عمران خان اور پولیس آفیسر ذوالفقار احمد چیمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 1
  •  

ریٹائرڈ بیورو کریٹ عابد سعید کی بیٹی کی شادی کی تقریب تھی۔ وہاں ایک شخص نیاز مندی اور قدرے تفاخر کے ملے جلے جذبات میں لیجنڈ پولیس آفیسر ذوالفقار احمد چیمہ سے کہنے لگا۔ ’سر!میرا بیٹا فلاں ضلع میں ایڈیشنل سیشن جج مقرر ہو گیا ہے۔ آپ کا بچہ ہے۔ آپ اسے بلا دھڑک ’حکم احکام‘ بھجوا سکتے ہیں ‘۔ ذوالفقار احمد چیمہ چونک کر بولے۔ ’لیکن میں عمر بھر کسی جوڈیشل افسر کو کبھی سفارش کا سوچ بھی نہیں سکا‘۔ یہ کہہ کر وہ دوسری جانب متوجہ ہو گئے۔ استاد دامن نے کہا تھا :

                      چہرہ شاہی سکہ بھانویں لکھ ہووے

                      تاں وی لوگ ٹنکا کے ویکھدے نیں

ترجمہ :آج کاغذی کرنسی کے زمانے میں کوئی یہ کیسے سمجھ پائے گا کہ ایک زمانہ میں سونے چاندی اور تانبے کے چہرہ شاہی سکے ہواکرتے تھے۔ لیکن لوگ انہیں بھی اپنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کی مدد سے ہوا میں اچھال کر کھنک سے ان کے کھوٹے کھرے ہونے کااندازہ لگایا کرتے۔ ادھر ذوالفقار احمد چیمہ کو جب بھی پرکھا گیا وہ پانسے کا سونا ثابت ہوئے۔ ایمانداری ہو، دلیری یا پھر احساس ذمہ داری اور محنت، وہ کسی میدان میں پیچھے دکھائی نہیں دیئے۔

ان دنوں احمدی نام کے ایک اشتہاری کی خبریں بہت گرم تھیں ۔ اس کے بھتہ کی پرچی جسے ملتی وہ فوراً حکم کی تعمیل کرتا۔ اس شخص احمدی کا تعلق ذوالفقار احمد چیمہ کی اپنی تحصیل وزیر آباد سے تھا، پھر وہ تھا بھی انہی کی جاٹ برادری سے۔ ذوالفقار احمد چیمہ آر پی او گوجرانوالہ تھے ان سے کہا گیا ’ چیمہ صاحب !لوگ کہتے ہیں کہ جرائم پیشہ اشتہاری احمدی اول آپ کے بھائی کی الیکشن کمپین میں سرگرم رہا ہے۔ دوم وہ آپ کی جاٹ برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی لئے آپ اس پر ہاتھ نہیں ڈال رہے’۔ ذوالفقار احمد چیمہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ کہنے لگے۔ ”احمدی میری تحصیل وزیر آباد کا رہنے والا ہے۔ وہیں میرے کئی عزیز و اقارب کا زرعی رقبہ ہے۔ ان کے ڈیروں پر وہ دکھائی بھی دیتا رہتا ہے۔ مجھے اپنے عزیزوں کے ڈیروں پر پولیس کے چھاپے اچھے نہیں لگتے لیکن میں ایک بات بتا دوں کہ جب بھی وہ میرے قابو آگیا،بچ نہیں سکے گا‘۔ پھر احمدی ذوالفقار احمد چیمہ سے بچ نہ سکا۔

ایک ضمنی الیکشن آگیا۔ یہ ناقابل یقین سا واقعہ ہے کہ ذوالفقار احمد چیمہ نے بطور آر پی او گوجرانوالہ وہ الیکشن ’آتشیں اسلحہ فری‘ کروا کر دکھا دیا۔ نوشہرہ ورکاں کے اس الیکشن میں صر ف ڈانگ سوٹے کا استعمال ہو سکا۔ پھر ایسا ہی منظر نامہ گجرات کے ضمنی الیکشن میں بھی دیکھنے میں آیا۔ اس دن پولنگ ختم ہونے سے دو گھنٹے پہلے آر پی او گوجرانوالہ سے گجرات کی مقامی پولیس کی کمانڈ لے لی گئی تھی۔ تبھی گجرات کے چوہدریوں کی ہار ممکن ہو سکی۔ جب وہ آر پی او شیخوپورہ مقرر ہوئے تو سرگودھا ڈویژن کا اضافی چارج بھی ان کے پاس تھا۔ انہوں نے حکم دیا کہ کوئی شخص اپنے پرائیویٹ گن مینوں کے ساتھ باہر نہ نکلے۔ مجھے یاد ہے کہ حکومتی پارٹی کا ایک ایم این اے ان کے پاس یہ کہتے ہوئے سفارشی ہوا۔ ’فلاں شخص کو اپنے گن مینوں کے ساتھ باہر نکلنے کی اجازت دے دی جائے۔ وہ چور ڈاکو نہیں۔ صرف دشمن دار آدمی ہے’۔ ذوالفقار احمد چیمہ کا جواب تھا۔ ’اس کی اسرائیل اور ہندوستان کے ساتھ دشمنی نہیں۔ پھر آج کا سکہ رائج الوقت زمین کے ناجائز قبضے ہی ہیں۔ آج چوری ڈاکے کا زمانہ نہیں رہا۔ وہ بڑا دشمن دار ہے تو اپنے گھر پڑا رہے۔ بالکل باہر نہ نکلے’۔ پھر آر پی او ذوالفقار احمد چیمہ نے حکومتی پارٹی کے اس ایم این اے کی طرف اپنی کرسی پر بیٹھے بیٹھے رخصتی سلام کیلئے ہاتھ بڑھا دیا۔ آج کے نوجوان شاعر رحمٰن فارس نے کسی ایسے ہی منظر کی منظر کشی کی ہے۔

                                               دیکھنے والا تھا منظر جب کہا درویش نے

                                                کج کلاہو! بادشاہو !  تاجدارو! تخلیہ

کالم نگار کو کامونکی سے مرحوم و مغفور رانا شمشاد ایم پی اے نے بتایاتھا کہ 2013ء کے الیکشن کے بعد ہم چند ہم خیال ممبران صوبائی اسمبلی ایک جگہ اکٹھے ہوئے۔ میاں نواز شریف کا آئندہ حکومتی رویہ زیر بحث تھا۔ سبھی دوستوں کی رائے تھی کہ ذوالفقار احمد چیمہ کو آئی جی پنجاب لگانے یا نہ لگانے سے ان کی آئندہ حکومتی ترجیحات واضح ہو جائیں گی۔ پھر سارے زمانے نے دیکھاکہ انہیں آئی جی پنجاب نہ لگایا گیا۔

کالم نگار محمدعامر خاکوانی نے ممتاز امریکی صحافی باب وڈ ورڈکی کتاب ”ایجنڈا“کا ذکر کیا ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے بتایا کہ صدر کلنٹن اور اس کی قریبی ساتھیوں نے کس طرح جنونیوں کے سے انداز میں اچھی ٹیم سلیکٹ کی۔ محمدعامر خاکوانی کی خواہش ہے کہ کاش عمران خان یہ کتاب پڑھ سکتے۔ اس طرح انہیں پتہ چلتا کہ جس لیڈر نے جوہری نوعیت کی تبدیلی لانی ہووہ کس طرح کے مشیر منتخب کرتا ہے اور وہ کس نہج پر کام کرتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ذوالفقار احمد چیمہ کو  TEVETAکا سربراہ مقرر کیا گیا۔ انہوں نے اس بے جان سے ادارے میں جان ڈال کر دکھا دی۔ دیانت، محنت اور لیاقت سے مردہ ادارے ضرور زندہ ہو جاتے ہیں ۔ ن لیگی گھرانے سے تعلق رکھنے والے ذوالفقار احمد چیمہ سیاست سے لا تعلق ایک خالصتاً پیشہ ور بیورو کریٹ ہیں ۔ لیکن ایک عرصے سے وزیر آباد کی قومی اسمبلی کی سیٹ ان کے خاندان کے پاس ہے۔ اپنے اسی خاندانی پس منظر کے باعث ن لیگی حکومت ختم ہونے پر و ہ ٹیوٹا کی سربراہی سے استعفیٰ دینے کیلئے وزیر اعظم عمران خان کے پاس پہنچ گئے۔ پھر کتنا برا ہوا کہ اس قحط الرجال میں اس رجل رشید کا استعفیٰ منظور کرلیا گیا۔ اس استعفیٰ کی منظوری نے کالم نگار کو بھی محمد عامر خاکوانی کا ہم خیال بنا دیاہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کاش حکومت میں آنے سے پہلے عمران خان نے باب وڈ ورڈ کی کتاب ”Agenda-Inside the Clinton White House“پڑھی ہوتی۔

 

 

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 1
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں