دہشت گردی ہو یا تعلیمی ادارے، کرپشن ہی بنیادی مسئلہ ہے


جوئے بڈن نے کہاں تھا "کرپشن ایک کینسر ہے، ایسا کینسر جو لوگوں کا جمہوریت پہ سے ایمان اٹھا دیتی ہے؛ جو نوجوانوں کی صلاحیتیں ضائع کردیتی ہے، تخلیقی صلاحیت کو تباہ کر دیتی ہے۔ کرپشن لوگوں کو روزگار اور سرمایہ کاری سے دور کردیتی ہے۔” آج دنیا میں کرپشن کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے۔ عقل مند اقوام یہ جان چکی ہیں کہ اگر ترقی کرنی ہے، تو سب سے پہلے کرپشن کو ختم کرنا ہو گا، لیکن بد قسمتی سے ہمارے یہاں کرپشن کے خلاف کوئی موثر اقدام نہیں ہوتا۔ قانون تو ہے پر اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ نیب جیسے ادارے تو ہیں لیکن پلی بارگین جیسا راستہ بھی ہے؛ کرپٹ لوگوں کے پاس بھاگنے کے لیے۔ یہی وجہ ہے کے ہمارا ملک پاکستان کرپشن میں دنیا کے 180 ممالک میں سے 117 پہ ہے، اور یہ خاصی افسوس ناک بات ہے۔

پاکستان میں تقریباً ہر محکمے میں کرپشن جاری و ساری ہے۔ ہر محکمہ میں کرپٹ اشرافیہ اعلی عہدوں پر براجمان ہیں۔ پاکستان کا ایک اہم ترین محکمہ، محکمہ تعلیم وہ بھی کرپشن کی زد پر ہے۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے، کہ پاکستان کے 22 ملین بچے اسکول نہیں جاتے۔ مانا کے غربت بھی پاکستان میں ہے اس کی وجہ سے بھی اسکول نہیں جا پاتے، لیکن والدین گورنمنٹ اسکولوں میں تو بھیج سکتے ہیں ناں، پھر کیوں نہیں بھیجتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کے پاکستان کے 21 % پرائمری اسکولوں میں صرف ایک ٹیچر ہے اور 14 % اسکولوں میں صرف ایک کمرا، یعنی نرسری سے پانچویں جماعت کے لیے صرف ایک کمرا میسر ہے۔ یہی وجہ ہے کے پانچ سے سولہ سال کی عمر کے 44% بچے اسکول نہیں جاتے۔ یہ سب اعداد و شمار خود سے نہیں لکھے بلکہ یہ پاکستان ایجوکیشن اسٹیٹسٹکس رپورٹ (2016) سے لیے گئے ہیں، جو کہ وزارت تعلیم کے تعاون سے نیشنل ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (NEMIS) نے مرتب کی تھی۔

2016 کے بعد اب تک کوئی پھر اس حوالے سے منظم رپورٹ تو نہیں آئی، لیکن حالات بتاتے ہیں کہ صورت احوال مزید ابتر ہو چکی ہے۔ جن پیسوں سے طالب علموں کی کتابیں آنی تھی، وہ پیسے محکمہ تعلیم میں بیٹھی کالی بھیڑوں کی جیب میں چلے گئے ہیں۔ اسی طرح کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ میں بھی یہی کچھ دیکھنے کو ملا، جب دو سال پہلے انٹر بورڈ آفس میں اینٹی کرپشن یونٹ نے چھاپا مارا، تو بہت کچھ سامنے آیا، کہ اس سال انٹر بورڈ میں 1100 نتائج تبدیل کیےجانے تھے، اور بقول ڈائریکٹر اینٹی کرپشن یونٹ پری میڈیکل نتائج تبدیل کرنے پر 35 کروڑ سے زائد کی کرپشن کی جاتی تھی۔ ابھی تک یہ معاملہ اٹکا ہوا ہے اور منطقی انجام تک نہیں پہنچ پا رہا۔ یہ احوال ہے کرپشن کا ہمارے یہاں محکمہ تعلیم میں۔

پاکستان کا ایک بڑا مسلہ دہشت گردی ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ دہشت گردی کی وجہ سے موت کے بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ در اصل دہشت گردی کے پیچھے بھی ایک وجہ کرپشن ہے۔ ہم دہشت گردوں کے خلاف تو آپریشن کرتے ہیں، ان کے اڈے تو تباہ کرتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے دہشت گردی کم تو ہوئی لیکن ختم نہیں ہو رہی۔ اگر ہمیں دہشت گرد اور دہشت گردی ختم کرنی ہے تو پہلے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو ڈھونڈنا ہو گا۔ وہ سہولت کار جو دہشت گردوں کو ٹھکانا، اسلحہ سب کچھ فراہم کرتے ہیں۔ سوال ابھرتا ہے کے ان سہولت کاروں کے پاس اتنا اسلحہ، پیسہ کیسے آتا ہے تو اس کی وجہ ہے بلیک منی یعنی وہ پیسہ جو ٹیکسوں سے بچنے کے لیے کہیں چھپا دیا جاتا ہے، اور پھر یہی پیسہ یہ سہولت کار جو کے اصل میں معاشرے میں نیک نامی گرامی ہوتے ہیں، اپنے ناجائز سیاسی و کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہمیں اپنے ملک سے دہشت گردی ختم کرنی ہے، تو سب سے پہلے کرپشن کی اس قسم کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا۔

اسی طرح صحت کے شعبہ، کھیلوں کے شعبہ اور مختلف شعبوں میں بھی کرپشن ہوتی رہتی ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں غربت میں اضافہ، تعلیم کم اور میرٹ کا قتل ہو رہا ہے۔ اب ہمیں سنجیدہ ہو کر اس کا حل سوچنا ہو گا۔ موجودہ حکومت کرپشن ختم کرے گی، جیسے نعروں کی وجہ ہی سے الیکشن میں کامیابی حاصل کر پائی ہے؛ لہٰذا اب اسے اس پر ایک مکمل ایجنڈا بنا کر، عوام کے سامنے رکھنا ہو گا؛ کہ کب، کیسے وہ اس کرپشن نامی بیماری کو ملک سے ختم کریں گے۔ کیوں کہ جو انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ ملک سے جتنا پیسہ ناجائز طور پر باہر ہے، اسے ملک واپس لا کر اسے عوام کی فلاح و بہبود پر لگائے گی، تو وہ پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اب حکومت کو چاہیے اس پر فی الفور عمل درآمد کریں، تا کہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

Facebook Comments HS