کیا ترکی ایک ملحد ریاست ہے؟
۔ 2 Populism اسے ترک زبان میں ”خلق چلک“ کہا جاتا ہے، یعنی لوگوں /عوام کا نظام، اشرافیہ، جاگیرداروں، تھیوکریسی (پوپائیت) اور قبائلی سرداروں کی حاکمیت کی بجائے اجتماعی یا عوام کی سیاسی طاقت، یعنی سیاسی طاقت کا مرکز ان روایتی مراکز کی بجائے عوام کو تسلیم کرنا۔ اس حوالے سے مصطفی کمال نے متعدد بار اپنی تقاریر میں کہا کہ ہم درج بالا حکمران طبقات کو طاقت کا مرکز سمجھنے کی بجائے کسانوں، مزدوروں، محنت کشوں اور عام شہریوں کو سیاسی طاقت کا مرکز تسلیم کرتے ہیں۔ اتاترک نے اس فکری ستون کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ وہ کلونیل ازم، امپیریل ازم، فاشزم، مذہبی اور نسلی تعصب کی بجائے Peoples ’Sovereignty پر یقین رکھتے ہیں۔ اُن کا ایک مشہور جملہ اس فکر کے حوالے سے ہے۔
”اقتدارِاعلیٰ کا سرچشمہ عوام/ملت ہیں اور اس پر ہمارا کامل یقین ہے اور اس پر کوئی مفاہمت نہیں۔ “
۔ 3 Secularism، اسے ترک زبان میں Laiklik کہتے ہیں اور یہ جدید ترکی کا اہم ترین ستون ہے۔ جدید ترک ریاست اور سماج آج بھی اس ستون کی طاقت پر کھڑا ہے۔ مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں Laiklikیا سیکولرازم درحقیقت اتاترک سے پہلے عثمانی دور کی ایک اہم اصلاحات سے تعلق رکھتا ہے اور اتاترک کی قیادت میں ان اصلاحات کو مقبول عوامی پذیرائی ملی۔ ان اصلاحات کو جسے ترک تاریخ میں ”تنظیمات“ کہا جاتا ہے، عثمانی دور میں متعارف ہونے والے پہلے آئین کے بطن سے ہوئی۔
عثمانی دور میں سیکولرازم 1839 ءسے 1876 ءمیں متعارف ہوا۔ درحقیقت یہی اصلاحات ہیں جس کو بعد میں مصطفی کمال پاشا اتاترک نے عوامی انقلاب کے ذریعے متعارف کروایا۔ جی ہاں، عثمانی دور میں جدیدیت کی اصلاحات جس میں Laiklikیعنی سیکولرازم متعارف ہوا۔ 1924 ءمیں جدید ترک ریاست نے سیکولر اصلاحات کرتے ہوئے شیخ الاسلام کا ادارہ ختم کردیا اور اس کی جگہ ایک نیا ادارہ قائم کیا جسے ”دینیات“ کہتے ہیں۔ آج بھی یہ ادارہ قائم ہے اور اسی کے تحت ملک بھر میں مساجد اور دیگر مذہبی ادارے حکومت کی سرپرستی میں قائم ہیں۔
اتاترک ذاتی طور پر اُن ترک دانشوروں کی فکری جدوجہد سے متاثر تھے جو فرانس کے انقلاب اور فرانسیسی طرز میں ریاست کے عقیدے کے مخالف تھے۔ ترک عوام نے جدید ترک ریاست Laiklik (سیکولرازم) کا ستون قائم کرکے ریاست پوپائیت سے نکال باہر کیا اور ہر فرقے، عقیدے کے لوگوں کو اس کے مذہبی حقوق کی نہ صرف آزادی دے دی بلکہ لوگوں کو اپنے عقائد کے فروغ کے مواقع دیے اور تحفظ بھی فراہم کیا اور یوں ایک ایسی ریاست جہاں مسلمان اکثریت میں تھے، اسلام مزید پھلا پھولا۔ ریاست کو مذہبیت سے نکالا، یہی آج کی ترک ریاست کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ترکی مسلم دنیا کا فخر ہے۔ ذرا غور کریں کہ ایک سیکولر ریاست دیگر مسلمان قوموں کا فخر ہے۔
۔ 4 Reformism ترک زبان میں اسے انقلاب چلک یعنی انقلابیت قرار دیا گیا، یعنی صدیوں پرانے ریاستی اداروں کو توڑ کر ریاست میں انقلابی اداروں کو قائم کرنا۔ بوسیدہ نظام کی جگہ جدید نظام متعارف کروانا، اسے انگریزی میں ترک دانشور Revolutionism بھی ترجمہ کرتے ہیں یعنی ایک جدید ریاستی ڈھانچا، نام نہاد خلافت جو جاگیرداروں اور قبائلی سرداروں کی بوسیدہ ریاست پر کھڑا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدیدیت Modernization کے اس سارے عمل میں انہوں نے ترک ثقافت وروایات ہی کو بنیاد بنایا۔ قبائلی جاگیردار روایات پر کھڑے ترک ریاستی ڈھانچے کی بجائے جدید ترک ریاستی ڈھانچے کو وہ انقلاب قرار دیتے ہیں۔ ترک ثقافتی وسماجی قدروں کو مدنظر رکھ کر ریاست وسماج میں مکمل انقلاب۔
۔ 5 Nationalism ترک زبان میں ”ملت چلک“ یعنی ترک قوم پرستی۔ وہ ترک روایات، عقائد، ثقافت وزبان سمیت دیگر ترک قدروں کے امتزاج کو ترک قوم پرستی قرار دیتے ہیں۔ فرد، خاندان اور سماج کے تمام گروہوں کے باہم اتحاد کو ترک قوم پرستی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ترک قوم پرستی ہی درحقیقت 1923 ءکے انقلاب کی کامیابی کا سبب ہے اور اس سے پہلے 1915 ءسے 1923 ءمسلسل غیرملکی حملہ آوروں کے خلاف جنگ آزادی جس کی قیادت مصطفی کمال پاشا اتاترک نے کی، اس ترک قوم پرستی کو جِلا بخش گئی۔
آج کا نوجوان ترک بھی 1915 ءسے 1923 ءتک کی جنگِ آزادی کو اپنا سب سے بڑا فخر سمجھتا ہے کہ جس نے برطانیہ، فرانس، اٹلی، یونان، نیوزی لینڈ اور دیگر طاقتوں کی مسلط کردہ جنگوں کو اپنے راہبر اتاترک کی قیادت میں شکست فاش دی۔ جدید ترک قوم پرستی کا ایک بڑا ماخذ درحقیقت یہی جنگِ آزادی ہے۔ اس جنگِ آزادی کے بطن ہی سے جدید ترک ریاست کا بھی جنم ہوا جو ترک قوم پرستی پر قائم ہے۔ جدید ترکی کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر خطوں میں بسنے والے ترکوں کی قیادت کرنا اپنی قومی ذمہ داری تصور کرتی ہے۔
ترکی میں بسنے والے چھے کروڑ کے قریب سنّی اور دوکروڑ سے زائد علوی اسی ترک قوم پرستی کے ستون پر ایک طاقتور اتحاد کیے ہوئے ہیں۔ کسی بھی ترک کا سب سے پہلا اور بڑا فخر اس کا ترک ہونا ہے۔ اور اس فخر کے پیچھے 1915 ءسے 1923 ءتک کی جنگِ آزادی کے ساتھ ساتھ تاریخ میں اس کا عثمانی اور سلجوقی ہونا بھی ہے۔ آپ اگر کسی ترک کو اس کے ترک ہونے پر توہین کریں تو اس کا ردِعمل آپ کو ورطہ¿ حیرت میں ڈال دے گا۔
ہمارے ہاں 1923 ءمیں جدید ترکی کے قیام کے بعد وہاں Language Reforms پر تنقید کرنے ولاے رجعت پسند یا تو مکمل طور پر نابلد ہیں اور یا وہ شعوری طور پر اپنے لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ ترکی میں اتاترک کی قیادت میں ترک زبان کی اصلاحات کے پیچھے تقریباً ڈیڑھ سو سال کی ترک دانشوروں کی فکری جدوجہد ہے۔ عثمانی دور کے آخری سالوں (دوصدیوں ) میں ترک اشرافیہ (عثمانی) پر ایرانی وعربی تہذیب، تمدن، زبان (عربی وفارسی)، موسیقی، شاعری اور دیگر فارسی وعربی اثرات غالب آگئے تھے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



