’زندگی موت جیسی ہو گئی ہے‘: توہین مذہب کے الزام سے بری ہونے کے بعد بھی خوف کے سائے

سکندر کرمانی - اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

توہین مذہب

مسیحی خاتون شمع اور ان کے شوہر شہزاد کو توہین قرآن کے الزام میں سنہ 2014 میں بھیڑ نے ہلاک کر دیا۔

پاکستان کی جیل میں چار برس قیدی تنہائی کاٹنے کے بعد صائمہ (جعلی نام) رہا تو ہو آ گئیں لیکن انہیں نہیں لگتا کہ وہ اب آزاد ہو چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’مجھے اب بھی لگتا ہے کہ میں جیل میں ہی ہوں۔ میرے پیروں پر زنجیروں سے پڑے نشانات کے داغ اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔‘

صائمہ کو توہین مذہب کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم اپیل کے بعد وہ اس الزام سے بری کر دی گئیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مسیحی مذہب سے تعلق کی وجہ سے جیلر کئی بار کھانا تک نہیں دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے تم نے ہمارے مذہب کی توہین کی ہے۔‘

صائمہ پر قرآن کی توہین اور اسے تعویز گنڈے کے لیے استعمال کرنے کا الزام تھا۔ لیکن صائمہ کے بقول ان کے ہمسائیوں نے ایک چھوٹے سے جھگڑے کا بدلا لینے کے لیے ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں توہین مذہب کے خلاف قانون کو اکثر ذاتی بدلے لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستانی پینل کوڈ کے مطابق توہین رسالت کے معاملے میں مجرم پائے جانے والے شخص کو موت کی سزا سنائی جا سکتی ہے اور کسی بھی مذہب کی توہین کے مجرم کو دس برس تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

پنجاب پولیس کے ایک ترجمان نے رواں برس درج ہونے والے توہین مذہب کے معاملات کے اعداد و شمار دینے سے انکار کر دیا۔ تاہم سینٹر فار سوشل جسٹس کے مطابق سنہ 1987 سے 2016 کے درمیان 1472 افراد کے خلاف توہین مذہب کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مذہبی اقلیتیں پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔

ایسے ہی معاملوں میں تازہ ترین آسیہ بی بی کا معاملہ ہے۔ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو سنہ 2010 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی جسے سپریم کورٹ نے ختم کر دیا۔

اس فیصلے کے خلاف بڑی سطح پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ آسیہ بی بی کو خفیہ اداروں کی جانب سے تب تک کے لیے حفاظت فراہم کی گئی ہے جب تک سپریم کورٹ کے فیصلے پر آخری قانونی اپیل کی سنوائی نہیں ہو جاتی۔

چند رپورٹس یہ بھی کہتی ہیں کہ اس وقت پاکستان میں تقریباً چالیس ایسے افراد ہیں جنہیں توہین مذہب کے جرم میں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔

ملک میں ابھی تک کسی بھی شخص کو توہین مذہب کے جرم میں پھانسی پر نہیں چڑھایا گیا ہے لیکن سنہ 1990 سے اب تک کم از کم 90 افراد کو مشتعل ہجوم نے موت کی نیند سلا دیا ہے۔

صائمہ نے بتایا کہ رہائی کے بعد سے وہ اب ایک نیا نام استعمال کر رہی ہیں اور ہر روز خوف کے سائے میں جی رہی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے بھی نہیں جاتی ہوں۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ان کی زندگی بھی خطرے میں نہ پڑ جائے۔‘

لاہور میں سینٹر فار لیگل ایڈ اسسٹینس اینڈ سیٹلمنٹ کے سربراہ جوزف فرانسس توہیں مذہب کے ملزمان کے مقدمے لڑتے ہیں۔

ایسے ملزماں کی وکالت کی وجہ سے ماضی میں دو سیاستدان اور ایک وکیل ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن جوزف پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ان کے بقول ’اگر ہم اس بارے میں بات نہیں کریں گے تو کچھ بھی نہیں بدلے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ توہین مذہب کے اب تک تقریباً 120 مقدمے جیت چکے ہیں۔ لیکن بری ہونے والے زیادہ تر افراد نے رہائی کے بعد ملک چھوڑ دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں جس شخص پر توہین مذہب کا الزام لگ جاتا ہے وہ اس ملک میں نہیں رہ سکتا۔ یہاں رہنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ شخص دوسروں کی نظروں سے اوجھل رہے۔‘

جوزف کا خیال ہے کہ مذہبی گروہوں کی جانب سے دباؤ اور دھمکیوں کی وجہ سے نچلی عدالتوں کے جج توہین مذہب کے ملزمان کو سزا دے دیتے ہیں تاہم اپیل ہونے پر بڑی عدالتیں انہیں بری کر دیتی ہیں۔

غلام مصطفیٰ چوہدری

                                                  غلام مصطفیٰ چوہدری نے آسیہ بی بی کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ لڑا

غلام مصطفیٰ چوہدری کا نام ان وکلا میں گنا جاتا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ عدلیہ پر دباؤ ڈالنے میں مدد کرتے ہیں، تاہم وہ خود ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

وہ وکلا کے ایک ایسے فورم کے سربراہ ہیں جو توہین مذہب کے ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے میں مدد کرتے ہیں۔ وہ پاکستان میں توہین مذہب کے بڑی تعداد میں مقدمات لڑتے ہیں۔ اس وقت بھی صرف لاہور میں ہی یہ وکلا ایسے چالیس مقدمات لڑ رہے ہیں۔

غلام مصطفیٰ چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں ایسا کرکے بہت سکون ملتا ہے اور انہیں اس کے بدلے آخرت میں ضرور نوازا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے سب سے مقدس مقام نبی اکرم کا ہے اور ہم جو بھی کرتے ہیں انہیں کے لیے کرتے ہیں۔‘

وہ اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ توہین مذہب کے قوانین کا استعمال ذاتی بدلے لینے کے لیے بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے تو آج تک نہیں دیکھا کہ کسی نے ذاتی مفاد کے لیے کسی پر الزام لگایا ہو۔ کیا آپ کو آسیہ بی بی کے معاملے میں ایسا کچھ بھی نظر آتا ہے؟‘

غلام مصطفیٰ کہتے ہیں کہ کسی بھی کیس کو لینے سے پہلے وہ پہلے اس بات کی چھانبین کر لیتے ہیں کہ معاملہ سچ ہے یا نہیں۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آج تک انہوں نے توہین مذہب کا کوئی کیس لوٹایا بھی نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کوئی بھی مسلمان کسی پر اسلام سے متعلق کسی بات کا الزام نہیں لگائے گا۔ کوئی کسی پر چوری یا اغوا کا الزام لگا سکتا ہے۔ ایسا بہت ہوتا ہے۔ لیکن کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا۔‘

میں نے چوہدری صاحب سے پوچھا کہ یہ جانتے ہوئے کہ توہین مذہب کے لیے پاکستان میں موت کی سزا مل سکتی ہے، کوئی ایسا کیوں کرے گا؟

چوہدری صاحب کا جواب تھا کہ ’میں نے دیکھا ہے کہ ایسا کرنے والا اسلام مخالف لابی میں ہیرو بن جاتا ہے۔ وہ لوگ اس کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔ انہیں ملک سے باہر جانے کے لیے ویزا دے دیتے ہیں۔ کئی اور بھی ایسے جرائم ہیں جن میں موت کی سزا ملتی ہے۔ ان ملزمان کو اس طرح کی مدد کیوں نہیں ملتی؟‘

آسیہ بی بی

سخت گیر مذہبی افراد کے درمیان بھی یہ خیال عام ہے کہ بیرون ملک پناہ لینے کے لیے بھی توہین مذہب کے ملزمان ایسا کرتے ہیں۔ غلام مصطفیٰ کا خیال ہے کہ بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے عدالتیں بھی توہینِ مذہب کے ملزمان کو بری کر دیتی ہیں۔

سپریم کورٹ میں آسیہ بی بی کی اپیل کی سماعت کے دوران غلام مصطفیٰ چوہدری نے دعویٰ کیا کہ پاکستان بھر میں توہین مذہب کے کیسز میں ایک بات مشترک ہے کہ سبھی ملزمان ایک جیسے توہین آمیز جملوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ مسیحی رہنما ان افراد کو بیرون ملک میں پناہ لینے میں مدد کرنے کے لیے ان کی ایک ہی طرح تربیت کرتے ہیں۔ ایسے دعوے شاید عجیب لگیں اور سپریم کورٹ کے ججوں ان پر اتنی توجہ بھی نہ دیں لیکن کئی پاکستانیوں کو ان میں سچائی نظر آتی ہے اور انہیں لگتا ہے کہ ملک کے اندر اور باہر کی سیکولر طاقتوں سے اسلام کو خطرہ ہے۔

آسیہ بی بی

غلام مصطفیٰ کا خیال ہے کہ پاکستان میں توہین مذہب کے خلاف موجودہ قوانین کو بدلنے یا انہیں ختم کرنے سے تشدد بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’آسیہ بی بی کو بری قوانین کی وجہ سے کیا گیا ہے، اگر یہ قوانین نہ ہوتے تو انہیں فوری طور پر قتل کیا جا چکا ہوتا۔‘

لیکن غلظ الزامات کی بنیاد پر جیل میں برسوں گزارنے کے بعد بری ہونے والی صائمہ کہتی ہیں کہ الزامات نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ انہون نے کہا کہ ’زندگی اب موت جیسی ہو گئی ہے۔ لوگ یہاں آتے ہیں، پوچھتے ہیں کہ کیا کچھ ہوا۔ مجھے خوشی ہوتی ہے کہ وہ مجھے سن تو رہے ہیں۔ لیکن اس کے بعد کیا؟ کچھ بھی نہیں بدلتا۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 7634 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp