جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب نے صحافی انصار عباسی کے خلاف اپنے الفاظ واپس لے لئے


سینئر صحافی انصار عباسی اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب کے درمیان گرماگرم بحث کا تنازع حل ہو گیا۔ تفصیل کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر انصار عباسی نے بتایا کہ آج سما نیوز میں پارس جہانزیب کے پروگرام میں جنرل امجد شعیب نے میرے بارے میں اپنے وہ الفاظ واپس لیے ہیں۔ گزشتہ رات کے اب تک کے پروگرام کے آخری حصہ میں بھی جنرل شعیب نے اپنے الفاظ واپس لیے لیکن وہ حصہ نشر نہ ہو سکا۔ میں جنرل صاحب کے اس عمل کو سراہتا ہوں۔

واضح رہے اس سے قبل اب تک نیوز کے پروگرام ”ٹونائٹ ود فریحہ “میں انصار عباسی اور جنرل امجد شعیب کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی تھی اور اس دوران جنرل امجد شعیب نے کہا تھا کہ میں پچھلے کئی سالوں سے آپ کو مانیٹر کر رہا ہوں۔ جس پر انصار عباسی نے کہا کہ آپ مجھے کیا مانیٹر کر رہے ہیں؟ میں کیا اس ملک کا غدار ہوں؟ اس پر امجد شعیب نے کہا کہ آپ کا بلا وجہ اینٹی آرمی رویہ ہے۔ جواباً انصار عباسی نے کہا چھوڑیں جی کیا اینٹی آرمی، یہ پھڈے بازی ہوتی ہے۔ مجھے یہ بتائیں یہ کیا فتوے بازی ہے؟

امجد شعیب نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ آپ نے لوگوں کی اربوں کی کرپشن اس کھاتے میں ڈال دی کہ قانون ایک نہیں ہے۔  اس موقع پر انصار عباسی کا کہنا تھا کہ مجھے ایک بات بتائیں جنرل صاحب فتوے دینے والے ہوتے کون ہیں؟ جنرل شعیب نے کہاتھا کہ میں فتویٰ نہیں دے رہا۔ جس پر انصار عباسی نے کہا کہ آپ نے ابھی فتویٰ دیا۔ جنرل امجد شعیب نے دوبارہ کہا کہ میں فتویٰ نہیں دے رہا لیکن انصار عباسی اپنی ضد پر قائم رہے تو پھر جنرل امجد شعیب نے کہا کہ اگر آپ اس کو فتویٰ سمجھ رہے ہیں تو پھر میں نے فتویٰ دیا ہے۔ انصار عباسی نے کہا کہ اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ فتویٰ دیا ہے تو پھر جو کرنا ہے کر لیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں