سعودی بلاگر کی ٹویٹ اور پاکستانی افسروں کی شکایت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی حکومتی سیانے اس وقت سعودی بلاگر رائف بداوی کی کینیڈا میں مقیم بیوی انصاف حیدر سے پاکستان کی عالمی عزت افزائی کروا رہے ہیں۔ اس بی بی نے نقاب کے خلاف ایک ٹویٹ کر دی جس میں ایک نقاب پوش عورت کی تصویر کے ساتھ لکھا ہوا ہے کہ اگر آپ نقاب کے خلاف ہیں تو اسے ری ٹویٹ کریں۔ ہمارے سرکاری سیانوں نے اس سعودی کینیڈوی معاملے کو پاکستانی قانون پر تولتے ہوئے ٹویٹر کو شکایت لگا دی کہ یہ بی بی پاکستانی قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

ٹویٹر کے لیگل ڈیپارٹمنٹ نے اس بی بی کو میل کر دی کہ ہمیں آفیشل شکایت ملی ہے کہ تم نے پاکستانی قانون توڑا ہے۔ اس شریر عورت نے وہ نوٹس ٹویٹ کر دیا۔ انگریزی کے علاوہ اس عربن نے بظاہر بھارتیوں کی سپورٹ حاصل کرنے کے لیے  ہندی زبان میں ٹویٹ کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے :

”پاکستان عالمی امن کے لیے شمالی کوریا سے بھی بڑا خطرہ ہے کیونکہ پاکستان کے پاس کٹر اسلامی انتہاپسند اور نیوکلئیر بم دونوں ہی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ٹویٹر غصے نہیں ہو گا کیونکہ میں نے پاکستانی قانون توڑا ہے۔ “

اسے پاکستان کے مسنگ بلوچوں کے بارے میں تشویش بھی ہو گئی ہے اور اس نے ان پر بھی ٹویٹ ٹھوک دی ہے اور دعوی کیا ہے کہ ہزاروں بلوچ مسنگ ہیں۔

اب ساری دنیا پاکستان کی اس شکایت کو ڈسکس کر رہی ہے۔ لوگ ٹویٹر سے پوچھ رہے ہیں کہ بھلا کب سے پاکستانی قانون باقی تمام دنیا پر لاگو ہو گیا ہے؟

انصاف حیدر

رائف بداوی ایک سعودی بلاگر ہے جو سیاسی بلاگ چلاتا تھا۔ اسے پہلے 2008 میں ارتداد کے الزام پر گرفتار کیا گیا مگر سوال جواب کے بعد حکام نے مطمئن ہو کر اسے چھوڑ دیا۔ سنہ 2012 میں اسے برقی ذرائع کے ذریعے اسلام کی توہین کرنے کے الزام میں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور چھے ماہ بعد اس پر ارتداد کا الزام بھی لگا دیا گیا۔ لیکن عدالت میں کلمہ شہادت کی ادائیگی کے بعد اسے مسلمان مان لیا گیا۔

سنہ 2013 میں اسے سات برس قید اور چھے سو کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔ اس کا جرم یہ بتایا گیا کہ اس نے ایک انٹرنیٹ فورم بنایا تھا جس اسلامی اقدار کی خلاف ورزی کرتا ہے اور لبرل خیالات کا پرچار کرتا ہے۔

جون 2014 میں اس کی سزا بڑھا کر 10 برس قید اور ایک ہزار کوڑوں کی کر دی گئی۔ اسے 50 کوڑے مارنے کے بعد ہی کوڑوں کی باقی سزا کو بارہ مرتبہ معطل کیا گیا کیونکہ دنیا میں بے تحاشا شور مچ گیا تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسے ضمیر کا قیدی قرار دیا۔ عالمی سطح پر رائف بداوی کے کیس کو سیاسی حقوق کی جدوجہد سمجھا جاتا ہے اور یہ سعودی عرب کے لیے مستقل پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔

اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ٹویٹر کی کمیونیکیشن مینیجر کیٹ ہیز نے بھارتی ویب سائٹ دی پرنٹ کو ایمیل پر بتایا ”کئی ممالک کے ایسے قوانین ہیں جو ٹویٹس یا ٹویٹر اکاونٹ کے مواد پر لاگو ہو سکتے ہیں۔ تمام جگہوں کے لوگوں کو اپنی سرورس فراہم کرنے کے لیے ہماری پیہم کوشش کے سلسلے میں اگر ہمیں کسی مجاز اتھارٹی کی طرف سے کوئی جائز درخواست ملے، تو یہ ضروری ہو سکتا ہے کہ کسی خاص مواد کی کسی خاص ملک میں رسائی کو روکا جائے۔ جب ہم کسی صارف کو یہ بتاتے ہیں کہ ہمیں ان کے اکاونٹ کے خلاف رپورٹ ملی ہے، تو اس کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہم اس رپورٹ پر ایکشن بھی لیں گے“۔

بہرحال ہمارے لیے سوال یہ ہے کہ ایک ایسے معاملے میں پاکستانی حکام کو اپنی ٹانگ اڑانے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ کیا انہیں رائف بداوی کے معاملے کی حساسیت کا اندازہ نہیں ہے؟ کینیڈا میں کوئی عورت دوسروں کو نقاب لینے کا کہے یا نہ کہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ ایک انگریزی اور فرانسیسی زبان میں کینیڈا سے کی جانے والی ٹویٹ سے پاکستانی حکومت کا کیا تعلق بنتا ہے جب کہ اس کے نتیجے میں وہ عالمی رد عمل کا سامنا کر سکتی ہے؟ پہلے ہی پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور بلیک اور گرے لسٹوں سے بچنے کی کوشش میں مصروف ہے اور ہماری حکومت یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ مذہبی شدت پسند ہے اور دوسرے ممالک کے معاملات میں ٹانگ اڑاتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1108 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar