کیا ترکی ایک ملحد ریاست ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 14
  •  

کیا ترکی ایک ملحد ریاست ہے؟ یہ سوال اس لیے اٹھایا ہے کہ ہمارے ہاں تین چار دہائیوں نے رجعت پسند دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں نے جب بھی سیکولرازم کا ذکر کیا، کسی فرد یا سیکولر نظام کے حوالے سے تو کہا کہ ”وہ سیکولر ملحد ہے یا سیکولرازم ملحدانہ نظام ہے۔ “ سیکولرازم کی اس تشریح کو پاکستان کے ایک بڑے طبقے نے اسی تناظر میں دیکھناشروع کردیا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ چند ایک سالوں سے جب سے ہمارے ان ناکام رجعتی حلقوں کو جوافغانستان میں اسلامی انقلاب، پاکستان میں اسلامی نظام اور دنیا بھر میں اسلامی انقلاب کے داعی بنے پھرتے تھے، اب ترکی پر فخر کرتے تھکتے نہیں۔

ترکی اسلامی دنیا کا واحد ملک ہے جس نے فوجی میدانوں میں استعماری طاقتوں کے خلاف اپنے بانی مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں جنگ آزادی لڑی اور ایک مٹتی قوم کو نئی جِلا بخشی۔ اور یوں 1923 ءمیں نئی ترک ریاست کی بنیاد رکھی گئی جسے جمہوریہ (Republic) قرار دیا گیا اور سیکولرازم اس نئی ریاست کا سب سے بڑا ستون تھا۔ وہ ناکام رجعتی جو کبھی یہاں اور کبھی وہاں اسلامی انقلاب کے داعی تھے، اب اُن عناصر نے ترکی کو ایک کامیاب ریاست اور شان دار معیشت دیکھتے ہوئے اس کو اپنی جھولی میں ڈال کر سر فخر سے بلند کرنا شروع کردیے ہیں۔

میں مولانا مودودی مرحوم کا نہایت احترام کرتاہوں اور اسی طرح مدرسہ دیوبند اور اس مدرسے کے جید علمائے کرام کا، لیکن کیا ہم یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ترکی ”فکر ِمودودی“ دیوبند یا اخوان المسلمون کا کارنامہ ہے؟ ہرگز نہیں۔ آج تک، قلم سے تحریر کرنے تک، موجودہ ترکی فکرِ اتاترک کا کارنامہ ہے۔ اس میں آلِ سعود، حتیٰ کہ فکرِ خمینی کا بھی کوئی عمل دخل نہیں۔ یہ سوال اگر اسی انداز میں ترکی کے کسی کالم میں اٹھایا جائے تو ترک قوم نہ صرف مذاق اڑائے گی بلکہ اسے ناپسند کرے گی۔

وہ اپنے ترک ہونے، یعنی اپنی قوم پرستی اور سیکولر ریاست ہونے پر نازاں ہیں۔ اگر سیکولر ازم ملحدانہ نظام ہے تو پھر ترکی ملحد ریاست تو نہ ہوا۔ پاکستان کے تمام رجعتی جو سیکولرازم کی ملحدانہ تناظر میں تشریح کرتے ہیں، ان کے سامنے اب میرا سوال ہے کہ اگر سیکولرازم ملحدانہ نظام ہے تو پھر وہ کس طرح ترکیہ جمہوریہ (Republic of Turkey) پر فخر کرتے ہیں۔ ترکی بحیثیت ریاست ایک مکمل سیکولر ریاست ہے اور اس کی کامیابی اسی ایک ستون پر کھڑی ہے۔ اس کا اگر کوئی دوسرا ستون ہے تو وہ ترک قوم پرستی Turkish Nationalism ہے۔

