شہرت کے لیے شاعری کا انتخاب ہی کیوں


یوں تو بے شمار شاعرات ہیں، جن میں کچھ بری، کچھ بہت بری اور کچھ بہت اچھی شاعری کر رہی ہیں، لیکن کچھ ایسی بھی ہیں جن میں خود نمائی کا جذبہ عدم توازن کا شکار ہو گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کسی نامعلوم شاعر کی بیاض ان کے ہاتھ لگ گئی ہو، یا ان کے اپنے دل کی لگی ہو، لیکن خود نمائی کی بڑھتی ہوس نے دوسروں کو بھی خلجان میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب ان کے اچھے برے کلام پر بحث کے بجا ئے ان کا ایٹی ٹیوڈ زیرِ بحث ہے۔ یہ بیبیاں بڑی خوش نصیب ہیں، اچھی شکل پائی ہے جوان ہیں یا دکھائی دیتی ہیں، لوگ ان پر پر بری بھلی بات کر رہے ہیں۔ ان کے حواس بحال ہیں، شوہر یا باپ کے دیے پیسے سے مشہوری کے لیے پوری ایک ٹیم ہے۔

ان شاعرات نے، شہرت کے لیے شاعری کا راستہ منتخب کیا ہے، جنہیں اس راستے کی کٹھنائیوں کا علم ہے نا اندازہ، انہیں احساس ہی نہیں کہ یہ شوق سے نہیں کی جاتی بلکہ گمنامی میں نمو پاتی ہے۔

داخلی اور خارجی کیفیات کا بیان سہل نہیں اور اس میں بھی کو ئی شک نہیں شاعر گہرے دکھوں کی آبیاری کے بعد انہیں کاغذ پر جنم دیتا ہے۔ تخلیق کو ئی آسان کام نہیں اس عمل میں درو دیوار پر ہی نہیں شاعر کے چہرے پر بھی سبزہ پوری آب و تاب دکھا تا ہے۔ شاعری مجذوبیت، دیوانگی اور در بدری ہے یہ خون تھکو اتی ہے، شاعر کے سینے میں آگ، آنکھ میں وحشت اور چھا تی پر ایک سل دھری رہتی ہے۔

شاعری وہ کار رائگاں ہے، جسے عشق، شاعر کے متھے لگاتا ہے، جب اپنے کلام نہیں کرتے دوست سلام کا جواب نہیں دیتے، بیگانے مذاق اڑاتے ہیں، بچے قریب نہیں آتے۔

شاعری کیا ہے پوچھو مصطفیٰ زیدی، منیر نیازی سے، ساغر صدیقی سے، شکیب جلالی سے۔ میر تقی میر سے، مرزا غالب سے، ناصر کاظمی سے، ثروت حسین سے، سارہ شگفتہ سے پروین شاکر سے، سیفو سے، قرۃ العین طاہرہ سے، فہمیدہ ریاض سے، رفتگاں میں کس کس کا نام لیا جا ئے، خاک میں خاک ہو گئے وہ سب۔

آپ بھی پہلے عشق کے فیوض و برکات سمیٹیں، پھر جو طبیعت کرے تو کہیں، جی بھر کے کہیں، داد دے کوئی یا مذاق اڑائے، آپ کی وحشتیں انہیں جوتی کی نوک پر رکھیں گی، آپ کے اپنے بھی جب آپ سے کلام کرنا چھوڑ دیں گے۔ تب آپ کے سخن میں ا ور بھی تری آئے گی۔ سخن کی آبیاری ذخموں کا رستا لہو کرتا ہے۔ قاری ہو یا سامع یہ بڑا ظالم ہو تا ہے اس کی واہ شاعر کی آہ سے جڑی ہوتی ہے۔ جتنی دل سوز آہ اتنی پر جوش واہ۔ شاعر کی نیند، جاگ، ہنسنا رونا، بھوک پیاس سب بے وقت ہوتے ہیں۔ شاعر کے ساتھ زندگی کا سفر بتا نا آسان نہیں ہو تا، زندگی رک جا تی ہے وقت تھم جا تا ہے۔ زندگی وقت کے دھارے پر لانے کے لیے شاعر کا ساتھ چھوڑنے ہی میں بھلائی نظر آتی ہے۔

پیارے ساتھ چھوڑ دیں، غربت و افلاس چہرے سے عیاں ہو، نظروں میں بیگانگی یاترحم کے بجا ئے طنز اور حقارت نظر آئے۔ تب سخن کا چاند چڑھتا ہے، دل کے زخم مسکراتے ہیں تو کلام کو جلا ملتی ہے۔ تب بھی کوئی ”ادب شنا س“ ابن الوقت، اس مفلوک الحال شاعر کی طرف نہیں بلکہ اس کے اشعار کی طرف لپکتا ہے، اپنی سخن فہمی کی داد وصولتا ہے۔ سڑک پر سگریٹ کے ٹوٹے تلاشتے ہو ئے شاعر کی جانب دیکھ کر زمانے کی بے حسی کا رونا روتے ہو ئے، حالیہ مشاعرے کی فہرست میں اس شاعر کا نام دیکھ کر اسے قلم زد کر دیتا ہے۔

یہ سب شعوری کوششوں سے ہو تا ہے نہ خواہش سے، ایسے کتنے ہی شاعر گمنامی کی موت مر گئے اور کتنے ہی شہرت پا گئے۔ لیکن سچے شاعر کو نام کی نمو سے مطلب ہو تا ہے، نہ ہی ناموری سے۔ عزت کی نہیں ذلت کی جاء ہے، یہاں بس مُردے ہی لائقِ تحسین ٹھہرے ہیں۔ وہ بھی تازہ تازہ یا پھر وہ جن کی ہڈیاں بھی مٹی ہو گئیں۔

یہ چمن زارِ غزل آگ ہے جلنے کے لیے
عمر درکار ہے یاں گھٹنیوں چلنے کے لیے
احمد نویدؔ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں