نجیب محفوظ اور سعادت حسن منٹو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے نجیب محفوظ اور منٹو دونوں کے منتخب ادب پارے پڑھے ہیں۔ مجھے دونوں کی شخصیات اور تخلیقات میں خاصی مماثلت نظر آتی ہے۔ دونوں فرسٹ ورلڈ وار سے کچھ برس پہلے پیدا ہوئے۔ ان کی عمروں میں صرف ایک سال کا فرق تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مصر اور انڈیا‘ دونوں جگہ برطانوی استعمار سے آزادی کی تحریکیں شروع ہو چکی تھیں۔ دونوں کی تحریروں میں نیشلسٹ افکار جھلکتے ہیں۔ دونوں کا تعلق مڈل کلاس سے تھا۔ نجیب محفوظ کو جدید عربی ناول کا موجد کہا جاتا ہے لیکن منٹو کی طرح نجیب محفوظ کی وجۂ شہرت اس کے مختصر افسانے ہیں۔ یہ دونوں ادیب یورپی ادب کے شاہکار پڑھ چکے تھے۔ ان کے کردار قاہرہ‘ بمبئی اور لاہور کی گلیوں میں پھرنے والے مزدور، سرکاری ملازم، دکاندار، رقاصائیں اور طوائفیں ہیں۔ دونوں ادیب بسیار نویس تھے۔ نجیب محفوظ کا کہنا ہے کہ ایک اچھے لکھاری کو روزانہ کچھ نہ کچھ لکھنا چاہئے۔ منٹو کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ روزانہ ایک ہی نشست میں ایک افسانہ تحریر کرتا تھا۔ ہمارے یہ دونوں ادیب سیکولر ذہن کے مالک تھے۔

نجیب محفوظ نے کئی سال سرکاری ملازمت کی اور شروع کا زمانہ دستاویزات Archives کے محکمے میں گزارا۔ ان کا مشہورِ زمانہ ناول ثلاثیات دراصل مصر کی چالیس سالہ سماجی اور سیاسی تاریخ ہے‘ جو فرسٹ ورلڈ وار کے فوراً بعد سے لے کر جنرل نجیب کے 1952ء کے فوجی انقلاب تک کا احاطہ کرتی ہے۔ نجیب محفوظ کی طرح منٹو کے افسانے بھی اپنے عہد کی تاریخ کے عکاس ہیں۔ جب جلیانوالہ باغ کا المناک سانحہ ہوا تو منٹو کی عمر سات سال تھیں اور یہ برطانوی بربریت اس کے اپنے شہر امرتسر میں ہوئی تھی۔ میٹرک میں اُردو میں فیل ہونے والا یہ لڑکا انتہائی حساس اور ذہین تھا۔ بعد میں جب اسے باری علیگ کی رہنمائی ملی تو وہ اردو زبان کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا افسانہ نگار بن گیا۔ نجیب محفوظ اور منٹو دونوں کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ عربی اور اردو ادب کو اشرافیہ سے نکال کر عوام تک لے کر آئے۔ منٹو کی ایک کہانی جلیانوالہ باغ کی ٹریجڈی سے متعلق ہے۔ یہ دونوں سرکردہ ادیب اپنے اپنے مادیت سے مغلوب اندھے بہرے معاشروں میں انسان کی روح کے متلاشی ہیں۔ دونوں کو فرانس کے انیسویں صدی کے مشہور ادیب بالزاک سے تشہبیہ دی جاتی ہے۔

naguib mahfouz

الکرنک‘ نجیب محفوظ کا مشہور ناولٹ ہے جو جمال عبدالناصر کے فوجی انقلاب کے تناظر میں لکھا گیا تھا۔ اس کا ترجمہ Karnak cafe کے عنوان سے انگریزی زبان میں ہوا اور بہت مقبول ہوا۔ الکرنک ایک کافی ہائوس ہے جسے ماضی کی انتہائی پاپولر رقاصہ قرنفلہ چلاتی ہے۔ ناولٹ کا آغاز بڑے خوبصورت انداز سے ہوتا ہے۔ رائٹر گھڑی کی مرمت کے لئے بازار جاتا ہے۔ گھڑی ساز کہتا ہے کہ دو گھنٹے بعد گھڑی تیار ہو جائے گی۔ وہ وقت گزارنے کے لئے ادھر ادھر چکر لگاتا ہے۔ اتنے میں اس کی نظر ایک کافی ہائوس پر پڑتی ہے۔ وہ وقت کاٹنے کے لئے کیفے میں داخل ہوتا ہے۔ نظر منیجر کی کرسی پر بیٹھی ہوئی خاتون پر پڑتی ہے۔ پھر اس واقعے کو یوں بیان کرتا ہے ”مجھے اس کا پروقار اور خوبصورت چہرہ جانا پہچانا لگا اور میری یادوں کے چشمے ابلنے لگے۔ ارے یہ تو ماضی کی مشہور رقاصہ قرنفلہ ہے جو نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن ہوا کرتی تھی۔ اس کی جاذب نظر شخصیت سے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے جوانی اور ادھیڑ پن گلے مل رہے ہوں۔ وہ بڑے پروقار انداز سے میری میز کی طرف آئی اور کہا: معلوم ہوتا ہے آپ مجھے پہچان گئے ہیں۔ میں بولا: آپ کو کون نہیں جانتا‘ آپ نے مصر میں مشرقی رقص کو مقبول کیا۔ پھر پوچھنے لگی: آپ کو ہمارا کافی ہائوس کیسا لگا۔ میں نے کہا کہ شاندار اور صاف ستھری جگہ ہے‘ کافی پی کر مزہ آ گیا۔ اس کے بعد میں باقاعدگی سے کرنک کیفے جانے لگا۔

کرنک کیفے میں دو تین گروپ ہیں جو باقاعدگی سے آتے ہیں کافی پیتے ہیں گپ شپ کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ ان میں ایک گروپ نوجوانوں کا ہے جو جمال عبدالناصر کی انقلابی حکومت کے بڑے پرجوش حامی ہیں۔ پھر یہ گروپ کرنک کیفے آنا بند کر دیتا ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ انہیں حکومت نے گرفتار کر لیا ہے۔ کیفے کے اندر سے کسی نے مخبری کی ہے کہ یہ نوجوان لڑکے لڑکیاں حکومت مخالف ہیں؛ البتہ قرنفلہ اس بارے میں مکمل خاموش رہتی ہے۔ کچھ عرصے بعد یہ نوجوان دوبارہ کیفے میں آنا شروع کرتے ہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ ان کے ہونٹ سلے ہوئے ہیں۔ کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ کرنک کیفے کی فضا بدلی بدلی ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ حکومت لوگوں پر شک کرتی ہے اور لوگ حکومت پر۔ الکرنک مڈل ایسٹ کی فوجی حکومتوں پر بھرپور طنز ہے۔ خاص طور پر ناصر کی ڈکٹیٹرشپ کے خلاف۔ اسی وجہ سے اس ناولٹ کا انگریزی ترجمہ مغربی دنیا میں بڑا مقبول ہوا۔

نجیب محفوظ اور منٹو دونوں نے فلموں کے لئے لکھا۔ منٹو فلمی دنیا سے منسوب ہوا تو بارہ سال بمبئی میں مقیم رہا۔ اس شہر سے اسے بے حد محبت تھی۔ پاکستان بنا تو اس کی فیملی لاہور منتقل ہوگئی‘ مگر وہ خود کئی ماہ بمبئی میں رہا۔ پاکستان جانے کے بارے وہ کئی ماہ تک تذبذب کا شکار رہا۔ پھر اس نے کچھ ناقابل یقین باتوں کا مشاہدہ کیا۔ فلمستان ٹاکیز جہاں منٹو ملازم تھا وہاں کے ہندو ورکر مطالبہ کرنے لگے کہ مسلمانوں کو اہم عہدوں سے الگ کیا جائے۔ اداکار شیام منٹو کا جگری دوست تھا۔ برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد دونوں بمبئی میں ایک سکھ فیملی کو ملنے گئے‘ جو راولپنڈی سے ہجرت کرکے آئی تھی۔ اس فیملی نے راولپنڈی میں سکھوں کے قتل عام کے قصے سنائے۔ جب یہ دونوں دوست ان المناک واقعات کو سن کر واپس جا رہے تھے تو شیام نے منٹو کو بتایا کہ جب وہ یہ قصے سن رہا تھا تو ایک لمحے کے لئے اس کے من میں آیا کہ منٹو کو بھی قتل کر دینا چاہئے کہ وہ ظالم مسلمان ہے۔ اس وقت منٹو نے فیصلہ کر لیا کہ اب انڈیا میں اس کے لئے کوئی جگہ نہیں رہی۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ ایک پاگل خانے کی کہانی ہے۔ انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں کے مابین فیصلہ ہوا کہ باقی آبادی کی طرح پاگلوں کا بھی تبادلہ کیا جائے یعنی ہندو‘ سکھ پاگل انڈیا بھیج دیئے جائیں اور انڈیا کے پاگل خانوں سے مسلمان پاکستان چلے جائیں۔ اس سلسلے میں باقاعدہ بسوں کا انتظام کیا گیا۔ جب یہ خبر مینٹل ہسپتال میں عام ہوئی تو ایک مریض درخت پر چڑھ گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں نہ انڈیا جائوں گا نہ پاکستان‘ میں اسی درخت پر رہوں گا۔ افسانے کا مرکزی کردار بشن سنگھ ہے جو ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہنے والا ہے۔ بشن سنگھ پندرہ سال سے مینٹل ہسپتال میں ہے۔ پاگل ہونے کے علاوہ اسے ہر وقت کھڑا رہنے کا خبط بھی ہے۔ اسی وجہ سے اس کی ٹانگیں سوجی رہتی ہیں۔ جب اسے بتایا جاتا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے اور اسے انڈیا جانا ہو گا تو وہ ایک گہرے صدمے سے دوچار ہو جاتا ہے۔ وہ انڈیا جانے سے انکاری ہے اور ہر صورت ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہی رہنا چاہتا ہے۔ اسے لاہور سے زبردستی انڈیا کی جانب روانہ کیا جاتا ہے۔ بارڈر پر ایک خاردار تار لگی ہے۔ وہ اس تار کے پاس گرتا ہے اور کہتا ہے: یہی ہے میرا ٹوبہ ٹیک سنگھ اور پھر دم توڑ دیتا ہے۔

نجیب محفوظ نے 94 سال عمر پائی۔ اسے ادب کا نوبل انعام ملا۔ میرے ایک عرب دوست‘ جو ادیب بھی ہیں‘ کا خیال ہے کہ احسان عبدالقدوس، توفیق الحکیم اور یوسف ادریس افسانہ نگاری میںکچھ کم نہ تھے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نجیب محفوظ اسرائیل سے صلح کرنے کا سپورٹر تھا۔ وہ صدر انورالسادات کے ساتھ 1978ء میں اسرائیل بھی گیا۔ اس کے بعد نجیب محفوظ مغربی ممالک کی آنکھوں کا تارا بنا اور نوبل انعام کا حقدار ٹھہرا۔

سعادت حسن منٹو پر فحش نگاری کے چھ کیس چلے۔ پانچ میں وہ بری ہو گیا ایک میں تھوڑا سا جرمانہ ہوا۔ جب نجیب محفوظ کا ناول ”اولاد حارتنا‘‘ یعنی ہمارے محلے کے بچے مارکیٹ میں آئی تو اس پر گستاخیٔ مذاہب کا الزام لگا۔ کتاب پر پابندی لگی اور 1994ء میں اس عظیم ادیب پر قاتلانہ حملہ ہوا مگر وہ بچ گیا۔ امن سے محبت ان دونوں ادیبوں میں قدر مشترک ہے۔ منٹو 1947ء میں بارڈر کے دونوں جانب ہونے والے وحشیانہ مظالم سے انتہائی شاکی تھا۔ نجیب محفوظ مڈل ایسٹ میں امن چاہتا تھا۔ دونوں اعلیٰ ہائے کے قصہ گو ہیں۔ دونوں کے کردار جاندار اور متحرک ہیں جو گلی کوچوں میں روزانہ ملتے ہیں۔ آپ کو پوری عرب دنیا کے بک سٹالوں پر نجیب محفوظ کی کوئی نہ کوئی کتاب ضرور نظر آئے گی۔ سعادت حسن منٹو کی وفات کو نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا مگر اس کی تصانیف آج بھی مقبول ہیں۔

بشکریہ روز نامہ دنیا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
جاوید حفیظ کی دیگر تحریریں
جاوید حفیظ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں