ہم جنس پرستی اور چند سوالات


ہم سب پر ایک مضمون شایع ہوا۔ کہا گیا پاکستان میں 80 کی دہائی میں ہم جنس پرستی عروج پر تھی۔ یعنی پاکستان کی پیدائش کے وقت بھی یہ سرگرمی موجود اور جاری رہی ہوگی۔ اب ایک ملک اگر پیدائشی طور پر کوئی عادت ہمراہ لایا ہے تو وہ بھلا فطری کیسے نہیں ہے؟

کہا گیا پاکستانی مردوں کو عورت میسر نہیں تھی اس لیے مردوں سے تعلقات بنانا شروع کر دیے۔ کیا امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا جیسے ممالک میں بھی خواتین میسر نہیں تھیں جو وہاں کے مرد بھی مردوں کی جانب راغب ہوئے۔

کیا ہم جنس پرستی کی تاریخ قدیم نہیں ہے؟ کیا سینکڑوں برس قبل تراشے جانے والے بتوں میں بھی اس فعل کی جھلک دکھائی نہیں دیتی؟

کیا بچوں کے ساتھ جنسی سرگرمیوں میں ملوث افراد جنس کی پرواہ نہیں کرتے؟ اب جس شخص کو بچہ میسر ہے، بچی بھی تو ہوسکتی ہے؟ پھر بچہ ہی کیوں؟ اور پھر جو مرد سیکس کے لیے بچے کا انتخاب کررہا ہے نوجوان لڑکے کا بھی تو کرسکتا تھا۔ کیا دونوں معاملات جدا جدا نہیں ہیں؟

کتنے فیصد مرد ایسے ہیں جو عورت نہ ملنے پر کسی مرد کے ساتھ سیکس کرنا پسند کرتے ہیں؟ کیا آپ ایسا کر پائیں گے؟ ایک مرد اگر 12 برس کی عمر میں بالغ ہورہا ہے، اسے سیکس کی بھوک ستا رہی ہے اور شادی وہ 26 برس کی عمر میں کررہا ہے۔ تو کیا تب تک وہ کسی مرد سے تعلق قائم کرے گا یا تسکین کے لیے مشت زنی کا سہارا لے گا؟

اگر ایک شخص جنسی آسودگی کے لیے مشت زنی کر رہا ہے اور دوسرا ہم جنس سے تعلق قائم کررہا ہے تو کیا دونوں کی فطرت مختلف نہیں ہے؟

سیکس کرنے والے مرد کو ٹاپ اور کروانے والے کو باٹم بتایا گیا جو کہ درست ہے۔ اس صورتحال میں دونوں ہی مرد ہیں۔ پھر ایک سیکس کر کے تو دوسرا کروا کر تسکین کس طرح سے لے رہا ہے؟ جس نے سیکس کیا یعنی ٹاپ اس کے بارے میں تو دعوی کیا جا سکتا ہے کہ چلو عورت میسر نہیں تھی تو مرد سے کرلیا۔ جو مرد ہوتے ہوئے بھی سیکس کرنے کے بجائے کروا رہا ہے۔ اسے کیا کہیں گے؟ کیا اس کو بھی کوئی عورت نہیں ملی تھی؟ یعنی اگر ایک شخص ہم جنس پرست باٹم ہے اور اسے عورت دے دی گئی ہے تو وہ کیا کرے گا؟

کیا ہمارے معاشرے میں ہم جنس پرست افراد کی شادیاں زبردستی نہیں کروادی جاتیں؟ کیا گھروں کے ٹوٹنے، طلاقوں کی وجوہات میں سے چند ایک ایسی نہیں ہوتیں؟

اگر ہم جنس پرستی غیر فطری ہے۔ مخالف جنس کے ساتھ تعلق تو فطری ہے نا؟ اگر مردوں اور عورتوں پر مبنی جوڑے برہنہ ہوکر سمندر کنارے ٹہلیں، اور ایسے جوڑوں کی تعداد لاکھوں میں ہو۔ ممالک ایسے فعل کو قبول بھی کرلیں تو اس عمل کو آپ کیا کہیں گے؟ جوڑوں کے دوسرے جوڑوں کے سامنے سیکس کرنے کو، یا پھر بیویوں اور شوہروں کے تبادلے کو جسے انگریزی میں سواپنگ کہا جاتا ہے آپ فطری کہیں گے؟ یا غیر فطری؟

جناب سیکس کو سیکس ہی رہنے دیں۔ لطف اندوز ہونے کا، آسودگی کا، نسل بڑھانے کا، پریشانیوں کو دور بھگانے کا ذریعہ! یہ فطری اور غیر فطری کیا ہوتا ہے؟

ہم جنس پرستی پاکستان کے قیام سے ہی تھی اور آج تک ہے۔ جیسے پہلے دروازہ ہوتا تھا اب ڈور ہوتا ہے، پہلے بلی ہوتی تھی اب کیٹ ہوتی ہے۔ بالکل اس ہی طرح جناب پہلے لونڈے باز ہوتے تھے اور اب ”گے“ ہوتے ہیں۔ کہنے کا مقصود ہے کہ ہم نے انگریزی زبان کی دیگر اصطلاحات اور الفاظ کو بھی بول چال کا حصہ بنایا ہے۔ ”گے“ اکیلا ہی نہیں ہے۔ یوں بھی کسی سیانے نے کہا ہے نام میں کیا رکھا ہے؟ نام چاہے آپ لونڈے باز رکھ لیں یا ”گے“۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں