کمی واقع ہوئی۔

گیس سے سڑکوں کو چند فرلانگ تک روشن رکھنے کا سلسلہ کافی عرصے تک جاری رہا صاحب ثروت لوگوں نے گھروں کو روشن رکھنے کے لئے بھی گیس لیمپوں کا استعمال شروع کر دیا ایسے میں دور سے دیکھنے پر شہر کی مکانوں میں مدھم مدھم سی روشنی نظر آتی تھی اسی دوران 1913 میں میسرز فار بس کیمپ بیل کمپنی شہر میں بجلی کی فراہمی کے لئے با قاعدہ طور پر ایک کمپنی قائم کی اور اس کے حصص فروختکیے لوگوں کی بڑی تعداد نے حصص خریدے بعد میں اس کمپنی سے یونائیٹڈ ایسٹرن ایجنسی نے سارا کاروبار خرید لیا اور شہر بھر میں بجلی کی فراہمی شروع کر دی مگر کیونکہ لوگ کرنٹ لگنے سے خوف زدہ تھے اس لئے اکثر لوگ چراغ لالٹین اور گیس استعمال کر تے رہے یوں پہلی جنگ عظیم سے قبل ہی کراچی میں بجلی آگئی جس سے شہر روشن ہوگیا۔

Bandar Road Karachi in 1950s

بجلی پیدا کر نے کے لئے پہلا پاور ہاؤس کچہری روڈ جوکہ آج ڈاکٹر ضیا الدین روڈ کہلاتا ہے کے ساتھ واقع خالی اراضی پر قائم کیا گیا اور یہاں مٹی کے تیل سے بجلی کی پیداوار شروع کی گئی مٹی کے تیل سے پاور ہاؤس کو چلانے کے لئے باقاعدہ طور پر ایک ڈپو بھی قائم کیا گیا یہ تیل ڈپو آج بھی اپنی پرانی اور خستہ حالت میں موجود ہے جبکہ قدیم ترین پاور ہاؤس جوکہ پتھروں سے بنی ہوئی تھی اس کی صرف بیرونی دیواریں باقی ہیں جبکہ اندر سے اسے عہد حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھال دیا گیا ہے۔

کراچی میں جہاں تک سب سے پہلے لائٹیں روشن ہونے کا تعلق ہے تو اس کا کریڈٹ سندھ کلب کو جاتا ہے جہاں صرف انگریزوں کو ہی میمبر بنایا جاتا تھا اس نے 1902 میں کلب کے لئے ایک جنریٹر نصب کر کے سب سے پہلے کلب کو بجلی کی سہولت سے آراستہ کیا جوکہ لوگوں کے لئے ایک انوکھی چیز تھی لہذا لوگ دور دراز کا سفر کر کے جلتی ہوئی لائیٹیں دیکھنے کے لئے آیا کرتے تھے پھر جب 1913 میں بجلی آگئی تو اس کا پہلا کنکشن جہانگیر کوٹھاری بلڈنگ جو آج بھی ایم اے جناح روڈ پر موجود ہے اسے فراہم کیا گیا اور آج بھی اس قدیم عمارت کے اندر لگا ہوا قدیم طرز کا میٹر دیکھا جا سکتا ہے اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ غالبا جہانگیر کوٹھاری جوکہ کراچی کا بہت بڑا صنعت کار تھا اور پارسی برادری کا لینڈ لارڈ تھا نے بھی بجلی کے حصص خریدے تھے لہذا اسے بجلی کا پہلا کنکشن دیا گیا تھا لیکن اس بارے میں دوسری رائے یہ ہے کہ کیونکہ یہ عمارت نیپئر روڈ کے سنگم پر واقع ہے اور نیپئر روڈ اس وقت سے لی کر آج تک ایک معاشی حب کے طور پر جانا اور مانا جاتا ہے لہذا سب سے پہلے بجلی کے کنکشن اس معاشی حب کو دیے گئے اس کے بعد بجلی کا دوسرا کنکشن پریس والی بلڈنگ جوکہ لی مار کیٹ کے علاقے میں واقع تھا اورآج اس کی جگہ ایک جدید عمارت نے لے لی ہے کو دیا گیا اس کے بعد لوگوں نے گھروں میں بھی بجلی کے کنکشن لینا شروع کر دیے مگر ان کی تعداد انتہائی مختصر تھی گوکہ اس وقت آج 12 روپے یونٹ پر گھروں میں دی جانے والی بجلی گھریلو صارفین کے لئے دو پیسے فی یونٹ جبکہ تجارتی مقصد کے لئے ایک آنہ فی یونٹ کے حساب سے وصول کی جاتی تھی اس زمانے میں شہر کراچی میں بجلی کے استعمال کے لئے بلدیہ الیکٹرک سپلائی کر نے والی پرائیویٹ کمپنیوں کو 35000 روپے ماہوار ادا کیا کرتی تھی۔

