بے وفا شوہر سے انتقام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 31
  •  

میں احمر کی زندگی میں آنے والی ساتویں عورت لیکن احمر میری زندگی میں آنے والا پہلا مرد تھا۔ وہ مرد جس کا احساس نوعمری میں چہرے کی تابانی بڑھاتا ہے، راتوں کی نیندیں اڑاتا ہے، وہ مرد جس کا ہاتھ تھام کر لڑکی خیالوں اور خوابوں میں کتنے ہی ہول ناک آگ کے دریا پھاند جاتی ہے، جس کے سینے میں چھپ کر اپنا بچپن، سہیلیاں، محلے کی گلیاں اور ماں کی لوریاں سب بھول جاتی ہے، جس کے چوڑے شانوں کے پیچھے سے جھانک کر سامنے کا جو راستہ دیکھتی ہے تو نامعلوم سارے خار کہاں غائب ہوجاتے ہیں، بس پھول ہی پھول کِھلے نظر آتے ہیں۔ وہ مرد جو سب کے لیے عام ہوکر بھی اس کے لیے خاص ہوتا ہے۔ احمر میرے لیے ایک ایسا ہی مَرد تھا۔ شادی کی پہلی رات احمر نے اپنی پوری زندگی کی کتاب میرے سامنے کھول کر رکھ دی۔ میرا ہاتھ تھام کر اپنے ایک ایک معاشقے کی داستان سناکر کہا، ”ثمین! یہ ہے تمہارا احمر اب یہ بس تمہارا ہے، اسے سمیٹ لو۔ “

معلوم نہیں، میری جگہ کوئی دوسری عورت ہوتی تو اس کا ردِعمل کیا ہوتا؟ لیکن احمر نے اپنے رازوں میں شریک کرکے، مجھ پر جو اعتماد اور بھروسا کیا تھا میں تو اس پر مسرت سے جھوم ہی اٹھی اور احمر کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔ مجھے ان ساری عورتوں سے انسیت محسوس ہونے لگی جو احمر کی زندگی میں نہ آئی ہوتیں تو ہمارے بیچ اعتماد کا یہ پُل استوار ہونے میں جانے کتنے سال لگ جاتے؟

بعد میں اکثر میں ان عورتوں کا ذکر احمر سے خود نکال بیٹھتی۔ عشقیہ داستانیں ازبر ہونے کے باوجود بار بار سنتی اور وہ سلگتی سگریٹ کا کونا منہ میں دبائے، میرے کندھے سے ٹیک لگاکر ماضی کی راکھ جھاڑتا رہتا۔ جلد ہی میں ان عورتوں کے خدوخال، عادتوں، پہناووں اور اندازِگفتگو سمیت بے شمار اہم اور غیراہم باتوں سے واقف ہوگئی۔ اکثر دل ہی دل میں ان سے اپنا تقابل کرتی اور بے حد خوش ہوتی، وہ عورتیں احمر کا ماضی تھیں اور میں حال، وہ وقت گزارنے کا ذریعہ اور میں گزرتے وقت کی ساتھی، یوں میں ہر لحاظ سے ان سے برتر تھی۔

میری کوشش ہوتی کہ ان عورتوں کی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی جو احمر کو کبھی گراں گزری ہو اس سے میں اپنا دامن بچا کر چلوں اور جو ادائیں احمر کو ان کی طرف کھینچتی تھیں وہ سب اپنا لوں۔ میں اس کے ماضی کی دل فریب کہانیوں کے ایک ایک لفظ کو اپنے دل میں اتارتی، حافظے میں محفوظ کرتی کیوں کہ میں اس کے دل کی دنیا سے کبھی دور نہ جانا چاہتی تھی۔

