صحافت کا سرکس اور صحافی



آج کے نئے پاکستان میں ہر صحافی میڈیا پر لگائی جانے والی پابندیوں کا ذکر کرتا ہے۔ نجی محافل اور سوشل میڈیا پر ان "نا دکھائی دینے والی سینسر شپ” کا سیاپا کرتے ہیں۔ اُن قوتوں کے بارے میں استعارے کا استعمال کرتے ہیں۔ جنھیں سابق وزیراعظم نواز شریف نے "خلائی مخلوق” کے لقب سے نوازا تھا۔

ان صحافیوں کے سوشل میڈیا پر خیالات اور نجی محافل میں جذبات جان کر لگتا ہے کہ پورے پاکستان میں یہ سب سے مظلوم طبقہ ہے۔ جو کہ آزاد صحافت کا علم اٹھائے کلمہ حق کہنا تو چاہتا ہے۔ مگر ان کے لبوں کو بوٹوں کے تسموں سے باندھ دیا جاتا ہے۔

روز شام کو سات بجے سے رات بارہ بجے تک گُٹر گُٹر بولنے والے یہ صحافی صحافت کو درپیش مسائل کے بارے میں ٹویٹتے تو خوب ہیں۔ لیکن اپنے پروگراموں میں اس نا دیکھی جانے والی طاقت کے بارے میں موجودہ دور کے ممنوعہ کلمات کہتے ہوئے ہر ماہ ان کے بنک اکاؤنٹس میں ٹرانسفر ہونے والے ملینز روپے آڑے آجاتے ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ نام نہاد صحافی وہ کچھ بول نہیں سکتے یا پھر ان کے چینلز کی انتظامیہ انھیں ان ممنوعہ موضوعات پر پروگرام کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ تو کیا یہ تمام آزادی صحافت کے علمبردار ناطرین کو بیوقوف بنانے کیلئے نیوز چینلز پر بیٹھ کر ٹوپی ڈرامہ کرتے ہیں؟۔

ان اینکران کو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ کن موضوعات پر یا کس کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا۔ لہذا وہ ایسے موضوعات کا چناؤ کرتے ہیں۔ جن سے ان کے بنک اکاؤنٹس میں لاکھوں روپے کی ٹرانسفر بھی متاثر نا ہو اور دیکھنے والے بھی سیاستدانوں سے پوچھے جانے والے مشکل سوالات دیکھ کر کہہ سکیں کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی والے تو ہیں ہی کرپٹ۔ ملک کا بیڑہ غرق ہی ان سیاستدانوں نے کیا ہے اور جن کی کرپشن کی وجہ سے آج پاکستان اتنے قرضے تلے دبا ہے۔

ایک سوچی سمجھی ابلاغی سازش کے تحت ایسے مہمانوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ جن کا یا تو ڈنگ نکل چکا ہوتا ہے۔ یا پھر پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی ان سے ممنوعہ موضوعات سے متعلق سپاٹ فکسنگ کرلی جاتی ہے۔ تا کہ نیوز چینلز پر ٹوپی ڈرامہ بھی چل جائے اور کسی کو تکلیف بھی نا ہو۔

سوچنے اور سمجھنے بلکہ غور کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ جب کبھی کسی این جی او یا پریس کلب کی طرف سے آزادی صحافت پر کوئی مباحثہ یا سیمینار کا انعقاد کیا جائے۔ تو نیوز چینلز پر آنے والے انہی اینکران کو خیال اظہار کیلئے مدعو کیا جاتا ہے۔ جو موجودہ دور کو جنرل مشرف اور ضیاالحق کے دور سے بھی زیادہ کٹھن اور مشکل گردانتے ہیں۔ نئے پاکستان میں میڈیا کو درپیش مالی مسائل اور سینسر شپ پر بھاشن دیتے ہیں۔ انتخابات 2018 میں خلائی مخلوق کا کردار اور انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ مگر خفیہ ترین اور مصدقہ ذرائع رکھنے والوں کے منہ سے ایک بھی ممنوعہ لفظ ان قوتوں کے خلاف نہیں نکلتا۔ جن کا نام ہی کافی ہے۔

ماضی قریب میں چند صحافیوں جیسے مطیع اللہ جان، طلعت حسین، مرتضی سولنگی اور امتیاز عالم کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ ایک اتفاق ہے کہ مختلف چینلز سے فارغ کئے جانے والے یہ چند صحافی 25 جولائی کو "سیلیکٹ” ہونے والی حکومت پر تنقید کیا کرتے تھے۔

سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ ان چند صحافیوں کے علاوہ باقی تمام صحافی جو روزانہ رات کو ابلاغی ارسطو بن کر عوام کو حالات حاضرہ سے روشناس کرتے ہیں۔ کیا یہ تمام صحافی اپنے اوپر خود سے اور چینل کی طرف سے لگائی گئی سینسر شپ کی وجہ ممنوعہ موضوعات کو چھیڑنے سے ایسے اجتناب کرتے ہیں کہ بنک اکاؤنٹس میں پیسوں کی فراہمی بھی جاری رہے اور کوئی ناراض بھی نا ہو۔

آخر میں ایک معصومانہ سا سوال ہے کہ ظاہری و باطنی حکومت وقت پر تنقید کرنے والے صحیح معنوں میں آزاد صحافت کرنے والے کیا یہی چند صحافی تھے۔ جنھیں چینلز نے نکال دیا۔ ہر روز دن ڈھلے نمودار ہونے والے صحافی کیا صحافی نہیں ہیں یا پھر "سرکس” کے صحافی ہیں۔ جو کہ نیوز چینلز پر صرف تماشہ دکھانے کے لئے آتے ہیں۔

Facebook Comments HS