اگر ترکی فکرِ مودودی، فکرِ اخوان المسلمون، فکرِ دیوبند اور آلِ سعود اور فکرِ خمینی سمیت کسی مذہبی سیاسی فکر پر نہیں کھڑا تو وہ کس طرح اس کے ”مامے“ بنے پھرتے ہیں۔ ترکی 1923 ءسے آج تک بننے والے تمام آئین کے مطابق مکمل سیکولر ریاست ہے اور وہاں مذہب کی بنیاد پر سیاست کرنا سنگین جرم ہے۔ اگر وہاں کوئی خوب صورت تلاوت قرآن پاک کرتا ہے تو اس کاسیکولرازم سے کوئی تصادم نہیں۔ اس لیے کہ ترک سیکولرازم تمام مذاہب وعقائد کے ماننے والوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کرتا ہے۔ مگر کسی کو مذہبی پوپائیت قائم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ جدید ترکی اس کے بانی مصطفی کمال پاشا اتاترک کے چھے اہم سیاسی فکری ستونوں پر قائم کیا گیا۔

۔ 1 Republicanism

۔ 2 Populism

۔ 3 Secularism

۔ 4 Reformism

۔ 5 Nationalism

۔ 6 Statism

ترک ریاست کے یہ چھے سیاسی فکری ستون، اس کے بانی مصطفی کمال پاشا اتاترک کی تمام عمر کی فکری جدوجہد اور عملی سیاسی جدوجہد کا نچوڑ ہیں۔ اور یوں ان چھے اہم فکری ستونوں پر جدید ترک ریاست کی بنیاد رکھی گئی اور آج تک لاگو آئین انہی ستونوں پر کھڑا ہے۔ اور اسے ہی کمال ازم کہا جاتا ہے۔ ان چھے فکری ستونوں کی موجودہ ترکی جوکہ مسلم دنیا کی کامیاب ترین ریاست ہے، کو بنیادی سیاسی فکر قرار دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کے رجعت پسند عناصر جو زیادہ تر آلِ سعود کی فکر سے متاثر ہیں اور وہ جدیدیت اور مغربیت کو شعوری طور پر گڈمڈ کرکے پیش کرتے ہیں۔

وہ Modernization اور Europeanization کے مابین ایک بڑی حدِتقسیم کو ہی نہیں سمجھ پائے۔ ترکی میں کمالسٹ ایک ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو بیرونی طاقتوں، استعماری، صیہونی اور توسیع پسند طاقتوں کا مخالف ہو۔ اسی طرح ایک کمالسٹ جدیدیت کا علمبردار ہوتا ہے مگر یورپین بالادستی، روسی بالادستی، امریکی بالادستی کا سخت مخالف۔ افسوس کہ پاکستان میں سیکولرازم سمیت لاتعداد جدید سیاسی فکر کو ان رجعتی عناصر نے مغالطوں اور مبالغوں پر کھڑا کیا ہے۔

علامہ ا قبال ؒ اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ اپنے وقت میں برصغیر میں موجود تمام مسلمان رہنماؤں اور مفکروں کے مقابلے میں جدیدیت کے علمبردار تھے اور اُن کے مخالف تمام کے تمام رجعت پسند دانشور اور سیاسی رہبر پسماندہ اور مغالطوں پر کھڑے اپنی قوم کی رہنمائی کرنے کے درپے تھے۔ اب میں یہاں کمال ازم کے ان چھے ستونوں کی مختصر تشریح عرض کرنا چاہوں گا جس پر موجودہ ترک ریاست کھڑی ہے اور جو دنیائے اسلام کی سب سے کامیاب ریاست اور شان دار معیشت ہے۔

۔ 1 Republicanism یعنی بادشاہت، نام نہاد خلافت جو ایک خاندان کی حکمرانی پر قائم تھی، کے مقابلے میں Rule of Law، یا Popular Sovereignty کی بنیاد پر ایک ایسی ریاست قائم کرنا مقصود تھی جو کسی فرد، خاندان کے قانون یا حکم کے تحت ہونے کی بجائے عوام کے منظورشدہ آئین کے تحت قائم ہو۔ اسی لیے ترکی کا آئینی نام Republic of Turkey ہے جسے وہ ترک زبان میں ترکیہ جمہوریہ کہتے ہیں۔ ری پبلک یعنی عوام کی خواہشات، تقاضوں اور ضروریات کی تابع ریاست۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 14
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں