کیا آپ سے کبھی کسی نے کہا ہے’I HATE YOU‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن کوئی شخص مجھ سے کہے گا ’I hate you‘ اور وہ بھی کوئی اجنبی یا دشمن نہیں بلکہ ایک ایسا شخص جسے میں اپنا بھائی سمجھتا تھا۔ اس تکلیف دہ مکالمے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مجھے آپ کو اس واقعے کا بیک گرائونڈ بتانا ہوگا۔
میرے والد کی ایک کزن میری ایک پھوپھی ہیں جن کا نام تو فرخندہ ہے لیکن سب انہیں لالی کہتے ہیں۔ بچپن میں لالی پھوپھو مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں۔ میں پشاور سے جب گرمیوں کی چھٹیوں میں لاہور آتا تھا تو ان سے ملنے انارکلی بازار ضرور جاتا تھا۔
لالی پھوپھو کا ایک بیٹا تھا جس کا نام زریاب تھا۔ وہ مجھ سے دو سال چھوٹا تھا۔ زریاب بہت ذہین تھا لیکن پڑھائی میں کم دلچسپی لیتا تھا اور ہر وقت کھیلتا رہتا تھا۔ وہ قدرے شرارتی بھی تھا۔ چونکہ میرا اپنا کوئی بھائی نہ تھا تو میں زریاب کو اپنا چھوٹا بھائی ہی سمجھتا تھا۔
میڈیکل کالج کی تعلیم کے بعد میں پہلے ایران اور پھر کینیڈا چلا آیا اور میرا جن دوستوں اور رشتہ داروں سے رشتہ منقطع ہو گیا ان میں زریاب بھی شامل تھا۔ دس سال بعد جب میں پاکستان گیا تو میں اپنی لالی پھوپھو سے بھی ملنے گیا۔ اس ملاقات کے دوران مجھے پتہ چلا کہ زریاب بھی امریکہ چلا گیا تھا اور اتفاق سے ان ہی دنوں اپنی فیملی سے ملنے لاہور آیا ہوا تھا۔
میں زریاب سے بڑے تپاک سے ملنے کے لیے آگے بڑھا لیکن اس نے بڑی سردمہری کا مظاہرہ کیا۔ مجھے کچھ حیرانی کچھ پریشانی ہوئی لیکن میں خاموش رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے اس سے کہا ’میں ٹورانٹو میں رہتا ہوں۔ تم جب چاہو مجھ سے ملنے آ جانا‘ لیکن اس دعوت سے بھی اس کے لہجے کی برف نہ پگھلی۔ پھر میں نے اس کا کارڈ مانگا تواس نے بادلِ ناخواستہ مجھے اپنا کارڈ دے دیا۔
کینیڈا آنے کے بعد میں کافی عرصہ تک سوچتا رہا کہ آخر کیا بات ہے کہ زریاب نے اتنی بے التفاتی کا اظہار کیا ہے۔
چند ماہ بعد میں نے زریاب کو فون کیا اور کہا ’میں San Diego ایک کانفرنس میں جا رہاہوں اور راستے میں تم سے ملنے ہیوسٹن آنا چاہتا ہوں۔ اس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے اقرار میں بھی سرد مہری موجود تھی۔
آخر میں ہیوسٹن زریاب کے گھر پہنچ گیا۔ ہم نے مل کر کھانا کھایا۔ چائے پی لیکن اس نے جذباتی فاصلہ برقرار رکھا۔ آخر میں نے کہا ’زریاب کیا تمہیں یاد ہے کہ ہم بچپن میں اکٹھے شطرنج کھیلا کرتے تھے اور بھائیوں کی طرح رہتے تھے؟‘
کہنے لگا ’یاد ہے‘
’پھر یہ سرد مہری کیوں۔ کیا تم مجھ سےناراض ہو؟‘ میں اپنے دل کی بات زبان پر لے آیا
زریاب کہنے لگا ’I hate you‘
میں نے کہا ’کیا میں نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے۔ کوئی ظلم کیا ہے۔کوئی ناانصافی کی ہے؟‘
’نہیں تم نے کوئی ظلم‘کوئی زیادتی‘ کوئی ناانصافی نہیں کی‘
’تو پھر تم مجھ سے نفرت کیوں کرتے ہو؟‘
زریاب کہنے لگا ’میں تم سے اس لیے نفرت کرتا ہوں کیونکہ ساری عمر میری اپنی امی مجھ سے کہتی رہیں ’تم سہیل کی طرح بنو وہ کلاس میں فرسٹ آتا ہے اور تم سارا دن کھیلتے رہتے ہو۔ تم شرارتی ہو کھلنڈرے ہو۔ سہیل زندگی میں کامیاب ہوگا اور تم ناکام۔ ان باتوں نے میرے دماغ میں زہر بھر دیا تھاـ‘ پھر وہ خاموش ہو گیا کافی دیر تک خلائوں میں گھورتا رہا پھر تھوک نگلتے ہوئے جھکی نظروں سے کہنے لگا
That is why I hated you all these years۔ ‘
میں نے اٹھ کر زریاب کو گلے لگایا اور معافی مانگی کہ میری وجہ سے اسے اتنی اذیت کا سامنا کرنا پڑاْ۔پھر میں نے اس کے رخسار پر بوسہ دیتے ہوئے ہوئے کہا I always loved you like a little brother جب میں زریاب کو گلے لگا کر ہٹا تو ہم دونوں کی آنکھیں نم تھیں۔
میں اس واقعہ کے بعد کافی دیر تک سوچتا رہا کہ والدین کو کبھی ایک بچے کا دوسرے بچے یا کزن سے موازنہ نہیں کرنا چاہیے۔ وہ موازنہ چاہے محبت سے ہو لیکن وہ محبت بچے کے ذہن میں نفرت بن سکتی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر لالی پھوپھو کو پتہ ہوتا کہ ان کی باتوں کا زریاب کی شخصیت پر یہ اثر ہوگا تو وہ کبھی ہم دونوں کا مقابلہ نہ کرتیں۔ میں جانتا ہوں کہ لالی پھوپھو ہم دونوں سے دل کی گہرائیوں سے محبت کرتی تھیں اور ہم دونوں کزنز کی دوستی کو بہت عزیز رکھتی تھیں۔
اب کئی برسوں کے بعد جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو مجھے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے وہ سب والدین اور اساتذہ یاد آ رہے ہیں جو چھوٹے بہن بھائیوں کو‘ ان کی مخصوص اور جداگانہ خصوصیات کو نظر انداز کرتے ہوئے‘ یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی بڑی بہن یا بھائی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کامیاب بنیں۔ وہ لالی پھوپھو کی طرح یہ نہیں جانتے کہ ان کے محبت بھرے مشورے زریاب جیسے بچوں کی عزتِ نفس‘ خود اعتمادی اور شخصیت پر کتنے دیرپا مضر اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 187 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail