کیا ’جنرل نالج‘ کو علم سمجھنا چاہیے؟ 


انسانی ذہن کی کارکردگی دو طرح سے ہوتی ہے۔  چیزوں کو یاد رکھنا اور ان کا تجزیہ کرنا۔ یاد رکھنا ابتدائی کام ہے اور تجزیہ کرنا اعلیٰ سطح کا۔ یاد کا کام انسان کے علاوہ کوئی اور بھی چیز کر سکتی ہے۔  کاغذ، آڈیو ڈیوائسز سے لے کر کمپیوٹر تک سب بے جان چیزیں معلومات کو یاد رکھنے کے ذرائع ہی ہیں۔  تجزیہ کرنا اور نئے سے نئے نتائج اخذ کرنا انسانی ذہن کا اصل کام ہے۔  یہ کام کوئی اور چیز نہیں کر سکتی۔ یہ صرف انسان کا ہی کام ہے۔  اسی سے انسان اشرف المخلوقات ثابت ہوتا ہے۔  یاد رکھنے کا کام اتنا فضول ہے کہ اس کے لیے انسان نے چیزیں بنا لی ہیں اور اپنے ذہن کو تجزیہ کے لیے زیادہ سے زیادہ آزاد رکھنے کی کوشش کی ہے۔

ان باتوں کو مدِنظر رکھ کر ہمارے تعلیمی نظام، امتحانی نظام اور ملازمت کے لیے ہونے والے امتحانات کو مدِنظر رکھا جائے تو کھُلتا ہے کہ ہم یاد رکھنے کو علم سمجھتے ہیں۔  طلبا کو انتہائی محدود سے نصاب کے سال بھر میں رٹے لگوائے جاتے ہیں۔  یہ نظام طلباء کی ذہنی سطح کو ایک ہی جگہ پر روکے رکھنے کا فریضہ بہ احسن انجام دیتا ہے۔  طلباء کا ذہن بہت آگے جا چکا ہے۔  تعلیمی اداروں کے بچے نمبروں کے پہاڑ کھڑے کر کر کے ثابت کرتے جا رہے ہیں کہ یہ نصاب اور طریقہ امتحان ہمارے لیے بہت معمولی چیز رہ گیا ہے لیکن کسی نے یہ چیزیں بدلنے کی کوشش نہیں کی۔ اور یقیناً جب تک تمام بچے 100 % نہ حاصل کرنے لگیں، تب تک کسی نے تبدیلی کا سوچنا بھی نہیں۔

یاد داشت کے حوالے سے ہمارے اربابِ اختیار کو ایک عجیب سی غلط فہمی ہے۔  ان کے نزدیک دنیا میں ایک ہی علم ہے۔  جنرل نالج۔ اس علم کو دنیا کے تمام مضامین پر فوقیت حاصل ہے۔  اگر آپ اپنے مضمون میں افلاطون ہوں، حکمت میں جالینوس ہوں، نیوٹن ہوں یا کارل مارکس، جب تک آپ کو جنرل نالج کے سوال نہیں آتے، تب تک آپ اپنی ذہنی قابلیت ثابت نہیں کر سکتے۔  اور یہ سب اس وقت سامنے آتا ہے جب سرکاری اداروں کے فارغ التحصیل طلباءجنہیں سائنس اور ادب کے رٹے لگوا لگوا کر مارکیٹ میں پھینکا گیا ہوتا ہے، انہی کو ملازمت دینے کے لیے حکومتی ادارے جو امتحان لیتے ہیں وہ صرف اور صرف جنرل نالج پر مبنی ہوتا ہے۔

 ملازمت کے امیدواروں کی ذہنی اہلیت جاننے کے لیے ایسے سوال نامے ترتیب دیے جاتے ہیں جن کی بنیاد صرف جنرل نالج پر ہوتی ہے۔  اور امتحان میں ایسے ایسے دور از کار سوالات پوچھے جاتے ہیں کہ انٹر کی سطح پر پنجاب بھر میں سب سے زیادہ نمبر لینے والا امیدوار بھی ایسے امتحان میں بیس فیصد سے اوپر نمبر حاصل نہ کر سکے۔  کامیابی حاصل کرنے کے خواہش مند حضرات کو الگ سے ڈوگر پبلشرز، علمی کتاب خانہ یا کاروان والوں کی ایک عدد گائیڈ لے کر اس کا رٹا مارنا پڑتا ہے۔

  امتحان تقریباً سارے کا سارا اسی کتاب میں سے آ جاتا ہے یا اسی دلچسپی کے میدان میں سے جو اِن گائیڈوں میں طے شدہ ہوتا ہے۔  یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ اگر ہم نے بچے سے اُس علم کا امتحان ہی نہیں لینا جو اسے انٹر میڈیٹ تک پڑھایا گیا ہے تو پھر اس پڑھائی کا مقصد کیا تھا۔ جب ہمیں آگے عملی زندگی میں نوجوانوں کے اس علم کی ضرورت ہی نہیں تو پھر وہ علم دینے سے کیا حاصل؟ ہزاروں سکولوں اور سینکڑوں کالجز پر خرچ کیے جانے والے ارب ہا ارب روپے ضائع کرنے سے فائدہ کیا ہے؟ آخر کیوں نہ ہم تمام تعلیمی اداروں میں صرف جنرل نالج کامضمون ہی پڑھایا کریں۔  ایک ہی کتاب ہو نصاب میں۔  بچے اسی کو توتے کی طرح رٹتے جائیں اور آخر پر اسی کا امتحان ہو۔ سرخرو ہو کر ملازمت حاصل کریں اور شادکام ہوں۔  اتنی زیادہ کتب پڑھانے کا مقصد کیا ہے؟

ہمارے ہاں تعلیم حاصل کرنے کا سب سے بڑا مقصد ملازمت کا حصول ہی ہوتا ہے۔  اگر طالب علم کو اتنا بھی علم نہ ہو کہ وہ اپنا روزگار حاصل کر سکے تو اسے تعلیم دینے کا فائدہ معلوم؟ آخر ہم پاکستانی لوگ تعلیم کے نام پر اپنے بچوں کے ساتھ جو ظلم کر رہے ہیں، کیا اس پر کوئی صاحبِ دل سوچے گا یا نہیں۔  کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو فرسٹریشن کا شکار ہونے کے لیے چھوڑ دیں گے؟ کیا ہم انہیں جواب دے سکیں گے کہ ہم نے ان کی مناسب تعلیم کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا تھا۔

امتحانی نظام کا ایک ظلم اور بھی ہے۔  ابھی ہمارے امتحانی نظام میں بچوں سے 20 % کثیر الانتخابی سوالات پوچھے جاتے ہیں اور 80 % انشائیہ سوالات پوچھے جاتے ہیں۔  زیادہ سے زیادہ طویل جواب دینے والوں کو زیادہ سے زیادہ نمبر ملنے کی نوید سنائی جاتی ہے۔  اور پھر ان کے ساتھ ظلم یہ ہوتا ہے کہ آگے نوکری لینے کے لیے انہیں 100 % کثیر الانتخابی سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  اور یہ سب امتحانات حکومتی ادارے از قسم NTS اور PPSC کے زیر اہتمام ہووتے ہیں۔  یہاں پھر وہی سوال اٹھتا ہے کہ اگر نوجوانوں کی ذہنی قابلیت ناپنے کے لیے کثیرا لانتخابی سوالات ہی بہترین طریقہ ہیں تو پھر تعلیمی دورانیے میں ان کے لیے وہی طرزِامتحان کیوں نہیں اپنایا جاتا۔

ہمارے ارباب اختیار نے یہ سمجھ لیا ہے کہ علم کی حقیقی اور الہامی حیثیت صرف اور صرف جنرل نالج کو ہی حاصل ہے۔  اگر کسی کو جنرل نالج نہیں آتا تو اسے روئے زمین پرزندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔  حتیٰ کہ جن جگہوں پر صرف مضمون پر مہارت ضروری ہوتی ہے، وہاں بھی امتحان میں جنرل نالج کا حصہ حاوی ہوتا ہے۔  کسی بھی مضمون کا استاد رکھنا ہو، یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کو اپنے مضمون پر کتنی مہارت حاصل ہے، یہ جانچا جائے گا کہ اسے جنرل نالج کتنا آتا ہے۔

 اگر ڈاکٹر بھرتی کرنے ہیں یا انجینئر، مجسٹریٹ بھرتی کرنے ہیں یا آڈٹ آفیسر، سبھی سے حشر کے میدان میں جنرل نالج کا امتحان ہی لیا جائے گا۔ خود اپنے مضمون پر بے چارے طلباء کو کتنی مہارت حاصل ہے، اسے بالکل ضروری خیال نہیں کیا جاتا حالانکہ جنرل نالج تو بے چارہ ایسا علم ہے جسے اپنے آپ کو علم ثابت کرنے کے لیے نام کے ساتھ علم کا لاحقہ لگانا پڑتا ہے۔  نہ یہ علم ہے اور نہ کسی شخص کی ذہنی صلاحیت جانچنے کا کوئی ذریعہ ہے۔  اگر جنرل نالج کو معیار مان لیا جائے تو پھر گوگل، وکی پیڈیا، یاہو اور بِنگ جیسے سرچ انجن تمام ملازمتوں کے لیے پوری طرح اہل ثابت ہوں گے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

محمد عباس کی دیگر تحریریں
محمد عباس کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں