نیوڈز اور بلیک میلنگ


دیکھئیے اس تحریر کو پڑھتے ہوئے جس قدر دشواری اور شرمساری کا سامنا آپ کرنے والے ہیں، اس سے کہیں زیادہ دشوار میرے لیے ہے۔ اس تحریر کا ایک ایک لفظ میرے حلق میں مچھلی کے کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے۔

مجھے اندازہ ہے کہ میری تحریریں میرے عزیز رشتہ داروں میں بعض تو بڑی باقائدگی سے پڑھتے ہیں جن کے سامنے میں ایسے موضوع پر بات کرتے ہوئے بے حد ہچکچاہٹ محسوس کروں گا۔

پھر جس انداز میں اس موضوع کو لکھنا ہے، وہ بھی تو میرا ذاتی نہیں، مجھے اس میں اپنی رائے کو منوانے کی جسارت کرنی ہے اور ایسے میں کبھی کسی پر اپنی رائے انڈیلنا پسند نہیں کرتا۔ میں خود کو ان تخلیق کاروں کی فہرست میں دیکھنا چاہتا ہوں، جن کا انداز کالم نگاروں اور خطیبوں سے مختلف ہوتا ہے۔ لیکن معاملہ اس قدر سنگین ہے کہ اس پر آواز اٹھائے بغیر بھی گزارا نہیں۔ میں صرف لوگوں کی فلاح کی نیت سے، اپنی چند گزارشات پیش کر رہا ہوں۔

یوں تو یہ تحریر جنسی تعلقات پر نہیں لکھی گئی، عصر حاضر کے نوجوانوں کے جنسی تعلقات کی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے میں ایک افسانہ ”تصویر کا دوسرا رخ“ اپنے ذاتی بلاگ ”جنید نامہ“ پر لکھ چکا ہوں اور یہ تحریر انہیں تعلقات سے جڑے سنگین نتائج سے منسلک ہے۔

ان نتائج کو زیر بحث لانے سے پہلے ہمیں وہ وجوہات جان لینا چاہییں جس کے بعد بلیک میلنگ کا سفر شروع ہوتا ہے۔ آخر کیسے ایک خاص ذہنی کیفیت رکھنے والے مردوں کی ایک بڑی تعداد خواتین کو بلیک میل کر رہی ہے۔

وجہ واضح اور شفاف ہے، جو خواتین غیر مردوں سے تعلقات رکھتی ہیں، اول انہیں اپنی ذات پر حق دیتی ہیں، پھر انہیں اس حق کا ناجائز استعمال کرنے دیتی ہیں، ایسے مسائل اکثر انہیں کے ساتھ در پیش آتے ہیں۔ جو شروع دن سے اوروں کو ان کی حدود میں رکھنا جانتی ہوں، وہ عموماََ ایسے حالات سے خود کو محفوظ رکھتی ہیں۔

ایسے تعلقات جو بالآخر بلیک میلنگ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، کے قائم ہونے کی کئی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک صورت میں، لڑکوں یا مردوں کا ایک خاص طبقہ لڑکیوں کے موبائل نمبرز ان لڑکیوں کی ہی دوستوں کے موبائلز سے یا پھر چند اور ذرائع سے حاصل کرتے ہیں، میسیجز کرنا شروع کرتے ہیں۔ لڑکیاں جو عموماََ ایسے حالات میں خوف زدہ ہو جاتی ہیں اور انہیں یہ بھی ڈر ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے رونگ نمبر (جو ان کے نام اور کام سے واقف ہے) سے آنے والے پیغامات کا گھر بتایا تو ان سے موبائل لے لیا جا سکتا ہے، انکی تعلیم یا نوکری بھی داوَ پر لگ سکتی ہے (حالانکہ ایسا خوف لڑکیوں کے دل میں نہیں بٹھانا چاہیے بلکہ انہیں اندازہ ہو کہ ان کے ساتھ بہتر معاملہ رکھا جائے گا) وہ گھر میں اپنے مسئلے کو بتلانے کی بجائے خود ہی اس مسئلے کو حل کرنے کا سوچنے لگتی ہیں اور جو ایسی سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہیں، وہ رونگ نمبر کو منع کرنے کے ارادے سے بات کرتی ہیں اور باتوں کی وجہ سے ایک خاص قسم کی انسیت محسوس کرنے لگتی ہیں۔

دوسری صورت میں، کسی بھی لڑکی کا کسی بھی صورت میں جنس مخالف سے یہ سمجھ کر دوستی رکھنا کہ دوستی ایک پاک رشتہ ہے، اسی کی بدولت عموماَ لڑکیاں انسیت کے ایک خاص رشتے سے منسلک ہو جاتی ہیں۔ اول دنوں میں بھائی یا دوست کہلانے والے لڑکے ان کی آرزو بن جاتے ہیں۔ اس صورت میں لڑکی یونیوسٹی کالج کی بھی ہو سکتی ہے جو اپنے کلاس فیلو سے دوستانہ تعلقات قائم کرتی ہے یا کوئی گھریلو خاتون بھی ہو سکتی ہے۔

اس کے بعد کی کہانی دونوں صورتوں کی یکساں ہے۔ وہ دوستی نیم محبت کی شکل اختیار کرتی ہے، پھر اس محبت کو آزمانے کی باری آتی ہے، آزمائش کے دوران عموماَ خواتین کے جنسی حصوں کی معلومات لی جاتی ہیں، ایسے سوالات سے دونوں شریک سمجھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے اعتبار کو آزما رہے ہیں، پھر یہ آزمائش ان حصوں کی نمائش پر آن پہنچتی ہے، نیوڈز بھیجی جاتی ہیں۔ یہ سفر جاری رہتا ہے، اور بالآخر بلیک میلنگ کو جنم دیتا ہے۔

اس کہانی کے کئی اور رنگ باقی ہیں، جن میں ایک رنگ کا ذکر کرنا واجب ہے کہ جیسے میں نے اپنے افسانہ ”تصویر کا دوسرا رخ“ میں دکھلایا ہے کہ لڑکی لڑکا ذہنی و جسمانی تسکین کے لیے اکیلے ملتے رہتے ہیں اور مرد حضرات کا جب لڑکی سے جی اکتانے لگتا ہے تو اس کی خلوت میں تصاویر اتار کر یا ویڈیو بنا کر اسے طرح طرح سے بلیک میل کیا جاتا ہے۔

پھر اس کے بعد جو ہوتا ہے، وہ اس قدر بھیانک ہے کہ اگر نیوڈز بھیجنے یا بنوانے والی خواتین ایک بار دیکھ لیں تو اپنے جذبات کو آگ لگا دیں مگر کبھی ایسی حماقت نہ کریں۔

بلیک میلنگ کے دوران مرد چونکہ خود کو بے حیا ثابت کر چکا ہوتا ہے (حالانکہ ایسا ہوتا نہیں، ہر مرد کی بھی اسی قدر کمزوریاں ہوتی ہیں جس قدر عورت کی، اسے بھی عورت جیسی ہی اپنی عزت پیاری ہوتی ہے) وہ عورت کو بدنامی کا ڈراوا دے کر طرح طرح کے کام نکالنا چاہتا ہے، ایسے حالات میں عورت ذات یا تو اس مرد کی غلام بنی رہتی ہے یا پھر اس اذیت سے بچنے کے لیے خودکشی کو ترجیح دیتی ہے۔

دوسری طرف کئی مرد حضرات بھی اس بلیک میلنگ کے دوران کسی اور عاشق و مجنوں کی نذر ہوئے پائے گئے ہیں۔

حکومت وقت اور ان تمام لوگوں سے جو کسی بھی طرح اس آگہی مہم کا حصہ بن پائیں سے گزارش ہے کہ اس موضوع کو زیر بحث لایا جائے، لوگوں کو باور کرایا جائے کہ اس غلیظ کھیل کا حصہ بننے والے نوجوان خصوصاَ لڑکیاں ایسی غلطی کرنے کو ہیں جو ان کی زندگی عذاب بنا سکتی ہے۔

اور ساتھ ان تمام والدین سے گزارش ہے، جو ایک تو اپنی اولاد کی بہت سے معاملات میں تربیت ہی نہیں کرتے پھر بچوں کے بالغ ہونے بھی بعد کئی کئی سال ان کی شادیاں نہیں کرتے اور برابر کے گناہ گار بنتے رہتے ہیں، وہ جوان بچوں کے نکاح میں کبھی دیر نہ کریں۔

Facebook Comments HS