شادی کا پہلا سال پَر لگا کر اُڑ گیا۔ میں احمر کو اولاد کی خوشی نہ دے سکی، لیکن وہ پھر بھی خوش تھا اور میں اس کی خوشی میں نہال۔ وہ عورتیں کم کم ہی سہی لیکن ہماری گفتگو کا اب تک حصہ تھیں۔ میں نے دل میں ان عورتوں کے لیے حسد محسوس کیا نہ کبھی احمر کے کردار کے بارے میں کوئی غلط رائے بنائی۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب احمر نے مجھ پر آشکار کیا کہ وہ سب تعلقات دوستی کی حد پار کر کے جسموں کی سرحد میں داخل ہوچکے تھے۔ شہر کے تقریباً تمام گیسٹ ہاؤسز، ہوٹلوں اور پارکوں کو احمر نے اپنے تعلقات کا گواہ بنارکھا تھا اور اب میں بھی ان رازوں میں شریک تھی۔ احمر سے میری جنونی محبت کو یہ اعتراف کوئی گزند تو نہ پہنچا سکا۔ البتہ اپنی سچائی کے سبب احمر میرے دل کے اور اونچے سنگھاسن پر براجمان ہوگیا۔

کبھی اکیلے میں جو احمر کے ماضی کے بارے میں سوچتی تو یقین جانیے میرا دل سکون سے بھر جاتا۔ وہ سارے کام جو مرد بیوی کی موجودگی میں کرتے ہیں احمر میرے آنے سے قبل ہی کر کے سَیر ہوچکا تھا، سو میں بے فکری کے روز و شب کاٹتی۔ گھر کے کاموں کے ساتھ بے شمار مشاغل میں خود کو مصروف رکھ کے خوشی حاصل کرتی۔ احمر میرا شوہر ہی نہیں پہلی محبت بھی تھا۔ میرے دل کا مکین! اور بھلا دل کی دوسری جانب نکلنے کا راستہ ہی کب ہوتا ہے؟ یوں کہ ہمارے ازدواجی بندھن کا طویل سفر طے ہونا ابھی باقی تھا، اولاد کی بیڑیوں سے بھی احمر کے پاؤں آزاد تھے، پھر بھی ہم شاد اور مطمئن تھے۔ بہت خوش۔

احمر اور میں ایک دوسرے میں جیتے رہے اور پانچ سال بیت گئے۔ جو سمجھو تو یہ دورانیہ ازدواجی سفر میں کچھ بھی نہیں لیکن میرے لیے تو سب کچھ تھا۔ احمر، احمر کا ماضی، اس کا مستقبل، فکریں، ذمہ داریاں، خوشیاں، غرض سب کچھ میرا ہی تو تھا۔ میری اس دیوانی محبت کا احمر کو بہ خوبی اندازہ تھا۔ اس کے نزدیک میں اس دور کی شاید واحد بیوی تھی جو نہ شوہر کی جیب کھنگالتی اور نہ موبائل، کبھی دفتر کا بیگ کھول کر جھانکا نہ لیپ ٹاپ، جلدی جانے پر سوال کیا نہ دیر سے لوٹنے پر کریدا۔ احمر میری چھوٹی سی ناک چھیڑتے ہوئے اکثر کہتا، ”ارے میری بھولی! تُو جانے کس دیس سے آئی ہے؟ “ اور میں ہنستے ہوئے احمر کے کان کھینچ کر کہتی ”محبت کے دیس سے۔ “

محبت کی لپٹوں میں تو احمر بھی گھِرا ہوا تھا، اسی لیے اس نے مجھے پابندیوں میں رکھ کر کبھی میرا دَم نہ گھوٹا۔ میکے جانے پر منہ بنا یانہ شاپنگ کے نام پر تیوریاں چڑھائیں۔ کبھی اتنا بھی پابند نہیں کیا کہ میں کہیں جانے سے پہلے کم از کم بتا ہی دیا کروں۔ گھر کا بجٹ بھی بے حد مناسب بلکہ دو بندوں کی ضرورت سے کہیں زیادہ تھا۔ یوں میں اور احمر ایک دوسرے میں جذب ہوکر ایک بھرپور زندگی کی ساری خوشیاں دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے تھے۔

اور ایک بار پھر دسمبر کا سرد مہینہ لوٹ آیا، جس کی ٹھنڈک مجھے کچھ زیادہ ہی نہال کرتی۔ آخر کیوں نہ کرتی؟ میرے احمر کی پیدائش کا مہینہ بھی یہی اور ہمیں ایک ڈور میں باندھنے والا بھی یہی۔ احمر کی خواہش ہوتی کہ دونوں خوشیاں ایک ہی شام کے نام کردی جائیں، لیکن میں ان خوشیوں سے پورا پورا عرق کشید کرنے کے لیے دونوں دن بھرپور طریقے سے الگ الگ مناتی۔ احمر میری دیوانگی پر ہنس دیتا۔ پہلے احمر کا جنم دن آتا اور ٹھیک ایک ہفتے بعد ہماری شادی کی سال گرہ۔ اس سال بھی میں کسی نئی طرح یہ یادگار دن منانے کے جتن میں بازاروں کی خاک چھان رہی تھی۔ احمر کے لیے سب کچھ ہمیشہ کی طرح سرپرائز تھا۔

اس بار میں نے احمر کے لیے انوکھے اور خوب صورت تحفوں کی تلاش میں شہر کے سب سے بڑے اور جدید طرز پر بنے ہوئے شاپنگ مال کا رُخ کیا۔ یہاں کی چیزوں کا معیار اور اندر کی دنیا سب بہت مختلف تھا۔ احمر کی سنگت میں اس خوب صورت جگہ پر آنے کا ارادہ باندھے باندھے میں نے پوری شاپنگ بہت اطمینان سے نمٹائی۔ چاروں طرف حیرت اور دل چسپی سے دیکھتی ایکسیلیٹر سے نیچے اتر رہی تھی کہ بیس مینٹ میں بنے ہوئے ایک ریسٹورنٹ پر نظر پڑی اور میرے لیے اپنے قدموں پر کھڑا رہنا مشکل ہو گیا۔ احمر کے کندھے پر ایک خوب رُو عورت کا دھرا سَر اور ان کی آپس کی شوخیوں کا یہ منظر میرے لیے ہزار وولٹ کے کرنٹ سے بھی زیادہ اذیت ناک تھا۔ شادی کی پہلی رات چند لمحوں میں قائم ہونے والا اعتماد کا پُل، پانچ سال بعد اس منظر میں زمین بوس ہوچکا تھا۔

احمر کے لیے کی گئی شاپنگ کے تھیلے میرے ہاتھ میں لرز رہے تھے۔ بہ مشکل خود کو سنبھالے خالی دل کے ساتھ گھر لوٹ آئی۔

اس رات میں احمر کے سونے کا بے چینی سے انتظار کرتی رہی۔ یہ انتظار کانچ پر ننگے پاؤں چلنے جیسا تھا۔ آخر کار احمر کے خراٹے کمرے میں گونجنے لگے اور میں نے سائیڈ ٹیبل پر دھرا اس کا فون اٹھا لیا۔ آج پہلی بار موبائل کی تلاشی لینے پر بہت گھبراہٹ طاری تھی، ہاتھ کپکپارہے تھے اور سینے میں احمر کی بے وفائی کا بارود سلگ رہا تھا۔ یوں تو آنکھوں دیکھی کے بعد اور کسی ثبوت کی حاجت نہ تھی لیکن احمر کی طرف سے اب میرا دل بے ایمان ہو چکا تھا۔ جانتی تھی کہ موبائل کھنگال کر خود کو مزید اذیت میں مبتلا کرنے کے سوا کچھ نہیں کررہی، لیکن من میں جو آگ بھڑک رہی تھی وہ مجھے کسی پل چین لینے نہ دے رہی تھی، مگر احمر نے مجھے اس اذیت سے بچانے کا پورا اہتمام کر رکھا تھا۔ اسکرین پر ”اَن پُٹ پاس ورڈ“ میرا منہہ چِڑا رہا تھا۔ یہ دیکھ کر میں اور ڈھے گئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 31
  •