سیاسی دلدل

افلاطون نے کہا تھا ”سیاست سے کنارا کشی کا انجام یہ ہوگا کہ تم سے بدتر لوگ تم پر حکمرانی کریں گے“دیکھا جائے تو افلاطون کی یہ بات سو فیصد درست بے لیکن شاید افلاطون کو یہ نہیں پتا تھا کے ایک ایسی قوم بھی آئے گی جہاں سیاست میں حصہ لینے پر نیک سے بد ہونا لازمی ہوجاتا ہے۔ جہاں آپ سیاست دان نہیں کہلاوُ گے کے جب تک آپ کا کوئی سکینڈل سامنے نا آجائے، جہاں مخالفین کو گالیاں دینے پر آپ کو مہارت حاصل نا ہوجائے، جہاں آپ کو دوسرے کی کردار کشی کرنی نا آجائے اور مزید بھی بہت ساری خوبیاں ہے مملکت خدا داد پاکستان کے اہل سیاست کی جس کو بیان کرنے لگو تو لکھتے ہوئے قلم بھی شرما جائے۔

Read more

دہشت گردی ہو یا تعلیمی ادارے، کرپشن ہی بنیادی مسئلہ ہے

جوئے بڈن نے کہاں تھا "کرپشن ایک کینسر ہے، ایسا کینسر جو لوگوں کا جمہوریت پہ سے ایمان اٹھا دیتی ہے؛ جو نوجوانوں کی صلاحیتیں ضائع کردیتی ہے، تخلیقی صلاحیت کو تباہ کر دیتی ہے۔ کرپشن لوگوں کو روزگار اور سرمایہ کاری سے دور کردیتی ہے۔” آج دنیا میں کرپشن کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے۔ عقل مند اقوام یہ جان چکی ہیں کہ اگر ترقی کرنی ہے، تو سب سے پہلے کرپشن کو ختم کرنا ہو گا، لیکن بد قسمتی سے ہمارے یہاں کرپشن کے خلاف کوئی موثر اقدام نہیں ہوتا۔ قانون تو ہے پر اس پر عمل درامد نہیں ہوتا۔ نیب جیسے ادارے تو ہیں لیکن پلی بارگین جیسا راستہ بھی ہے؛ کرپٹ لوگوں کے پاس بھاگنے کے لیے۔ یہی وجہ ہے کے ہمارا ملک پاکستان کرپشن میں دنیا کے 180 ممالک میں سے 117 پہ ہے، اور یہ خاصی افسوس ناک بات ہے۔

Read more