بجلی کے آجا نے کے باوجود 1925 تک کراچی کی سڑکوں پر بجلی کے بلبوں کے ساتھ تیل اور پیٹرول سے جلنے والے لیمپ استعما ل ہوتے رہے اس وقت تیل سے جلنے والے لیمپوں کی تعداد 1196 پیٹرول سے جلنے والے لیمپ 325 کٹسن لیمپ 261 بجلی کے بلب 338 تھے اور مجموعی طور پر شہر کی سڑکوں اور چوراہوں کو روشن رکھنے کے لئے 2195 بلب گیس بتیاں اور لالٹین روشنکیے جاتے تھے 1945 تک شہر میں کل 240 سے 245 یونٹ تک بجلی استعمال ہوتی تھی۔

ماضی میں بجلی کمپنی جوکہ آج کے ضیا الدین روڈ پر بنے اپنے دفتر اور پاؤرہاؤس سے اپنا نظام چلا تی تھی جبکہ گارڈن کے علاقے میں مکی مسجد کے ساتھ واقع قدیم ترین دفتر بجلی کے بلوں کی وصولی کنکشن کی فراہمی اور شکایت دور کرنے کا کام کیا کرتا تھا یہ عمارت آج بھی پوری آن بان شان کے ساتھ کھڑی ہے اور اپنے شاندار ماضی کا احوال سنا رہی ہے جبکہ اسی زمانے میں بعض لوگوں نے بجلی خرید کر گھروں اور صنعتوں کو کنکشن کی فراہمی کا کام بھی کیا جس میں سے پونا بائی نامی ایک خاتون جن کے نام سے رنچھوڑ لائن میں ایک واچ ٹاور بھی بنایا گیا ہے پرانی این ای ڈی بلڈنگ میں پونا بائی پاور ہاؤس کے نام سے ایک ایسے ہی کمپنی قائم کی تھی جس کی قدیم عمارت اور بلند چمنی اور اس کی دیوار پر لگی پونا بائی پاور ہاؤس کی تختی کو آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد بجلی کا نظام کراچی الیکٹرک کارپوریشن نے سنبھالا اور اس نظام کو وسعت دیتے ہوئے پورے شہر میں بجلی کے تاروں کا جال بچھاتے ہوئے شہر کراچی کو روشن اور منور کر دیا بعد ازاں جنرل پر ویز مشرف کے دور میں کے ای ایس سی کی نجکاری کر دی گئی اوراس کے بعد کراچی الیکٹرک کے نام سے پرائیویٹ کمپنیوں نے کام شروع کیا اس وقت شہر کراچی میں بجلی کی مانگ گرمیوں کے موسم میں 2900 میگا واٹ جبکہ سردیوں کے موسم میں 1600 میگا واٹ تک جا پہنچی ہے اور اس کی مانگ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے جس کے سبب شہر کراچی میں کئی کئی گھنٹوں تک لوڈ شیڈنگ معمولا ت کا حصہ بن گئی ہے جس سے شہریوں کو نجات دلانے کے لئے کے الیکٹرک دن رات سنجیدہ کو ششیں کر رہی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آسیہ اشرف اعوان کی دیگر تحریریں
آسیہ اشرف اعوان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں