انڈے کی حفاظت کریں: اپنے لئے ۔۔۔ قوم کے لئے



بہت زور کا دھماکا سنائی دیا۔ برتنوں کی جھنکار نے مزید کھلبلی مچا دی۔ چھٹی کا دن تھا ۔ بستر سے جدائی کا کوئی فوری ارادہ نہ تھا پر اتنا شور وغُل سن کر تقریباً بھاگتے ہوئے باہر آنا پڑا۔ آواز کے رُخ کا تعین کیا تو جائے وقوع کچن معلوم ہوا۔
جیسے ہی کچن میں قدم رکھا، سر چکرا کر رہ گیا۔ قدموں تلے زمین کھِسکتی محسوس ہوئی۔
سامنے فرش پر مُلکی معاشی و ترقی پالیسی، زمیں بوس تھی۔
ایسا دردناک منظر دیکھ کر ،آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے۔
کوئی آخر کتنا کم عقل اور حُبِ وطن سے عاری ہو تو مُلک کی معاشی ترقی کو یوں ہاتھ سے سیدھا فرش پر گِرا دے!

بیٹی نے ناشتہ بنانے کی کوشش میں ، مُلکی معیشت کا بیڑہ گِرا کر چِکنا چُور کر دیا تھا۔ نجانے کتنے ہزاروں سال، نرگس کے رونے پیٹنے کے بعد چمن میں دیدہ ور اور مُلک میں ایسے دانشوروں نے جنم لیا جو آخر کار ملکی معاملات کو ایسی ماہرانہ سنجیدگی اور فہم و فراست سے چلا سکیں جس کا نچوڑ صرف دو الفاظ میں مضمر ہے : دیسی۔ انڈہ۔
اور کتنی آسانی سے لڑکی نے اُسے ملیامیٹ کر دیا!
مجھے نئی نسل سے ویسے بھی کچھ زیادہ اُمید نہیں مگر ایسی لاپرواہی ، ناقابلِ معافی ہے۔

سوچ کر دل بیٹھ گیا کہ اگر میڈیا والوں کے ہاتھ یہ خبر آجاتی اور جو کہیں وزیرِاعظم صاحب اُس روز چھُٹی کر کے ٹی وی پر ہم ٹی وی دیکھتے ہوئے ایسے ہی ذرا کوئی چینل گھُماتے خبرنامہ دیکھتے اور سامنے یہ بریکنگ نیوز چل رہی ہوتی، انہیں کتنا غصہ “چڑھتا”۔
اور جو تو پیرنی صاحبہ انہیں یاد کرا دیتیں کہ وہی وزیرِاعظم بھی ہیں تو میری تو معطلی کے احکامات ہی جاری ہونے تھے نا۔
اِن تمام ہولناک اِمکانات پر غور کرتے نہایت پریشانی کے عالم میں ایک عزیز دوست کو کال کیا ۔ اس کے پاس ہر مشکل کا حل موجود ہوتا ہے۔ وہ نئے پاکستان کے بنیادی معماروں میں سے ایک ہے۔ ہر دھرنے میں اس کی محنت کی چشم دید گواہ میں خود ہوں۔ راتوں کو جاگ جاگ کر انڈین گانوں کے ڈانس سٹیپ یاد کرنا، دھرنے میں شرکت کے لئے درزی کی منتیں کرنا کہ وقت پر جدید تراش خراش کے کپڑے سِی دے۔ آخر مقصدِعظیم کا حصول معمولی کپڑوں میں تو نہیں ہو سکتا نا۔
پھرفائنل ٹچ: پارلر سے میک اپ اور بالوں کی بنوائی۔
ایسی انتھک محنت اور جُستجو نے ہی اُسے آج اس مقام تک پہنچایا ہے کہ بڑے بڑے اس کے علمی گیان سے مُستفید ہوتے ہیں۔
اس سی بہتر مشورہ کوئی نہ دے سکتا تھا۔ لہذا اسی سے رجوع کیا۔
تمام قصٌہ سُننے کے بعد، پہلے تو اس نے ہمیں خان صاحب کی بات کا ادب نہ کرنے پر، دِل سے توبہ کرنے کو کہا۔ پھر اس نیک رُوح نے تمام معاملات اپنے لیڈر کے ایک رُوحانی قول سے درست کر دئے،” اوئے پٹواریو! بڑا لیڈر بننا سیکھو، یو ٹرن لینا سیکھو!”
ساتھ ہی اس نے اقبال کا شعر سنایا ۔۔نہیں اقبال نہیں، وہ توپُرانے پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ شعر نئے پاکستان کے کسی دانشور کا ہے، بہر حال، شعر غضب کا ہے اور یوں ہے کہ: “یہ ایک یو ٹرن جسے تو گِراں سمجھتا ہے، ہزار شرمندگی سے دِلاتا ہے آدمی کو نجات”
بات تو درست ہے۔

کہانی کا خلاصہ:

انڈے کی حفاظت کریں، اپنے لئے ۔۔۔ قوم کے لئے

(خاص ہدایت: یہ قول، نیا یو ٹرن آنے تک کارآمد ہے۔ قواعد و شرائط لاگو ہیں۔)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سعدیہ وقاص

اُستانی بائی پروفیشن ہی نہیں، جبلتاً واقع ہوئی ہوں۔ زبان دراز ہے۔ جی، میں بذاتِ خود تنگ ہوں نیز شرمندہ بھی۔ برداشت کا شکریہ ۔

saadia-waqas has 4 posts and counting.See all posts by saadia-waqas