عدل مثل حیات اور ناانصافی مانندِ موت ہے۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ ”عدل وہ انصاف کے ساتھ سیاست و حکمرانی تین صفات سے حاصل ہوتی ہے،

1۔ ہوشیاری کے ساتھ نرمی سے برتاؤ کرنے سے۔
2۔ عدل و انصاف میں انتہائی کوشش کرنے اور اس کا پورا حق دلانے سے
3۔ لوگوں کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے اور میانہ روی کے اصولوں کو ملحوظِ خاطر رکھنے سے۔ ”

وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی یقیناً مولا علی کے اسی قول کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو مدینہ کی ریاست کی شکل دینے کے خواہاں ہیں۔ ہم ان کی نیت ان کے جذبے کو ہرگز شک کی نگاہ سے نہیں دیکھ رہے ہیں مگر اس مختصر سے دور حکمرانی کے دوران خان صاحب کے کسی ایک اقدام سے بھی ایسا نہیں لگا کہ وہ عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام میں سنجیدہ ہیں۔ خان صاحب کے ایک سؤ سے زائد دنوں پر محیط اپنے اقتدار کے ایک دن میں بھی ایسا نہیں لگا کہ جب انہوں نے اپنے مخالفین کے خلاف نرم لب ولہجہ اختیار کیا ہو۔

ان کے ساتھی تو ان سے بھی دو ہاتھ آگے رہے ہیں۔ خان صاحب نے ایک لمحے کے لئے بھی اپنے مخالفین کو یہ پیغام دینے کے کوشش نہیں کی کہ وہ اپنے مخالفین کے ساتھ انصاف کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور انصاف ملنے کے ان کے حق کو یقینی بنائیں گے۔ خان صاحب کی کامیابی کے بعد پہلی تقریر سے ہی ایسا لگا جیسے وہ کسی دھکتی آگ کے گولے پہ سوار ہیں۔ دنیا جہان کی کرپشن انہیں اپنے مخالفین میں نظر آتی ہے، دینا جہاں کے کرپٹ لوگ انہیں اپوزیشن میں نظر آتے ہیں۔

دنیا جہاں کی برائیاں اور قباحتیں انہیں اپوزیشن جماعتوں اور ان کی لیڈرشپ میں نظر آتی ہے۔ حالانکہ کرپشن اور کرپٹ ان کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے، ان کے سائے میں محفوظ کھڑے مخالفین پر زہر اگل رہے ہوتے ہیں۔ عمران خان صاحب نے مسند اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ابتک ایک پل کے لئے بھی ایسا محسوس ہونے نہیں دیا کہ وہ اپنی عوام اور ملک کی اپوزیشن کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں، ان کے ساتھ کسی قسم کی نا انصافی نہیں کرنا چاہتے بلکہ ایمانداری، سچائی اور نیک نیتی کے ساتھ اس ملک اور قوم کی بھلائی کے اقدامات اٹھانے میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھیں گے۔

خان صاحب پہلے دن سے اپنے مخالفین خاص طور پر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی قیادت پر تند و تیز حملے کرنے انہیں بار بار چور چور، ڈاکو ڈاکو پکارنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں، ان کی تضحیک کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ مولا علی کرم اللہ وجہہ کا ہی ایک قول ہے کہ ”سیاست اور حکمرانی کا کمال یہ ہے کہ حاکم، حکومت میں انصاف کرے اور باوجود طاقت کے لوگوں کے قصور معاف کرے۔ “ لیکن یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور ہے، حاکم اپنی حکمرانی کا کمال دکھانے کے لئے بجائے انصاف کرنے کے مخالفین جو حاکم وقت ہونے کی وجہ سے اس کی رعایا میں شمار ہوتے ہیں ان کو نیچا دکھانے، انہیں مختلف الزامات کے تحت جھوٹے مقدمات میں پھنسا کے ان کو تکلیف پہنچانے۔

ان کی کردار کشی کی مہم چلانے کے لئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنی طاقت اور اختیارات کا ناجائز اور بے دریغ استعمال کرنے میں لگا ہوا ہے۔ خان صاحب تو اداروں کے ریاستی تسلط سے آزادی کے سب سے بڑے داعی رہے ہیں لیکن نجانے اقتدار کی کرسی میں کیا مزہ ہے کہ اس پہ بیٹھتے ہی لوگوں میں تمام ادارے، تمام اختیارات اپنے طابع کرنے کا جنون کروٹیں لینے لگتا ہے۔ جیسے ہی خان صاحب مسند اقتدار ہوئے اداروں کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کی کوششوں میں جت گئے انہیں یہ بالکل بھی یاد نہیں رہا کہ وہ اپنی پرجوش تقریروں میں اداروں کی آزادی ان کی خودمختاری کی بڑے بلند و بانگ دعوے کیا کرتے تھے اب کیا ہوا کہ وہ یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ فلاں ادارہ ان کے طابع نہیں، فلاں ادارہ ان کو اعتماد میں لینا گوارا نہیں کر رہا ہے۔

حالانکہ ابھی تک کے حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ خان صاحب، عدلیہ اور فوج ایک ہی پیج پر ایک رخ پر ایک ہی سوچ کے ساتھ پیش قدمی کر رہے ہیں۔ اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ایک دن چیف جسٹس صاحب حکومت پر اقربا پروری کا الزام لگاتے ہے تو دوسرے دن وزیراعظم صاحب معزز چیف جسٹس صاحب کے ریمارکس پر افسوس اور ناپسندیدگی کا اظہار کردیتے تھے ہیں اور پھر تیسرے دن دونوں معزز ہستیاں ایک ہی اسٹیج پہ کھڑے ہوکے ایک دوسرے کی تعریف و توصیف کرتی نظر آتی ہیں اور پھر ایسے وقت میں ون آن ون ملاقات بھی کرتے نظر آتے ہیں جب چند اہم حکومتی اکابرین کے مقدمات چیف جسٹس صاحب کے روبرو سنے جا رہے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان لمبی چوڑی پریس کانفرنس کرکے وزیراعظم کی مدح سرائی کرتے ہیں اور میڈیا سے کہتے کہ چھ ماہ تک ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بیتی ہوئی دکھاؤ، لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ گوئبلز ہر وقت ہٹلر کی اسی طرح مدح سرائی کرتا اور جرمنی میں سب اچھا ہے کا ڈھنڈورا پیٹتا تھا لیکن پھر بھی جرمنی اور ہٹلر کو تباہی سے نہیں بچا سکا۔ اب اس سے کیا تاثر ابھرتا ہوگا، کم از کم مخالفین اور غیر جانبدار حلقے تو یہی تاثر لے رہے ہیں کہ ملک میں ”سلیکٹڈ جسٹس سسٹم“ رائج ہے یعنی انصاف کا پیمانہ سب کے لئے ایک جیسا ہرگز نہیں ہے۔

وزیراعظم صاحب نیب چیئرمین اور ان کے ادارے کے سخت ناقدین میں رہے ہیں، وہ نیب کے ہیڈکوارٹر پر دھرنوں اور مظاہروں کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے ہی فرما رہے تھے کہ نیب ٹھیک کام نہیں کر رہا اگر میرے اختیار میں ہوتا تو ابھی تک پچاس لوگ جیلوں میں ہوتے، اور نیب کمزور کیس بناتا ہے جس کی وجہ سے کرپٹ لوگ چھوٹ جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر اسی نیب چیئرمین سے ملتے بھی ہیں جس نیب چیئرمین کے پاس ان کے اپنے خلاف انکوائری زیر التوا ہے۔

ان کے اہم ساتھیوں اور لاڈلوں کے خلاف کرپشن کے مختلف الزامات کے تحت انکوائریاں چل رہی ہیں اسی چیئرمین سے ملاقات کر کے وزیراعظم صاحب انصاف و عدل کی کون سی مثالیں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی پارٹی میں موجود لاتعداد لوگ اور ان کے ساتھ شریکِ اقتدار ان کے اکثر اتحادیوں پر نیب اور دیگر اداروں میں مختلف اور انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات کے تحت تحقیقات زیر التوا ہیں مگر مدینہ کی ریاست قائم کرنے کے خواہشمند وزیراعظم اپنے مخالفین کو کچلنے انہیں نشان عبرت بنانے کی تگ و دو میں عدل و انصاف کے سارے تقاضے بالائے طاق رکھ کر عوام کی آنکھوں میں نہ صرف دھول جھونک رہے ہیں بلکہ بلا امتیاز انصاف کی فراہمی، قانون کی حکمرانی اور بلا امتیاز احتساب کے اپنے ہی دعووں کی مکمل اور صریحاً نفی بھی کر رہے ہیں۔

عمران خان صاحب ملک میں عدل و انصاف اس وقت تک قائم نہیں کر سکتے جب تک وہ عدل وانصاف کے پیمانے میں اپنے پرائے، دوست دشمن سب کو برابر نہ تولیں۔ عمران خان صاحب اب ملک کے وزیراعظم ہیں لہذا اپنی رعایا کے ساتھ انصاف برابری کی بنیاد پہ نہ صرف ان کا اولین فرض ہے بلکہ یہ رعایا کے تمام طبقات کا اپنے وزیراعظم پر حق ہے۔ اسی لئے ایک فلاحی اسلامی مملکت میں عدل و انصاف اس وقت تک اپنے پاؤں نہیں جما سکتا جب تک ملک میں جاری ظلم و نا انصافی کے پاؤں نہیں پھسلتے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •